حد سے زیادہ سزا پر معلم کو تنبیہ
حضرت حکیم الامت تھانویؒ کی خدمت میں ایک صاحب اپنے بچے کو لے کر حاضر ہوئے اور ایک معلم صاحب کے زیادہ مارنے کی شکایت کی ۔ اس پر ان کو بلایا گیا بینہ شرعیہ کے بعد حضرت نے ان سے فرمایا کہ جب تم کو مارنے سے منع کر دیا ہے اس سے قبل بہت سختی کے ساتھ ممانعت کردی گئی تھی پھر تم نے خلاف کیوں کیا؟
اس پر انہوں نے کوئی معقول جواب نہیں دیا۔ حضرت نے ان کو اپنے پاس سے اٹھا دیا اور فرمایا تمہارا فیصلہ مہتمم صاحب کے آنے پر ہو گا مہتمم صاحب باہر گئے ہوئے تھے۔ طلباء سے مارنے کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ اس نے یہ کہہ دیا تھا کہ چھٹی کا وقت آ گیا اس پر اس کو بے حد مارا‘ گلہ دبا لیا تھا جس سے گلے پر نشان پڑ گئے تھے یہ سن کر فرمایا کہ یہ تو جنون ہے کہ ذرا سی بات پر اس قدر سزا۔
اس واسطے حدیثوں میں آیا ہے کہ آدمی کو بلا نکاح نہ رہنا چاہئے (کہ یہ معلم مجرد تھے) ایسے آدمی کا غصہ سب دماغ ہی میں بھرا رہتا ہے ہنس کر فرمایا کہ کیا کیا جائے اس زمانے میں بیوی بھی تو وقت سے ملتی ہے یہ معلم سن رسیدہ تھے۔
ایک بڈھے سے کسی نے پوچھا کہ بڑے میاں بیوی کیوں نہیں کرتے کہا کہ جوان مجھے پسند نہیں کرتی اور بوڑھی کو میں پسند نہیں کرتا اب نکاح کس سے کروں۔
وہ معلم صاحب ابھی مجلس ہی میں تھے کہ حضرت نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا تم کو یہاں رہنے کی تو اجازت ہے لیکن جب تک یہاں رہو میرے سامنے نہ پڑو اور طلبا کو فرمایا کہ تم ان کے پاس نہ پڑھو (مجلس کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ) اس وقت مختتم فیصلہ نہ کرنے کا راز ہے کہ حدیثوں میں غصہ کے وقت فیصلہ کرنے کی ممانعت آئی ہے اس لئے ایسے میں امور میں غصہ کے وقت کبھی فیصلہ نہیں کرتا۔
بعد رفع غیظ جب تک تین تین چار چار مرتبہ غور نہیں کر لیتا کہ واقعی بھی یہ اس سزا کا مستحق ہے جب تک سزانہیں دیتا پھر ان کو اپنے پاس سے اٹھا کر ایک دوسرے معلم کو جو نوعمر تھے بلایا جب وہ آ گئے تو ان سے فرمایا کہ معلوم ہوا کہ تم بھی بچوں کو مارتے ہو اس کا صحیح اور معقول جواب دو تاویلات کو ہرگز نہ مانوں گا یہ بتلاؤ کہ جب میں نے منع کر دیا ہے تو پھر کیوں مارتے ہو یہ شرارت نفس کی ہے یا نہیں انہوں نے اقرار کیا کہ ہاں بے شک شرارت نفس کی ہے تو فرمایا کہ اچھا طلبہ کے سامنے حوض پر کان پکڑ کر چلو کیونکہ میں نے تم کو خلوت میں عزت سے سمجھایا تھا اس کو تم غنیمت نہیں سمجھتے واقعی دنی الطبع بلا سختی کے نہیں مانتے وہ صاحب حوض پر کان پکڑ کر چلے مجلس کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ اس سے طلبا پر مدرس کی بے وقتی ضرور ہو گی مگر میں کیا کروں میں نے ہر چند چاہا کہ میرا کہنا مان جائیں مجبوراً یہ عمل اختیار کیا ہے۔
Featured products
New Year BooksOffer 2025
Original price was: ₨ 5930.00.₨ 4750.00Current price is: ₨ 4750.00.Ramzan Ul Mubarak Ki Behtareen Kitabein
Original price was: ₨ 4480.00.₨ 4030.00Current price is: ₨ 4030.00.مجموعہ حضرت تھانوی پیکیج
₨ 11100.00





