اسلاف کی شفقت اور طلبہ سے محبت کی مثالیں: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
امام ابو یوسف کا قول ہے کہ اپنے شاگردوں کے ساتھ ایسے خلوص اور محبت سے پیش آئو کہ دوسرا دیکھے تو سمجھے کہ یہ تمہاری اولاد ہیں۔
ایک جگہ ارشادفرمایا کہ علمی مجالس میں خصوصیت کے ساتھ غصہ سے پرہیز کرو۔
امام ربانی کے حالات میں لکھا ہے کہ ایک طالب علم فرش پر بیٹھا قرآن مجید پڑھ رہا تھا، حضرت نے خیال کیا تو اپنے نیچے فرش زیادہ پا یافی الفور زائد فرش اپنے نیچے سے نکال کر اس طالب علم کے نیچے بچھا دیا۔
استاذ الکل حضرت مولانا مملوک علی صاحب کا یہ حال تھا کہ جب طالب علم بیمار ہوتا تو اس کا قیام گاہ پر جا کر عیادت کرتے اور اس کی ہر طرح دل جوئی کرتے حالانکہ اس زمانہ میں دار الطلبہ کا انتظام نہیں تھا، مختلف مساجد اور مکانوں میں طلبہ رہتے تھے۔
اب مہتممین اور اراکین کا حال یہ ہے کہ اگر کسی طالب علم سے خفگی ہو گئی تو آسان علاج ہی یہ سمجھاتا ہے کہ اس کا اخراج کر دیا جائے، حالانکہ یہ دانش مندانہ فیصلہ نہیں ہے یہ کون عقل مند جائز رکھے گا کہ اگر کسی عضو میں کوئی پھنسی نکل آئی ہے تو اس عضو ہی کو کاٹ دیا جائے۔ صحیح تدبیر یہ ہے کہ اس کا علاج کیا جائے اور اس عضو کو صحیح کر کے اس سے کام لیاجائے ہاں اگر خدا نخواستہ اس میں ایسی خرابی ہو گئی ہو جس سے تمام جسم پر اثر پڑے گا تو پھر اس کو علیحدہ کرکے باقی جسم کو محفوظ کر لیا جائے، اسی طرح کسی طالب علم کے اندر کوئی خرابی ہو تو حسن تدبیر سے اس کو خرابی سے نکالنے کی کوشش کی جائے اگر کوئی تدبیر کار گر نہیں ہو رہی ہے تو پھر اس کا اخراج کیا جائے۔
اسلاف کی شفقت کے یہ نمونے ہیں آج ذراسی اور معمولی سی بات پر طلبہ کی اس قدر پٹائی ہوتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک دشمن قبضہ میں آ گیا ہے، جس سے جی بھر کر انتقام لینا ہے۔
حضرت حکیم الامت نے توسبق یاد نہ ہونے پر بھی استاد کے مارنے کو منع فرمایا چنانچہ خانقاہ میں سخت تاکید تھی کہ کوئی استاد طالب علم کو نہ مارے اس کی اطلاع تعلیم کے ذمہ دار کو دی جائے وہ مناسب سزا تجویز کرے گا۔ اساتذہ کی طرف سے طالب علم کے دل میں اگر تکدر ہو گیاتو پھر اس کو فیض نہیں ہو سکتا۔ نیز بسا اوقات جو کچھ یاد ہوتا ہے مارنے کے خوف کی وجہ سے بھول جاتا ہے بعض اساتذہ توچہرے پر مارنے سے بھی اجتناب نہیں کرتے، حالانکہ حدیث پاک میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔ یہ مارنے والے اس پرغور کریں کہ ہم اپنے بارے میں کیا چاہتے تھے۔
Featured products
New Year BooksOffer 2025
Original price was: ₨ 5930.00.₨ 4750.00Current price is: ₨ 4750.00.Ramzan Ul Mubarak Ki Behtareen Kitabein
Original price was: ₨ 4480.00.₨ 4030.00Current price is: ₨ 4030.00.مجموعہ حضرت تھانوی پیکیج
₨ 11100.00





