Description
مصنف قاری محمد اسحاق ملتانی لکھتے ہیں: ۔
غیظ و غضب کے وہ جذبات جن کا مصرف میدان جہاد تھا وہ آج ہماری باہمی معاشرت میں سرایت کرگئےہیں ۔ مثلاً سڑک پر چلتے ہوئے معمولی ٹکراؤ ہوجائے تو آپس میں دست و گریباں ہوجانا ہمارے معاشرے میں اس قدر رائج ہے کہ اگر مظلوم شخص صبر کا ثبوت دے اور رفع دفع کرنے کے لئے برداشت کا مظاہرہ کرے تو اسے بزدل سمجھا جائے اور شاید اسکے پاکستانی ہونے پر بھی شک کیا جائے ۔
یعنی باہمی رنجش اور معمولی لڑائی جھگڑے ہمارے ہاں معمول میں شامل ہوگئے ہیں خواہ انکا تعلق گھریلو معاملات، کاروباری معاملات یا پھر معاشرتی معاملات سے ہو ۔ ہر جگہ چھوٹی سی بات کا بتنگڑ بنا کر پورے جوش کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور موقع ہاتھ آتے ہی غیظ و غضب کے ارمان پورے کئے جاتے ہیں ۔
اس کتاب عہد نبوت سے اب تک اسلاف و اکابر کے واقعات جمع کئے گئے ہیں جو تعلیم دیتے ہیں کہ اسلام کا مزاج تو صبر و تحمل، ایثار و قربانی اور برداشت کا تقاضہ کرتا ہے ۔
یاد رکھئے ! زندگی کے نشیب و فراز میں ایسے کئی مواقع آتے ہیں کہ قوت برداشت نہ ہونے کی وجہ سے آدمی بہت نقصان اٹھاتا ہے اس لئے اس قوت کو اپنے اندر پیدا کرنے کی بہت ضرورت ہے ۔ اسی ضرورت کے تحت کتاب ہذا میں ایمان افروز واقعات کو بڑی حسن ترتیب کے ساتھ جمع کردیا گیا ہے ۔ اس کتاب کا ایک مرتبہ مطالعہ برداشت کی قوت پیدا کرنے میں اکسیر ہوگا ۔
یہ کتاب واٹس ایپ پر آرڈر کرنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://wa.me/p/6096052923751934/923450345581
Reviews
There are no reviews yet.