قوموں کی بربادی، نااِنصافی کی وجہ سے ہوتی ہے

قوموں کی بربادی، نااِنصافی کی وجہ سے ہوتی ہے

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مخزومی عورت جس نے چوری کرلی تھی کے معاملہ میں قریش بہت غمگین اور رنجیدہ تھے( اس عورت کا تعلق ایک معزز خاندان سے تھا اورخاندان کی بدنامی کی وجہ سے وہ لوگ پریشان تھے کہ اگر چوری کی سزا ملی اور ہاتھ کٹ گئے تو پورا قبیلہ بدنام ہو جائے گا )

اُنہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس معاملہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرسکتا ہے؟ (یعنی کوئی ایسا شخص جو حکمت و مصلحت سے حضور علیہ السلام سے بات کرے اور سزا معاف کروا دے یا کمی کروا دے ) چنانچہ یہ طے ہوا کہ حضرت اُسامہ بن زید جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ( بہت قریبی اور لاڈلے ) ہیں اُن کے سوا کوئی بات کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ چنانچہ حضرت اُسامہ کو کہا گیا تو اُنہوں نے آپ علیہ السلام سے اس معاملہ میں گفتگو کی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اُسامہ! تم اللہ کے قائم کردہ قوانین میں سے ایک قانون کے بارے میں سفارش لے کر آئے ہو؟ آپ نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور لوگوں سے مخاطب ہو کر اِرشاد فرمایا: تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ اسی وجہ سے تباہ ہوگئے کہ جب اُن کا کوئی امیرزادہ چوری کرتا تو اُس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی غریب چوری کرتا تو اُس پر قانون جاری کرتے۔

خدا کی قسم! فاطمہ بنت ِ محمد سے بھی اگر چوری ہو جاتی تو میں اُس کے ہاتھ کاٹ دیتا ( قانون لاگو کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ قوموں کی بربادی اسی وجہ سے ہورہی ہے کہ غریب پر ہر قانون لاگو ہوتا ہے اور امیر ہر قانون سے ماورا ہو جاتا ہے۔ پہلے لوگ بھی اسی وجہ سے برباد ہوئے اور آج تک یہی وجہ بنی ہوئی ہے )

(مفہوم حدیث : ۳۲۴۱، باب حدیث الغار ، صحیح البخاری)

صحیح بخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop