لوگوں کو دینے والے بن جائو، لینے والے نہیں

لوگوں کو دینے والے بن جائو، لینے والے نہیں

حضرت حکیم (صحابی ) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مالی امداد چاہی تو آپ علیہ السلام نے مجھے عطا فرمایا۔ پھر کچھ عرصہ بعد مجھے ضرورت پیش آئی تو میں نے دوبارہ مانگا تو آپ نے دوبارہ عطا فرمایا۔ پھر سہ بارہ میں نے آپ سے مانگا تو آپ نے تیسری مرتبہ بھی عطا فرمایا۔ (اس مرتبہ ) مجھے نصیحت بھی فرمائی۔

اے حکیم: بلا شبہ یہ مال سر سبز و شیریں ہے (یعنی ہر شخص اس کو طلب کرتا ہے) مگر جو شخص اِس کو بری نیت سے حاصل کرتا ہے (یعنی لالچ اور فریب سے حاصل کرے اور پھر ضرورت سے زائد مال کو اپنے پاس جمع کئے رکھے، حقوق ادا نہ کرے ) تو اس مال میں برکت نہیں ہوتی اور اِس شخص کی مثال ایسی ہے کہ (اربوں کھربوں کما لیتا ہے مگر) اِس کا پیٹ نہیں بھرتا اورجو شخص نیک نیتی سے یہ مال حاصل کرتا ہے ( یعنی ضرورت مندوں تک پہنچانے کے لئے، لوگوں کو نفع دینے کے لئے اور صدقہ خیرات کرنے کے لئے وغیرھم ) تو اُس کے لئے مال و دولت میں برکت نازل ہوتی ہے اور یہ دینے والا شخص (معاشرہ میں بانٹنے والا ) لینے والے سے بہتر ہے (یعنی تم کوشش کرو کہ کسی سے لینے کی بجائے دینے والے بنو )۔

حوالہ: صحیح بخاری شریف (مفہوم حدیث)

صحیح البخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop