با پردہ ہو کر عورت ضرورت کے وقت گھر سے نکل سکتی ہے

با پردہ ہو کر عورت ضرورت کے وقت گھر سے نکل سکتی ہے

شرط یہ ہے کہ 48 میل سے کم کا فاصلہ ہو اور اس کا نکلنا فتنہ و فساد کا سبب نہ ہو۔
اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ عفیفہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا: ۔
ایک مرتبہ اُم المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کسی ضرورت کی وجہ سے رات کے وقت (با پردہ ہو کر ) گھر سے باہر نکلی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ (بھی راستہ سے گزر رہے تھے اوردیکھ کر) پہچان گئے کہ یہ اُم المؤمنین ہیں۔

جب حضرت سودہ سودہ رضی اللہ عنہا واپس گھر تشریف لائیں تو سرورِ دو عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمایا کہ ( عمر نے اُن کو پہچان لیا تھا)۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں ایک گوشت کی ہڈی تھی۔ اسی حالت میں آپ پر وحی کا نزول شروع ہوگیا۔ جب یہ (نزول وحی کا) سلسلہ ختم ہوا تو آپ نبی کریم رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ( پاکیزہ اور با پردہ عورتوں) کو اجازت دی گئی ہے کہ اپنی ضروریات کے لئے ( مجبوری کے وقت ) باہر نکل سکتے ہو۔

(مفہوم حدیث: ۴۸۸۶، باب خروج النساء لحوائجھن ، صحیح البخاری )

صحیح البخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop