اچھے اخلاق کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟

اچھے اخلاق کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب آئے اور پوچھنے لگے: یا رسول اللہ! میرے اچھے اخلاق اور معاملات کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری والدہ۔ اُس نے پوچھا پھر کون؟ تو دوبارہ اِرشاد فرمایا: تمہاری والدہ۔

اُس نے تیسری مرتبہ پوچھا تو آپ نے پھر یہی ارشاد فرمایا، تمہاری والدہ۔ پھر چوتھی مرتبہ انہوں نے پوچھا: والدہ کے بعد سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ جس سے میں اچھے اخلاق سے پیش آؤں۔ تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے والد۔

(اس سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ حُسنِ اخلاق کے سب سے زیادہ مستحق والدین ہیں۔ اِن کی خوب خدمت کرنی چاہئے اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے، اس کے بعد درجہ بدرجہ سب لوگوں کے ساتھ حُسنِ اخلاق کی ہدایت ہے)۔

(مفہوم حدیث: ۵۵۷۲، باب: من احق الناس بحسن الصحبۃ، صحیح البخاری)

صحیح بخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop