انسان کی اصلی کامیابی اُسکے اخلاق سے ظاہر ہوتی ہے

انسان کی اصلی کامیابی اُسکے اخلاق سے ظاہر ہوتی ہے

اگر انسان کے اخلاق درست نہ ہوں تو وہ چاہے کتنی ہی اعلیٰ تعلیم کیوں نہ حاصل کر لےمگر وہ ناکام ہی رہتا ہے۔انجینئر ہو، ڈاکٹر ہو، کاروباری ہو یا ایک عام دوکاندار—اگر اس کے اندر تمیز، شرافت، دیانت اور انسانیت موجود نہیں تو اس کی ہر ڈگری اور ہر کامیابی کھوکھلی ہوگی۔ آج کے دور میں ہم نے کامیابی کا معیار صرف ڈگری، عہدہ اور پیسے کو بنا لیا ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب چیزیں انسان کی اصل پہچان نہیں ہوتیں۔ اصل پہچان انسان کے اخلاق، رویّے اور کردار سے ہوتی ہے۔ ایک بدتمیز اور خودغرض ڈاکٹر مریض کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، ایک بےایمان انجینئر قوم کے وسائل ضائع کر سکتا ہے، اور ایک لالچی تاجر معاشرے میں بداعتمادی اور تشویشات پیدا کرتا ہے ۔ اس لیے یہ مان لینا ضروری ہے کہ اخلاق کے بغیر تعلیم اور باقی ساری کامیابیاں بے روح ہوتی ہیں۔

ہم میں سے اکثر لوگ اپنی ساری توجہ اس بات پر لگا دیتے ہیں کہ ہمیں کون سی ڈگری لینی ہے، کس عہدے تک پہنچنا ہے، اور کتنا پیسہ کمانا ہے۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں سب سے پہلے ایک اچھا انسان بننا ہے۔ زندگی کا مقصد صرف آسائشیں حاصل کرنا یا معاشرے میں بڑا نام بنانا نہیں تھا، بلکہ مقصد یہ تھا کہ ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں اوراحترام کے ساتھ پیش آئیں ۔ اگر کوئی شخص بہت بڑا منصب رکھتا ہو لیکن اس کے لہجے میں سختی، رویّے میں تکبر اور عمل میں ناانصافی ہو تو لوگ اسے کامیاب نہیں بلکہ ناکام انسان ہی سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس، ایک سادہ زندگی گزارنے والا مگر بااخلاق انسان لوگوں کے دلوں میں عزت پاتا ہے اور یہی اصل کامیابی ہے۔

ہم سب کو اپنی تربیت پر بھی اتنی ہی توجہ دینی چاہیے جتنی تعلیم پر دیتے ہیں۔ بچوں کو اسکول بھیجنا کافی نہیں، انہیں یہ بھی سکھانا ضروری ہے کہ بڑوں سے بات کیسے کی جاتی ہے، کمزور کے ساتھ کیسا برتاؤ ہونا چاہیے، اور اختلاف کے باوجود شائستگی کیسے برقرار رکھی جاتی ہے۔ اخلاق صرف کتابوں سے نہیں سیکھے جاتے بلکہ روزمرہ کے عمل، گھر کے ماحول اور معاشرتی رویّوں سے پروان چڑھتے ہیں۔ اگر ہم اپنی آنے والی نسل کو صرف مقابلہ بازی، نمبر اور کیریئر کا سبق دیں گے اور انسانیت کا سبق چھوڑ دیں گے تو ہم ایک بےحس معاشرہ تشکیل دینے کے مجرم ہوں گے۔

ڈاکٹروں کی کمیونٹی کے لئے ایک سوالیہ نشان:۔

حال ہی میں نشتر ہسپتال ملتان میں پیش آنے والا واقعہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ مجموعی طور پر ہمارے اخلاقی زوال کی ایک واضح تصویر بھی پیش کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ایک مریض اپنی حالتِ زار کی نشاندہی کرنے کے لیے ریکارڈنگ کر رہا ہے، جبکہ سامنے موجود ڈاکٹر کا رویہ فرعونی تکبر، تضحیک اور بے حسی کی مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ انگلیوں کے نامناسب اور توہین آمیز اشارے، مریض اور اس کی میت کا مذاق اڑانا—یہ سب وہ مناظر ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول سمجھے جاتے ہیں، خصوصاً اس پیشے میں جسے انسانیت کی خدمت کا سب سے اعلیٰ ذریعہ مانا جاتا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد کی بدتمیزی نہیں بلکہ اس پوری کمیونٹی کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ممکن ہے ڈاکٹر کو حد سے زیادہ تنگ کیا گیا ہو، یا وہ دباؤ میں ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا دباؤ، تھکن یا غصہ کسی کو اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں کی اجازت دے دیتا ہے؟ کون سی میڈیکل ڈگری میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ مریض کے درد یا میت کا مذاق اڑایا جائے، یا کسی میت کے حوالے سے نامناسب اشارے کیے جائیں؟ اگر کوئی شخص ذہنی دباؤ میں ہے تو اس کا حل اخلاقی حدود توڑنا نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ صورتحال کو سنبھالنا ہے۔ مریض اگر پریشان ہے تو اس کی وجہ بھی سمجھنے کی ہے—کیونکہ مریض کو بروقت امداد نہ ملے تو اس کا اضطراب فطری ہےاور اس کے ساتھ ہمدردی برتنا ڈاکٹر کی بنیادی ذمہ داری ہے۔مزید تفصیلات اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:۔

یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر کا  سفید کوٹ صرف پیسہ کمانے کی علامت نہیں ہے بلکہ یہ دلاسہ، ہمدردی اور اخلاق کی علامت بھی ہے۔ جب کوئی ڈاکٹر اس سفید کوٹ کے اخلاق کو مجروح کرتا ہے تو وہ صرف ایک مریض کی دل آزاری نہیں کرتا، بلکہ پورے شعبے کی توہین کرتا ہے۔ ایسے واقعات سے وہ ہزاروں ایماندار اور بااخلاق ڈاکٹر بھی متاثر ہوتے ہیں جو دن رات خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا بجا ہے کہ اس واقعے پر محض وضاحتیں کافی نہیں، بلکہ واضح، شفاف اور سخت کارروائی ہونی چاہیے—تاکہ یہ پیغام جائے کہ پیشہ ورانہ بدتمیزی، چاہے کسی بھی سطح پر ہو، قابلِ برداشت نہیں۔تفصیلات اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔

یہاں ایک بنیادی سوال بار بار سامنے آتا ہے: کیا صرف ڈاکٹر بن جانا کافی ہے؟ کیا ڈگری لے لینا کافی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر اخلاق درست نہ ہوں تو اعلیٰ ترین تعلیم بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ معاشرہ ان لوگوں سے نہیں بنتا جن کے پاس ڈگریاں ہوں بلکہ اُن لوگوں سے بنتا ہے جنہوں نے انسانیت سیکھی ہو۔ مریض کے درد کو سننا، اس کے سوال کا احترام سے جواب دینا، اور غم کے لمحے میں سنجیدگی اختیار کرنا—یہ سب وہ اوصاف ہیں جو کسی نصاب سے نہیں، تربیت اور کردار سے آتے ہیں۔

ہمیں بطور معاشرہ یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم کن اقدار کو ترجیح دیتے ہیں۔ صرف ڈگری، منصب اور طاقت کو—یا اخلاق، تمیز اور انسانیت کو؟ اگر جواب دوسرا ہے، تو پھر ایسے واقعات پر آواز اٹھانا، احتساب کا مطالبہ کرنا، اور اصلاح کی راہیں ہموار کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کیونکہ یاد رکھیں، سفید کوٹ تبھی باوقار ہے جب اس کے اندر دل بھی سفید ہو۔

انسان کی اصلی کامیابی اُسکے اخلاق سے ظاہر ہوتی ہے2
انسان کی اصلی کامیابی اُسکے اخلاق سے ظاہر ہوتی ہے2
صرف ڈگری حاصل کرلینے سے کوئی ڈاکٹر نہیں بن سکتا:۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد لوگوں کا ردِعمل محض غصہ نہیں بلکہ تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ اکثریت نے یہی سوال اٹھایا کہ کیا ڈاکٹروں کی ڈگری میں کہیں بھی تمیز، اخلاق اور تربیت کا کوئی باب شامل ہے یا نہیں؟ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ایک ڈاکٹر برسوں پڑھ لکھ کر بھی مریض سے بدتمیزی کرے، تضحیک آمیز اشارے دے اور انسانی دکھ کو مذاق بنا دے تو ایسی تعلیم کا فائدہ کیا؟ خاص طور پر نشتر ہسپتال ملتان جیسے بڑے سرکاری اداروں میں اس طرح کے رویّے سامنے آنا اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔

لوگ یہ بھی نشاندہی کر رہے ہیں کہ جب ڈاکٹروں کے مالی مطالبات پورے نہ ہوں یا حکومت کی کسی پالیسی سے وہ نالاں ہوں تو وہ شدید بیمار مریضوں کو بھی ہسپتالوں میں چھوڑ کر سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل آتے ہیں۔ اس وقت نہ حلف یاد رہتا ہے، نہ پیشے کی حرمت، نہ وہ مریض جن کی زندگی ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہ رویہ عوام کے دل میں یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ شاید ڈاکٹروں کا خدمتِ انسانیت کا حلف صرف ایک نعرہ ہے۔ عملی حقیقت میں وہ اسکو کوئی اہمیت نہیں دیتے بلکہ پیسہ اور عہدہ کو اہمیت دیتےہیں۔اگر ڈاکٹر خود اپنے پیشے کا احترام بھول جائیں تو پھر عوام بھی انکا احترام نہیں کریگی۔

سوشل میڈیا پر ایک اور تلخ بات بھی دیکھنے کو ملی کہ یہ تو صرف ایک ویڈیو اور چند تصاویر سامنے آ گئی ہیں، ورنہ کتنے ایسے واقعات روزانہ ہوتے ہیں جو کبھی کیمرے کی آنکھ میں نہیں آتے۔ مبینہ غفلت، تاخیر، لاپرواہی یا بےرخی کی وجہ سے مریض اور ان کے لواحقین ناقابلِ تلافی نقصان اٹھاتے ہیں۔ مگر سرکاری نظام کی سست روی اور جواب دہی کے فقدان کی وجہ سے اکثر معاملات دب جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ ان کی نوکری محفوظ ہے، انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، چاہے مریض کے ساتھ کچھ بھی ہو جائے۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ بات وہ دوہرا معیار ہے جس کا مشاہدہ ہم سب کرتے ہیں کہ یہی ڈاکٹر جب شام کو اپنے پرائیویٹ کلینک میں بیٹھتے ہیں تو مسکراہٹ اور بڑی خوش اخلاقی اور مکمل توجہ کے ساتھ مریض کو دیکھتے ہیں۔ وہاں لہجہ بدل جاتا ہےکیونکہ سامنے فیس دینے والا مریض  ایک مستقل گاہک ہوتا ہے۔ اس تضاد نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا سرکاری  ہسپتالوں کے مریض انسان نہیں؟ کیا غریب کا درد اہمیت نہیں رکھتا؟ اگر ایک ہی شخص دو مختلف جگہوں پر دو مختلف اخلاق دکھا سکتا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ اصل مسئلہ تعلیم میں نہیں بلکہ نیت میں ہے۔

درحقیقت، سوشل میڈیا کی یہ آوازیں صرف تنقید نہیں بلکہ اصلاح کے مطالبہ کے لئے ہیں۔لوگ چاہتے ہیں کہ میڈیکل تعلیم میں اخلاقیات، کمیونیکیشن اسکلز اور انسانی ہمدردی کو باقاعدہ اورسنجیدہ حصہ بنایا جائے۔ صرف ڈگری کافی نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ کردار کی تربیت نہ ہو۔ ڈاکٹر بن جانا یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے، مگر اچھا ڈاکٹر بننا—جو مریض کو عزت، صبر اور ہمدردی دے—اصل کامیابی ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں بہتری کی ضرورت ہے:۔

ویسے تو اس واقعے پر نہ لکھنا ہی بہتر تھا، مگر جب انسان اپنی آنکھوں سے کسی نظام کی بےحسی دیکھ لے تو خاموش رہنا بھی ایک طرح کا جرم بن جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل نشتر ہسپتال ملتان کے ایمرجنسی وارڈ میں جانا ہوا، اور جو منظر وہاں دیکھا وہ آج بھی ذہن سے محو نہیں ہو سکا۔ ایک مریض کو نہایت نازک حالت میں لایا گیا تھا۔ لوگ گاڑیوں پر خود اسے اٹھا کر لائے، ان کے چہروں پر خوف اور فکر کے بہت شدید آثار تھے۔سب سے بنیادی سہولت—اسٹریچر—موجود نہیں تھا۔ بار بار کہا گیا، آوازیں لگائی گئیں، مگر کسی نے سنجیدگی سے توجہ نہ دی۔وہ لمحے انتہائی اذیت ناک تھے جب مریض تڑپتا رہا اور اردگرد موجود پورا عملہ جیسے بے حس بنا کھڑا ہو ۔ ایمرجنسی وارڈ کا نام ہی اس لیے رکھا جاتا ہے کہ وہاں ہر سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے، مگر یہاں احساس نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ آخرکار وہی ہوا جس کا خوف تھا—مریض فوت ہو گیا۔ اس کے بعد اچانک ماحول بدل گیا۔ پریشانی کا اظہار کیا جانے لگا، شور ہوا، اور لواحقین نے دھمکی بھی دی کہ ہم پولیس کو بلاتے ہیں کیونکہ ڈاکٹروں کی یہ مبینہ غفلت ہے۔

مگر سب سے حیران کن اور تکلیف دہ ردِعمل وہ تھا جو ایک ڈاکٹر کی طرف سے سامنے آیا۔ جس نے انتہائی بدتمیزی اور بےپروائی سے یہ کہہ دیا کہ “آپ لوگ پہلے لے آتے۔” گویا ساری ذمہ داری لواحقین پر ڈال کر خود کو بری الذمہ کر لیا گیا۔یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، بلکہ نشتر کے ایمرجنسی وارڈ میں پیش آنے والے ان گنت واقعات میں سے ایک ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ زیادہ تر واقعات کبھی قلم بند نہیں ہوتے، کبھی سوشل میڈیا تک نہیں پہنچتے۔غریب، لاچار اور دور دراز سے آئے ہوئے مریض اور ان کے اہلِ خانہ اکثر یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ کون سنے گا؟ کس کے پاس جائیں؟ اور کس کے خلاف آواز اٹھائیں؟ یہی خاموشی اس نظام کو مزید خراب کررہی ہے۔

اصل مسئلہ صرف  نیت کی خرابی کا ہے۔یہاں حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نگرانی کے عمل کو مزید مستحکم اور مضبوط بنائے۔سرکاری ہسپتال بنانا کوئی عمارت بنانے جتنا کام نہیں تھا کہ حکومت نے عمارتیں کھڑی کردی اور بس۔ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان ہسپتالوں کے اندر نظم و ضبط، نگرانی اور جواب دہی کے نظام کو سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ ایمرجنسی وارڈز میں مستقل مانیٹرنگ، شکایات کے فوری ازالے، اور بدسلوکی یا غفلت پر عملی کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔

اگر اخلاق درست نہیں ہیں تو معاشرہ میں خرابیاں پھیلیں گی

آخر میں آ کر بات پھر وہیں پہنچتی ہے جہاں سے یہ گفتگو شروع ہوئی تھی: ہم دنیا میں کسی بھی عہدے پر فائز ہو جائیں، کوئی بھی ڈگری حاصل کر لیں، یا دولت و جائیداد کے انبار لگا لیں—اگر ہمارے اخلاق درست نہیں ہیں تو ہم کبھی حقیقی معنوں میں انسان نہیں بن سکتے۔ اور جب انسان ہی نہ بن سکے تو کامیابی صرف ایک ظاہری لیبل رہ جاتی ہے۔ایسا شخص بظاہر بہت کچھ بن جاتا ہے، مگر اندر سے خالی رہتا ہے۔ لوگ اس سے ڈرتے تو ہوں گے، مگر عزت نہیں کرینگے۔اس کے پاس وسائل تو ہوں گے، مگر دل کا سکون نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اخلاق کو ہمیشہ تعلیم، منصب اور پیسے پر فوقیت دی گئی ہے—کیونکہ اخلاق ہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کی اصل کامیابی کھڑی ہوتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اچھا ڈاکٹر، اچھا انجینئر یا کامیاب تاجر بن جانا ہی سب کچھ ہے، حالانکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا ہم اچھے انسان بھی بن پائے ہیں یا نہیں؟

اگر ہمارے رویّے دوسروں کے لیے اذیت بن جائیں
 اگر ہماری زبان دوسروں کو تکلیف پہنچائے
اور اگر ہمارے فیصلے کمزوروں کے لیے دردناک بن جائیں
تو ایسی کامیابی کس کام کی؟

اسی المیہ کو سامنے رکھتے ہوئے میں آپ کو ایک نہایت اہم اور خاص کتاب کا تعارف کروانا چاہتا ہوں، جس کا نام ہے اپنے اخلاق درست کیجئے۔ یہ کتاب محض اخلاقیات پر مشتمل ایک عام کتاب نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی کی تعلیمات شامل کی گئی ہیں، جو نہایت سادہ، عام فہم اور دورِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ یہ وہ تعلیمات ہیں جو صرف مذہبی طبقے  یعنی مولویوں کے لئے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہیں جو خود کو بہتر انسان بنانا چاہتا ہے—چاہے وہ ڈاکٹر ہو، طالب علم ہو، تاجر ہو یا کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو۔

انسان کی اصلی کامیابی اُسکے اخلاق سے ظاہر ہوتی ہے23
انسان کی اصلی کامیابی اُسکے اخلاق سے ظاہر ہوتی ہے23

اس کتاب کی مکمل تفصیلات آپ اس لنک پر دیکھ سکتےہیں:۔

یہ کتاب آپ کتاب فروش (آن لائن بک اسٹور)پر آرڈر کرکے پورے پاکستان میں گھر بیٹھے منگوا سکتے ہیں۔

کتاب کے حوالے سے مزید معلومات، رہنمائی یا آرڈر کے لیے آپ واٹس ایپ پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں
WhatsApp # 03450345581

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop