فتنوں کے اس دور میں ایمان کی حفاظت کے لئے 2 اہم اقدام
آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں یہ بظاہر ترقی، سہولت اور رفتار کا دور ہے۔ انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے۔ہر قسم کی معلومات تک رسائی آسان ہوچکی ہے، رابطے تیز تر ہیں، اور معلومات ایک کلک کی دوری پر موجود ہیں۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ اتنا ہی سنجیدہ اور تشویشناک ہے۔ جہاں یہ ترقی ہمیں سہولت دے رہی ہے، وہیں بے شمار ایسے خدشات اور خطرات بھی پیدا ہورہے ہیں جن سے باخبر ہونا اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ خاص طور پر ایمان کے معاملے میں یہ خطرات خاموش حملے ہیں جن کو نظر انداز کرنا مستقبل کے لئے نہایت نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے۔ماضی میں اگر کوئی فتنہ پیدا ہوتا تھا تو اس کے اثرات بہت محدود ہوتے تھے۔ چند لوگ اس سے متاثر ہوتے، کچھ عرصہ شور مچتا، پھر وہ فتنہ یا تو دب جاتا یا وقت کے ساتھ خود ہی ختم ہو جاتا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ معلومات کے ذرائع محدود تھے، افواہیں یا گمراہ کن نظریات اتنی تیزی سے نہیں پھیل پاتے تھے، اور عام آدمی تک ان کا پہنچنا آسان نہ تھا۔ لیکن آج کل صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ اب کوئی بھی فتنہ، چاہے وہ نظریاتی ہو، اخلاقی ہو یا اعتقادی، چند لمحوں میں وائرل ہو جاتا ہے۔ ایک ویڈیو، ایک پوسٹ، ایک جملہ، یا ایک غلط تشریح لمحوں میں لاکھوں ذہنوں تک پہنچ جاتی ہے، اور اکثر لوگ بغیر سوچے سمجھے اسے سچ مان لیتے ہیں۔
Table of Contents
انٹرنیٹ کے اس تیز رفتار ماحول میں دن رات نئے نئے فتنے سامنے آ رہے ہیں۔ کہیں دین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، کہیں شکوک و شبہات کو خوبصورت الفاظ میں پیش کیا جا رہا ہے، کہیں آزادیِ فکر کے نام پر ایمان کی بنیادیں ہلائی جا رہی ہیں، اور کہیں اخلاقی بے راہ روی کو “نارمل” بنا کر دکھایا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ اتنی چالاکی اور دلکش انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ کمزور علم اور کمزور ایمان رکھنے والا شخص سمجھ ہی نہیں پاتا کہ وہ کس سمت جا رہا ہے۔ یوں آہستہ آہستہ دل میں شکوک پیدا ہوتے ہیں پھر یقین کمزور پڑتا ہے اور نعوذ باللہ انسان کو خود اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس کا ایمان خطرے میں ہے۔ایسے حالات میں ہماری ذمہ داریاں خود بخود بڑھ جاتی ہیں۔ اب صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ “ہم تو ایمان والے ہیں” بلکہ ایمان کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرنا فر ض ہوچکاہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر وہ چیز جو اسکرین پر نظر آئے، ہر وہ بات جو سوشل میڈیا پر مقبول ہو، اور ہر وہ شخص جو خود کو دانشور ظاہر کرے، ضروری نہیں کہ حق پر ہو۔ اپنی حفاظت کرنا، خود کو بچانا، اور اپنے اہلِ خانہ خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کی فکری نگرانی کرنا اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکثر ہم خطرے کو اس وقت سنجیدگی سے لیتے ہیں جب نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ حالانکہ عقل مندی اسی میں ہے کہ خطرے سے پہلے حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں۔ ایمان ایک نازک امانت ہے، جو غفلت کے چند لمحوں میں ضائع ہوسکتی ہے۔ اس لیے آج کے اس فتنوں بھرے ڈیجیٹل دور میں ضروری ہے کہ ہم بیدار رہیں، ہوش مند بنیں، اور اپنی ذمہ داری کو پہچانیں۔ کیونکہ اگر ہم نے خود اپنی حفاظت نہ کی، تو یہ سیلاب ہمیں بہا لے جانے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگائے گا۔
پہلا بنیادی قدم: ایمان کی حفاظت کی فکر
یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ آج کے دور میں ایمان کی حفاظت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ اگرچہ ہر زمانے میں اپنے ایمان کی حفاظت ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری رہی ہے، لیکن کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ دور اس حوالے سے بہت نازک دور ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ہم ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں نت نئے فتنے نہ صرف پیدا ہو رہے ہیں بلکہ جدید ذرائع کے ذریعے بڑی چالاکی اور تیزی کے ساتھ پھیل بھی رہے ہیں۔ بار بار اسلامی عقائد، ایمانیات اور بنیادی تصورات پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں، اور شکوک و شبہات کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ ایک عام مسلمان، خصوصاً نوجوان، الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔
خاص طور پر کالجز اور یونیورسٹیز کا ماحول اس حوالے سے بہت زیادہ حساس ہو چکا ہے۔ یہاں طلبہ کو نہ صرف مختلف نظریات سننے کو ملتے ہیں بلکہ بعض اوقات ایسے مضامین، لیکچرز اور مباحث بھی سامنے آتے ہیں جن میں دین کو دقیانوسی، غیر سائنسی یا غیر ضروری ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بہت سے نوجوان پہلی مرتبہ یہاں ایسے سوالات سنتے ہیں جن کے جوابات انہیں پہلے کبھی نہیں سکھائے گئے ہوتے۔ نتیجتاً اگر ذہن پہلے سے تیار نہ ہو اور ایمان کی بنیاد مضبوط نہ ہو تو شکوک پیدا ہونا فطری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل الحاد
(Atheism)
کا رجحان بڑھنے کی خبریں عام ہو رہی ہیں، اور یہ بات واقعی تشویش ناک ہے۔ایسے حالات میں سب سے پہلا اور بنیادی قدم یہ ہے کہ ہم ایمان کی حفاظت کو ایک شعوری مقصد بنائیں۔ یعنی ہمیں خود یہ احساس ہو کہ ایمان کوئی خود بخود محفوظ رہنے والی چیز نہیں، بلکہ اسے علم، فکر اور عمل کے ذریعے مضبوط کرنا پڑتا ہے۔
آج کے نوجوان کو سوالات کا سامنا ہے، اس لیے اسے جوابات بھی درکار ہیں — وہ جوابات جو عقل کو مطمئن کریں اور دل کو مضبوط بنائیں۔اسی شعوری فکر کے تحت ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو صحیح، مدلل اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق پھیلائیں۔ دین کو صرف عبادات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عقائد، فلسفہ، اخلاقیات اور جدید فکری چیلنجز کے تناظر میں بھی سمجھایا جائے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ الحمدللہ ہمارے پاس ایسے علماء اور مبلغین موجود ہیں جو اس میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کو سنجیدگی، علم اور حکمت کے ساتھ ایڈریس کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں خاص طور پر ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی کا نام قابلِ ذکر ہے۔ وہ یوٹیوب کے ذریعے ایک وسیع طبقے تک اسلامی تعلیمات پہنچا رہے ہیں اور بالخصوص الحاد، شکوک و شبہات اور جدید فکری اعتراضات پر نہایت مدلل اور سادہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی بات کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نوجوان کے ذہن کو سامنے رکھ کر گفتگو کرتے ہیں، جذباتی نعروں کے بجائے دلیل اور علم سے بات کرتے ہیں، اور مشکل سوالات سے گھبراتے نہیں بلکہ ان کا سامنا کرتے ہیں۔
ایک علمی یوٹیوب چینل :۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ سوال سے گھبراتے نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سوال دبانے سے ختم نہیں ہوتے، بلکہ دلیل سے حل ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان کی یوٹیوب پر موجود ویڈیوز میں ہمیں یہ انداز واضح طور پر نظر آتا ہے کہ وہ نہ صرف سامع کے سوال کو پوری توجہ سے سنتے ہیں بلکہ اس کا جواب قرآن، سنت، عقل اور معاصر علمی تناظر میں دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مباحثے اور مناظرے محض جذباتی نہیں ہوتے بلکہ فکری طور پر مضبوط اور علمی بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں۔
https://www.youtube.com/@YasirNadeemalWajidi
ان کی یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیوز کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہو اور وہ شکوک و شبہات کے سامنے متزلزل نہ ہوں۔ خاص طور پر وہ اشکالات جو آج کل سوشل میڈیا، یونیورسٹی کیمپسز اور آن لائن فورمز پر تیزی سے پھیل رہے ہیں—جیسے خدا کے وجود پر اعتراضات، وحی کی حقیقت، نبوت، اسلام اور سائنس کا تعلق، یا مذہب کو ذاتی زندگی تک محدود کرنے کا نظریہ—ان سب پر وہ بروقت اور مدلل گفتگو کرتے ہیں۔ یہ تازہ ترین فتنوں کا ادراک اور ان کا علمی حل ہی وہ چیز ہے جو ایک مبلغ کو عصرِ حاضر کے لیے مؤثر بناتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی ویڈیوز صرف ایک شہر یا ایک ملک تک محدود نہیں۔ ان کی گفتگو دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھی اور سنی جاتی ہے، جہاں اردو بولنے والے مسلمان بستے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان، جو پہلے کنفیوزن کا شکار تھے، ان ویڈیوز کے ذریعے نہ صرف اپنے سوالات کے جوابات پاتے ہیں بلکہ دین سے ایک نیا اور مضبوط تعلق بھی قائم کرتے ہیں۔ ایسے میں یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس طرح کے مفید علمی مواد کو آگے پھیلائیں، اپنے دوستوں، اہلِ خانہ اور بالخصوص طلبہ تک پہنچائیں۔
آپ ان کا یوٹیوب چینل فالو اور سبسکرائب کر کے ان کی ویڈیوز باقاعدگی سے سن سکتے ہیں، تاکہ ایمان تازہ رہے اور ذہن مضبوط۔ اسی طرح ان کی علمی خدمات اور پس منظر کو سمجھنے کے لیے ویکیپیڈیا پر موجود ان کا تعارف بھی مطالعے کے لائق ہے۔ یاد رکھیے، آج کے دور میں ایمان کی حفاظت کا ایک مؤثر ذریعہ یہ بھی ہے کہ ہم خود کو مستند علماء کے ساتھ جوڑیں، سیکھنے کا عمل جاری رکھیں، اور ہر نئے فتنہ کا جواب علم کی روشنی میں تلاش کریں—کیونکہ یہی راستہ دل کو مطمئن اور ایمان کو محفوظ رکھتا ہے۔
دوسرا اہم قدم: ایمان کی فکر سے متعلق ایک قیمتی کتاب
ایمان کی حفاظت صرف سوالوں کے جوابات جان لینے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے لیے مسلسل فکر، مطالعہ اور عملی تیاری بھی ضروری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان کی مضبوطی کے دوسرے اہم ترین قدم کے طور پر میں آپ کو ایک نہایت قیمتی اور بروقت کتاب کا تعارف کروانا چاہتا ہوں، جس کا نام ہے آئیے ایمان کی فکر کیجئے۔ یہ کتاب دراصل اسی شعور کو بیدار کرتی ہے کہ ایمان کو ایک قیمتی دولت سمجھ کر اس کی حفاظت کرناہم سب کی ذمہ داری ہے۔

ہم روزمرہ زندگی میں اپنے مال، کاروبار، گھر، موبائل فون اور دیگر قیمتی چیزوں کی حفاظت کے لیے کتنے انتظامات کرتے ہیں۔ لاکس، پاس ورڈز، انشورنس اور نہ جانے کیا کیا تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس سب سے قیمتی دولت کے ہم مالک ہیں، یعنی ایمان — اس کی حفاظت کے بارے میں ہم اکثر لاپرواہی برتتے ہیں۔ یہ کتاب ایمان سے متعلق اہم ترین مباحث کو نہایت سادہ مگر علمی انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایمان کیا ہے، اسے کمزور کرنے والے عوامل کون سے ہیں، اور وہ کون سی فکری، عملی اور معاشرتی لغزشیں ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کو ایمان سے دور کر دیتی ہیں۔ ساتھ ہی اس کتاب میں ایسے حفاظتی اصول اور تدابیر بھی بیان کی گئی ہیں جو ہر مسلمان، خاص طور پر موجودہ دور کے نوجوان، طلبہ اور گھرانوں کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے حالات میں یہ کہنا بالکل درست ہے کہ یہ کتاب ہر گھر میں ہونی چاہیے۔
اس کتاب کو پڑھ کر معلوم ہوگا کہ ایمان ایک ایسا سرمایہ ہے جو نہ صرف دنیا میں ہمیں درست راستہ دکھاتا ہے بلکہ آخرت میں بھی ہمارے لیے راہِ نجات بنتا ہے۔ اس کے بغیر نہ تو سکونِ قلب ممکن ہے اور نہ ہی کامیابیِ آخرت۔ چنانچہ ایسی قیمتی متاع کی حفاظت کے لیے سنجیدہ مطالعہ، صحیح رہنمائی اور مستند کتابوں کا ساتھ ہوناضروری ہے— اور “آئیے ایمان کی فکر کیجئے” اسی ضرورت کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔
اگر آپ اس کتاب کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پورے پاکستان میں آپ اسے گھر بیٹھے آسانی سے منگوا سکتے ہیں۔ کتاب کی مکمل تفصیلات، صفحات کی تعداد اور قیمت دیکھنے کے لیے آپ کتاب فروش آن لائن بک اسٹور کے اس لنک کو وزٹ کر سکتے ہیں:۔
کتاب فروش آن لائن بک اسٹور قابل اعتماد اور بڑا ادارہ ہے جہاں سے دینی و علمی کتب بآسانی آرڈر کی جا سکتی ہیں۔اگر کسی وجہ سے ویب سائٹ پر آرڈر کرنے میں مشکل پیش آئے تو آپ براہِ راست واٹس ایپ کے ذریعے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔
یہ سہولت خاص طور پر اُن افراد کے لیے مددگار ہے جو آن لائن ویب سائٹ پر آرڈر کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔

