ہر شخص کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہے
افادات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی
قرآن کریم کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! تم اپنی اصلاح کی فکر کرو۔
اگر تم نے اپنی اصلاح کر لی اور ہدایت کے راستے پر آگئے تو پھر جو لوگ گمراہی کی طرف جارہے ہیں اور گمراہیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ ان کی برائی اور گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اس لئے کہ تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ تم کو بتائے گا جو کچھ تم اس دنیا میں کیا کرتے تھے۔
اس آیت میں یہ بتا دیا کہ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے پا س اپنے اعمال کا جواب دینا ہے، یہ نہیں ہوگا کہ بد عملی دوسرا شخص کرے اور جواب مجھ سے طلب کیا جائے کہ وہ شخص بدعملی کے اندر کیوں مبتلا تھا یا میںکوئی برا عمل کروں اور جواب دوسر ے سے طلب کیا جائے ۔ایسا نہیں ہوگا بلکہ ہر شخص سے اس کے اپنے عمل کا سوال ہوگا۔ اس لئے تم پہلے اپنی فکر کروکہ تمہارے اعمال کیسے ہیں؟ تم جب اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری دو گے تو تم اپنی زندگی کے اعمال کے بارے میں کیا جواب دو گے؟
اس لئے دوسروں کی فکر سے پہلے اپنی خبرلو۔ اور ہر شخص اپنے اعمال اور اخلاق کا جائزہ لے کر دیکھے کہ وہ کس گمراہی اور کس غلطی کے اندر مبتلا ہے ۔ اور پھر ان غلطیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔یہ نہ ہو کہ دوسروں کے عیوب اور برائیوں کو تو تلاش کرتا پھرے۔
از کتاب : دور حاضر کی مشکلات کا حل (از افادات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی)
مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان

