اصلاح کا آغاز دوسروں سے

اصلاح کا آغاز دوسروں سے

قرآن کریم اس آیت
مَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ
میں ہمیں اس طرف توجہ دلا رہا ہے کہ جب تم حالات کی اصلاح کرنے کی فکر لے کر اٹھتے ہو تو تم ہمیشہ اصلاح کا آغاز دوسروں سے کرنا چاہتے ہو۔ یعنی تمہارے دلوں میں یہ بات ہوتی ہے کہ لوگ خراب ہوگئے ہیں۔ لوگ بداعمالیوں میں مبتلا ہیں۔لوگ دھوکہ،فریب کر رہے ہیں۔ ان سب باتوں کے تذکرے کے وقت تمہارے ذہنوں میں یہ ہوتا ہے کہ یہ سب کام دوسرے لوگ کرر ہے ہیں۔ ان لوگوں کو ان کاموں سے روکنا ہے اور ان کی اصلاح کرنی ہے۔
لیکن یہ خیال شاذونادر ہی کسی اللہ کے بندے کے دل میں آتا ہے کہ میں بھی کسی خرابی کے اندر مبتلا ہوں۔میرے اندر بھی کچھ عیوب اور خرابیاں پائی جاتی ہیں اور ان خرابیوں کی اصلاح کرنا میرا سب سے پہلا فرض ہے ۔ میں دوسروں کی طرف بعد میں دیکھوں گا پہلے میں اپنا جائزہ لوںاور اپنی اصلاح کی پہلے فکر کروں ۔
آج ہمارا حال یہ ہے کہ جب اصلاح کے لئے کوئی جماعت ،کوئی تنظیم یا ادارہ قائم ہوتا ہے تو اس ادارے کو چلانے والوں اور اس تنظیم کو قائم کرنے والوں میں سے ہر شخص کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ میں عوام کی اصلاح کروں۔ لیکن میں اپنی اصلاح کروں اور اپنے عیوب کو دور کروں۔ یہ خیال شاذونادر ہی کسی اللہ کے بندے کے دل میں آتا ہوگا۔

از کتاب : دور حاضر کی مشکلات کا حل (از افادات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی)
مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop