زندگی کی پہیلیاں اور اللہ کی طرف رجوع
بچپن کا وہ دور یاد ہے جب ہم پہیلیاں بوجھا اور بجھوایا کرتے تھے؟ ایک سوال ہوتا تھا جس کے ظاہری اور اصلی معنی میں بڑا میں فرق ہوتا تھا، اور ہم اُسکا حل ڈھونڈنے میں لگ جاتے۔ کبھی ہنستے، کبھی ہارتے، کبھی فوراً سمجھ جاتے، کبھی پہیلی ڈالنے والے سے ہار مان کر جواب مانگتے اور اُسکی منت کرتے کہ ہم نہیں جانتے ۔
ایک چھوٹی سی پہیلی جس کا جواب تو مجھے بھول گیا مگر پہیلی یاد ہے کہ اتنی ہلدی سارے گھر میں ملدی ۔ اسکا اصل معنی بتاؤ ۔ پھر ہم سب اسی کوشش میں لگ جاتے کہ ہلدی برتن سے گر گئی ؟ ہلدی زیادہ آگئی؟ ہلدی کا رنگ گھر پر لگا دیا وغیرہ وغیرہ ۔ مگر سب غلط ہوتا تھا اور اخیر میں حل اُسی سے ہی پوچھا جاتا تھا ۔
وقت گزر گیا، ہم بڑے ہوگئے، مگر ایک بات آج بھی میں اکثر سوچتا ہوں کہ — زندگی بھی ایک مسلسل پہیلی کی طرح ہے۔
Table of Contents
پہیلیوں سے سبق لینے کا وقت
اب پہیلیاں بچوں کی طرح ہم سے نہیں بجھوائی جاتی بلکہ ہم پر جب برا وقت آتا ہے، کوئی مشکل آتی ہے یا پریشانی کے لمحات آتے ہیں تو یہی پہیلیاں ہوتی ہیں جن کو ہم نے سلجھانا ہوتا ہے اور ہم انکو حل کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں ۔
جب اللہ پہیلی ڈالتا ہے – مصیبت کی اصل حقیقت
زندگی کی ہر پریشانی، ہر آزمائش درحقیقت ایک الٰہی پہیلی ہے۔ یہ پہیلی نہ تو بغیر حکمت کے ہوتی ہے، نہ ہی بے مقصد۔ یہ ہمیں کچھ سکھانے کے لیے، کچھ سمجھانے کے لیے، اور ہمیں اللہ کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔
انسانی فطرت – مسئلہ خود حل کرنا یا اللہ پر چھوڑ دینا؟
ہم میں اکثر لوگ اس پہیلی کو سلجھانے میں غلطی کر جاتے ہیں ۔ پہلی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں کچھ بھی نہ کرنا پڑے اور فوراً پہیلی ڈالنے والے کی طرف رجوع کرکے بیٹھ جاتے ہیں کہ یا اللہ اس پہیلی کو فوراً حل کردیجئے ۔ اس مصیبت کو فوراً دور کردیجئے ۔ یا اللہ اس مصیبت کو بھیجاہے تو فوراً ختم بھی کردو ۔ دوسری غلطی یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ پھر اتنا زیادہ جد و جہد اور مشکلات میں پڑ جاتے ہیں کہ دعا مانگنا بھول ہی جاتے ہیں ۔ حد سے زیادہ سوچتے ہیں، حد سے زیادہ خود کو تھکا دیتے ہیں اور غم میں گھلتے جاتے ہیں ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ:۔
ہم سب کو پہلے جدوجہد کرنی ہے، خود کو بچانے کی پوری کوشش کرنی ہے، پھر اللہ کے حوالے کرنا ہے اور خوب دعائیں مانگنی ہیں ۔
مصیبت کا حل – ہر پہیلی کو سلجھانے کا نبوی نسخہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ جو شخص مصیبت کے وقت “إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ” کہے، اللہ اس کو بہتر بدلہ دیتا ہے۔ گویا پہلا قدم یہ ماننا ہے کہ یہ مصیبت کسی اور کی طرف سے نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے کوئی سختی نہیں بلکہ صرف ایک وقتی پہیلی ہے ۔ جس کا جواب اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے ۔ جسکا حل اللہ تعالیٰ کے پاس موجود ہے ۔ جب یہ یقین پختہ ہوجائیگا تو پھر ہم اسکا جواب بھی اُسی سے مانگیں گے۔
دیکھو دوستو ! بچپن میں جب پہیلی کا جواب نہ سمجھ آتا، تو ہار مان کر کہتے:۔
۔“اب بتاؤ، یہ کیا ہے؟“ ہم ہار مان لیتے ہیں ۔
بس بالکل ویسے ہی، جب مسئلہ الجھ جائے تو کہنا سیکھیں:۔
۔“یا اللہ! اب یہ میری عقل سے باہر ہے، آپ ہی حل کر دیں۔“۔
اگر ہار مان لیں؟
اسی رویے کو توحید، توکل، اور بندگی کہتے ہیں۔
ذہنی تھکن یا روحانی سکون؟ – فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے
پریشانی میں اکثر لوگ کہتے ہیں:۔
۔”بس دماغ پھٹنے والا ہے!”۔
۔”سمجھ نہیں آ رہا کیا کریں!”۔
وجہ؟
کیونکہ وہ مسئلے کو خود ہی “ختم” کرنا چاہتے ہیں۔
جبکہ اصل بات یہ ہے کہ:۔
اللہ پہ بھروسا کرنا ہی ذہنی سکون کی کنجی ہے۔
ایک کتاب جو آپ کی زندگی بدل سکتی ہے
۔📘 کتاب: آپ پریشان کیوں ہیں؟
مصنف نے اس میں واضح کیا ہے کہ کیسے ہم اپنی پریشانیوں کو سمجھ سکتے ہیں، برداشت کر سکتے ہیں، اور بالآخر حل بھی پاسکتے ہیں۔ یہ مستند کتاب حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے افادات سے ترتیب دی گئی ہے ۔
اس کتاب میں:۔
اسلامی نفسیات کی روشنی میں تجزیہ، ذہنی سکون کے قرآنی طریقے اور حالات کی تبدیلی کا فطری اصول
ابھی اس کتاب کی تفصیلات دیکھیں اور آرڈر کریں!
یا اس طرح کی مزید دینی و معلوماتی کتابیں آرڈر کرنے کے لئے واٹس ایپ پر رابطہ کریں
WhatsApp # 03450345581
ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
ہمارے ذمے صرف یہ ہے کہ ہم نیت صاف رکھیں، اپنے بچاؤ کی پوری کوشش کریں اور جائز طریقے سے جدوجہد میں کوئی کمی نہ چھوڑیں ۔ پھر اُسکے بعد دعا کریں اور اللہ پر توکل کریں ۔ خوب یقین رکھیں کہ اس پہیلی کا حل اللہ تعالیٰ کے پاس موجود ہے ۔
کیا واقعی ہر مصیبت میں کوئی خیر چھپی ہوتی ہے؟
جی ہاں! قرآن میں فرمایا:
“عَسٰٓی اَنْ تَکْرَهُوْا شَیْـــًٔـا وَّهُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ”
(سورۃ البقرہ)
یعنی تم جسے بُرا سمجھتے ہو، وہ تمہارے حق میں بہتر ہو سکتا ہے۔
کیا صرف دعا کافی ہے یا عمل بھی ضروری ہے؟
دونوں لازم ہیں۔ دعا کے ساتھ ساتھ محنت، صبر، اور مثبت سوچ بھی ضروری ہے
یہ کتاب (آپ پریشان کیوں ہیں) کس عمر کے افراد کے لیے ہے؟
ہر عمر کے لیے مفید ہے، خاص طور پر وہ نوجوان یا والدین جو روزمرہ پریشانیوں سے دوچار ہوں۔

