نیزے وغیرہ سے کھیلنا اور مشق کرنا

نیزے وغیرہ سے کھیلنا اور مشق کرنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: کچھ حبشی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنے نیزوں سے کھیل رہے تھے ( یعنی تیر اندازی کی مشق کررہے تھے )اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگئے۔ انہوں نے نیچے سے ایک چھوٹی سی کنکری لی اور انہیں ماری ( تاکہ وہ اس عمل سے باز آ جائیں۔ آپ علیہ السلام کی موجودگی میں اپنے نیزوں سے کھیلنا بند کردیں۔)
مگر آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اے عمر! انہیں چھوڑ دو (کھیلنے دو)
معلوم ہوا کہ تیر اَندازی کی مشق کرنا اور تلوار بازی یا دوسری چیزیں جو جہاد فی سبیل اللہ میں معاون ہوں اُن کے کرتب اور مشق کے لئے آپس میں بغیر شرط بازی کے مقابلے کرنے میں کوئی حرج نہیں )
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کھیل با مقصد ہوا کرتے تھے، جہاد کی تیاری کے لئے یا دوسری جنگی مشقوں کے لئے کوئی بے فائدہ کھیل برائے تفریحِ فقط نہ ہوتا تھا۔
(مفہوم حدیث: ۲۷۱۲، باب اللھوبالحراب ونحوھا ، صحیح البخاری )

صحیح البخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop