اللہ تعالیٰ کی شانِ رحمت

اللہ تعالیٰ کی شانِ رحمت

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا:’’بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں( تمام اچھے اور برے کام) متعین کردیئے ہیں، پھر اُنہیں( قرآن و حدیث اور اولیاء اللہ کی سیرت اور اعمال میں ) واضح بھی کردیا ہے۔ پس تم میں سے کسی شخص نے اگر نیکی کا اِرادہ کیا پھر کسی وجہ سے وہ نیک عمل نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ (اپنی خاص رحمت اور شانِ کریمی سے ) صرف اِرادہ پر بھی اپنے حضور ایک نیکی عطا فرمائیں گے۔

اور جس نیکی کا اُس نے اِرادہ کیا تھا اگر وہ کرلی ( یعنی نیکی کے اِرادہ کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا) تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دس گنا سے سات سو گنا تک اجر عطا فرمائیں گے بلکہ اس سے بھی بڑھا چڑھا کر عطا فرمائیں گے ۔

اور جس شخص نے بھی کسی برائی کا اِرادہ کرلیا ( کسی گناہ کا اِرادہ کیا کہ میں فلاں دن کروں گا) لیکن پھر (اللہ تعالیٰ کے خوف سے ) وہ اِرادہ چھوڑ دیا اور گناہ نہ کیا تو صرف اس اِرادہ کو چھوڑ دینے پر بھی اللہ تعالیٰ نیکی لکھ دیتے ہیں اور اگر کسی نے برائی کا اِرادہ کیا اور پھر وہ برائی کر بیٹھا تو اللہ تعالیٰ اُس کے لئے صرف ایک برائی لکھتے ہیں (اُس برائی کو بڑھایا نہیں جاتا بلکہ صرف ایک لکھ دی جاتی ہے تاکہ جونہی انسان توبہ کرے فوراً وہ مٹا دی جائے ، بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے ہیں)۔

مفہوم حدیث : ۶۰۷۴، باب من ھم بحسنۃ او بسینۃ ، صحیح البخاری

صحیح بخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop