تصوف و طریقت یعنی انفاس عیسٰی

تصوف و طریقت یعنی انفاس عیسٰی

کتاب تصوف و طریقت المعروف انفاس عیسیٰ !۔۔۔
اس کتاب کے بارہ میں عارف باللہ حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمہ اللہ تعالیٰ (خلیفہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ) فرماتے ہیں کہ یہ کتاب اسم بامسمیٰ ہے ۔ اس میں ایسے احوال و کیفیات، خطرات و وساوس اور شکوک و اشکال باطنی پر روشنی ڈالی گئی ہے جو اکثر و بیشتر سالکین طریقت و طالبین تزکیہ نفس کو پیش آتے ہیں ۔ انکے متعلق حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے معالجات روحانی و مجربات ایمانی اس کتاب میں درج ہیں ۔ یہ کتاب تائید الٰہی کے باعث اعجاز مسیحائی کا مصداق ہے جس سے بے شمار مایوس الاحوال لوگوں کو حیاتِ نو نصیب ہوئی ہے ۔ مجھے خود ذاتی تجربے سے اس بات کا یقین ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ یہ کتاب عوام وخواص کے لئے بہت نافع اور عقدہ کشائے رموز باطنی ثابت ہوگی ۔ واللہ المستعان

نیز اس کے علاوہ شیخ الاسلام فقیہ العصر مقبول و معروف محسن امت حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی اس کتاب سے متعلق اپنی ایک مجلس میں یوں فرماتے ہیں کہ یہ کتاب حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے اصلی ملفوظآت، آپکی تربیت، ہدایات اور نفسانی امراض کے علاج کے لئے مفید اور مجرب نسخوں کا خلاصہ ہے جس کو حضرت والا کے خاص خلیفہ حضرت مولانا محمد عیسیٰ رحمہ اللہ تعالیٰ نے مرتب کیا ہے ۔
حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے خلفائے کرام کی بہت بڑی تعداد ہے ان میں سے ہر ایک نے اپنی بساط اور صلاحیت کے مطابق حضرت والا سے کسب فیض کیا ہے اور ان میں سے ہر ایک ہمارے لئے آفتاب اور مہتاب کا درجہ رکھتا ہے ۔ لیکن ہر خلیفہ میں کچھ خصوصیات ایسی ہیں جو اسکو دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں ۔ حضرت مولانا عیسیٰ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ حضرت والا کے ابتدائی دور کے خلفاء میں سے ہیں ۔
حضرت مولانا عیسیٰ رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی صحبت اور خدمت میں رہنے کے دوران حضرت والا سے جو باتیں سنی اور جو تعلیمات حاصل کیں اُنکا خلاصہ ہمارے لئے اس کتاب “انفاس عیسیٰ” میں جمع کردیا ۔
یہ کتاب حضرت کے دیگر عام ملفوظات کے مجموعوں کی طرح ملفوظات کی کتاب نہیں ۔ چنانچہ عام ملفوظات اور مجالس کی کتابوں میں یہ نظر آئے گا کہ حضرت والا نے کسی موضوع سے متعلق ایک بات ارشاد فرمائی پھر تھوڑی دیر کے بعد دوسرے کسی اور موضوع سے متعلق دوسری بات ارشاد فرمائی اور پھر تیسرے موضوع سے متعلق ارشاد فرمائی اور ان باتوں کو لوگوں نے جمع کرنا شروع کردیا ۔
لیکن اس کتاب میں حضرت مولانا عیسیٰ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا ۔ بلکہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی صحبت میں رہنے کے دوران تصوف اور طریقت سے متعلق جو کچھ سنا اور جو تعلیم حاصل کی ۔ پہلے اُسکو ہضم کیا، پھر اُسکی تلخیص فرمائیں اور ایسے طرز پر یہ کتاب لکھی کہ اس میں اکثر الفاظ حضرت والا کے ہی ہیں ۔

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop