حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا وفات سے قبل نصیحت آمیز پیغام

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا وفات سے قبل نصیحت آمیز پیغام

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی زندگی میں دین کی اطاعت اور موت کے وقت بھی حکمت و فہم کی مثالیں پیش کرتے تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا آخری وقت بھی انہی اہم نصیحتوں اور زندگی کے حقیقی اصولوں کا عکاس تھا، جو ہم سب کے لیے سبق آموز ہے۔

حضرت یحییٰ بن ابی راشد نصری رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق، جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا وقت وفات قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے چند نہایت اہم ہدایات دیں، جن میں زندگی اور موت کے ساتھ جڑی حکمتوں کو بیان کیا:

حضرت عمر بن خطاب کی وصیت کے اہم نکات
آخری لمحوں میں جسمانی تیاری: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو وصیت کی کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آئے تو ان کے جسم کو ایک خاص انداز میں موڑ دیا جائے تاکہ موت کے وقت سکون میسر ہو۔

کفن کے بارے میں نصیحت: انہوں نے درمیانے درجے کا کفن دینے کی ہدایت کی، اس امید کے ساتھ کہ اگر اللہ کی رضا شامل حال ہوئی تو اللہ بہتر لباس عطا کرے گا، اور اگر معاملہ اس کے خلاف ہوا تو اللہ جلدی سے اس کفن کو چھین لے گا۔

قبر کی تیاری: قبر کو بھی درمیانی بنانے کا حکم دیا تاکہ اگر اللہ کی جانب سے خیر ہو تو قبر کشادہ کر دی جائے، اور اگر ایسا نہ ہو تو قبر تنگ ہو جائے گی، حتیٰ کہ پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جائیں گی۔

جنازہ کے متعلق ہدایات: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تاکید کی کہ ان کے جنازے میں کوئی عورت شامل نہ ہو اور ان کی تعریف میں وہ خوبیاں بیان نہ کی جائیں جو ان میں موجود نہ ہوں، کیونکہ اللہ سب سے بہتر جانتا ہے کہ کون کیا ہے۔

جنازے کو جلدی لے جانے کی ہدایت: جنازے کو تیز چلنے کی ہدایت دی، تاکہ اگر اللہ کی طرف سے خیر ہو تو جلدی اس خیر کی طرف پہنچا دیا جائے، اور اگر معاملہ برعکس ہو تو شر کو جلدی اتار دیا جائے۔

یہ نصیحتیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عاجزی اور تقویٰ کا اظہار کرتی ہیں۔ ایک عظیم خلیفہ ہونے کے باوجود، وہ اپنی آخری گھڑیوں میں بھی اللہ کی رضا کے منتظر رہے اور اپنی دنیاوی حیثیت کو بالکل اہمیت نہ دی۔

یہ الفاظ کتاب فروش ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر شائع کئے گئے ہیں۔

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop