حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ….خود اپنی نظر میں

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ….خود اپنی نظر میں

حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ سے تھانہ میں متعینہ ایک پولیس افسر نے بیعت کی درخواست کی تھی جس کے جواب میں انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھا:
میں ایک خشک طالب علم ہوں اس زمانہ میں جن چیزوں کو لوازم درویشی سمجھا جاتا ہے جیسے میلاد شریف، گیارہویں شریف، عرس، نیاز، فاتحہ، قوالی وتصرف ومثل ذالک۔ میں ان سب سے محروم ہوں اور اپنے دوستوں کو بھی اس خشک طریقہ پر رکھنا پسند کرتا ہوں۔
میں نہ صاحب کرامت ہوں، نہ صاحب کشف ہوں، نہ صاحب تعریف ہوں اور نہ ہی عام ہوں۔ صرف اللہ اور اُسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر مطلع کرتا رہتا ہوں۔ اپنے دوستوں سے کسی قسم کا تکلف نہیں کرتا۔ نہ اپنی حالت، نہ اپنی کوئی تعلیم اور نہ ہی امور دینیہ سے متعلق کوئی مشورہ چھپانا چاہتا ہوں۔عمل کرنے پر کسی کو مجبور نہیں کرتا۔ البتہ عمل کرتا ہوا دیکھ کر خوش ہوتا ہوں اور عمل سے دور دیکھ کر رنجیدہ ہوتا ہوں۔
میں کسی سے نہ کوئی فرمائش کرتا ہوں اور نہ کسی کی سفارش۔ اس لئے بعض اہل رائے مجھ کو خشک کہتےہیں۔ میرا مذاق یہ ہے کہ ایک کو دوسرے کی رعایت سے کوئی اذیت نہ دوںخواہ حرفی ہی اذیت ہو۔ سب سے زیادہ اہتمام مجھ کو اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لئے اس امر کا ہے کہ کسی کو کسی قسم کی اذیت نہ پہنچائی جائےخواہ بدنی ہو جیسے مارپیٹ وغیرہ، خواہ مالی ہو جیسےکسی کا حق مار لینایا ناحق کوئی چیز لینا، خواہ آبرو کے متعلق ہو جیسے کسی کی تحقیر یا غیبت وغیرہ یا وہ تکلیف خواہ نفسانی ہو مثلاً کسی کو کسی تشویش میں ڈال دینا یا کوئی ناگوار رنج دہ معاملہ کرنا۔
اور اگر اپنی کسی غلطی سے ایسی بات سرزد ہوجائے تو معافی چاہنے میں عار نہ کرنا۔
مجھے ان باتوں کا اس قدر اہتمام رہتا ہے کہ کسی کی وضع خلاف شرع دیکھ کر تو صرف شکایت ہوتی مگر ان اُمور میں کوتاہی دیکھ کر بے حد صدمہ ہوتا ہے۔
اور دُعا کرتا ہوں کہ اس سے نجات دے۔
۔(بحوالہ کتاب بوادر النوادر۔
مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ چوک فوارہ ملتان)۔

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop