گھر کی 4 دیواری میں یہ ظلم خاموشی سے ہورہا ہے

گھر کی 4 دیواری میں یہ ظلم خاموشی سے ہورہا ہے

ایک ایسا خوفناک ظلم جو گھر کی محفوظ چار دیواریوں میں ہورہا ہےمگر کوئی اس درد کو سمجھ نہیں رہا۔ اسکی طرف توجہ کرنے اور شعور کو عام کرنے کی سخت ضرورت ہے۔اسلام نے لڑکیوں کو پابند کیا تھا کہ وہ اپنے ولی اور اپنے سرپرست کے بغیر نکاح نہ کریں تاکہ وہ جذبات کے بہاؤ میں، غلط دوستیوں کے دھوکے میں، وقتی محبت کی لپیٹ میں آکر اپنی پوری زندگی کا فیصلہ تنہائی اور نادانی میں نہ کر بیٹھیں۔ شریعت نے یہ اصول لڑکی کے حق میں رکھاتھا۔ اس کے تحفظ کے لیےاور اس کے مستقبل کی خیرخواہی کے لیے۔

لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جب ولی ہونے کی یہ ذمہ داری جس کا تقاضا یہ تھا کہ ولی کی طرف سے محبت اور شفقت ہونی چاہئے اور اُسکے اندر ایسی صلاحیت ہونی چاہئے کہ وہ لڑکی کے جذبات، رغبت اور پسندیدگی کو سمجھ کر فیصلہ کرسکے۔لیکن جب باپ، بھائی ،چچا یا جو بھی لڑکی کا سرپرست ہے وہ اسلامی تعلیمات سے آشنانہیں ہوتے  تو ولی کا منصب بے معنی ہو جاتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ دیوار تو قائم ہے مگر بنیاد کھوکھلی ہو چکی ہے۔ ایسے بے خبر اور بے فکر لوگ اپنی بچیوں کی حفاظت کے بجائے کبھی غصے میں، کبھی انا میں، کبھی غلط روایات کے دباؤ میں اور کبھی اپنی جھوٹی غیرت کے نام پر فیصلے ایسے کرتے ہیں کہ لڑکی کی پوری زندگی اندھیروں میں  دھکیل دیتے ہیں۔

آج ہمارے معاشرے میں جتنے بگاڑ، گھر سے بھاگ کر ہونے والی شادیاں، عدالتوں میں پڑے ہوئے نکاح نامے، کچے ذہنوں میں بٹھائی گئی جھوٹی محبتیں، مستقبل کے خوف سے بھری بھاگ دوڑ، والدین سے دوری، خاندانوں میں ٹوٹ پھوٹ، ماں باپ کی سفید ہوچکی راتیں اور لڑکیوں کا ذہنی دباؤ نظر آتا ہے—یہ سب اسی ایک غلطی کا نتیجہ ہے کہ ولی نے اپنے منصب کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ لڑکی پر پابندی لگائی گئی تھی کہ ولی کی موجودگی ضروری ہے، مگر اگر ولی خود نادان، غیر ذمہ دار، غصے کا تیز، یا زمانے کی حقیقتوں سے لاعلم ہو تو وہ حفاظت نہیں کرسکتا بلکہ کبھی کبھی وہی سب سے بڑی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے نکاح کو ولی کی شرط سے جو مشروط کیا ہے تو اس منصب کے کچھ تقاضے، تعلیمات اور احکامات ہیں جن کا سیکھنا بے حد ضروری ہے۔ اگر ولی اپنا کردار نہیں سمجھتا تو سمجھ لیں کہ فتنوں کے دروازے  معاشرہ میں کھلتے ہی رہیں گے۔

عورت کا سرپرست کیوں بنایا گیا ہے؟

قدرت نے عورت کو جس لطافت اور حساس مزاج پر پیدا کیا ہے اسی کی وجہ سے بعض مقامات پر اسے ناقص العقل کہا گیا—یعنی ناقص العقل کا مطلب یہ نہیں کہ عقل کی کمی ہے بلکہ یہ کہ اس کا دل جذبات سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، اس کی فطرت میں نرمی اتنی زیادہ رکھی گئی ہے کہ بعض مواقع پر وہ فیصلہ کرنے میں سختی کا مظاہرہ نہیں کر پاتی۔ یہی نزاکت دراصل اُس کی خوبصورتی بھی ہے اور اس کی کمزوری بھی۔ اسی فطری نرمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے زندگی کے نازک ترین موڑ پر اس کی حفاظت کرنے کے لیے شریعت نے ولی اور وکیل کا نظام قائم کیا۔ تاکہ جب کوئی ایسا وقت آئے کہ لڑکی کے لیے اپنی زبان سے بات کہنا مشکل ہو جائے، شرم مانع ہو جائے، حیا آڑے آ جائے، یا اُسے اپنے احساسات بیان کرنے میں جھجک محسوس ہو، تو اس کا سرپرست اس کی ضرورت کو سمجھ کر اس کے حق میں حکمت بھرے انداز میں بات کرسکے۔ ولی کو یہ مقام اس لیے دیا گیا کہ وہ لڑکی کی ڈھال بنے، اس کے جذبات کو بہترین الفاظ میں معاشرہ کے سامنے رکھے اور اس کے حقوق کی پاسداری کرے۔ یہ ذمہ داری کوئی معمولی ذمہ داری نہیں، یہ ایک امانت ہے۔ اگر ولی اس امانت کو سمجھ کر ادا کرے تو لڑکی کا مستقبل روشن ہوتا ہے۔ مگر جہاں یہ ذمہ داری ادا نہ کی جائے، وہاں سب سے پہلے عورت ہی زخمی ہوتی ہےاور معاشرہ بگاڑ کی طرف بڑھتا ہے۔ یہی وہ اہم نکتہ ہے جو ہمارے معاشرے میں اکثر نظر انداز ہوجاتا ہے۔

دینی تعلیمات اور احکامات کو سمجھ کرعمل کریں

افسوس کی بات یہ ہے کہ جس منصب کو شریعت نے محافظ بنایا تھا۔ انہوں نے خود کو سرپرست نہیں بلکہ مالک سمجھ لیا—ایسا مالک جیسے لڑکی کوئی انسان نہیں، بلکہ کوئی زرخرید لونڈی ہو جس کی مرضی، خواہش، خوشی اور تکلیف کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔ یہ رویہ صرف غلط نہیں، ایک صدیوں پرانا ظلم ہے جو آج بھی گھروں میں خاموشی سے جاری ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اکثر والدین اپنے ان  ظالمانہ فیصلوں کو ظلم سمجھتے ہی نہیں، انہیں تو لگتا ہے کہ وہ بیٹی کی بھلائی کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں بیٹی کی زبان بند کر دینا حفاظت ہے، اس کے جذبات کو نظر انداز کر دینا تربیت ہے، اس کے مستقبل کا فیصلہ بغیر رضامندی کے کر دینا غیرت کا تقاضا ہے ۔ لیکن وہ نہیں جانتے کہ اندر ہی اندر اس کے خواب ٹوٹ رہے ہوتے ہیں، اس کی شخصیت بکھر رہی ہوتی ہے، وہ ڈپریشن کا شکار ہورہی ہوتی ہے، مردوں کی غیرت کو زندہ رکھنے کے لئے اُسکا دماغ مفلوج کیا جارہا ہوتا ہے۔
 معاشرے میں ایسے بے شمار واقعات بکھرے پڑے ہیں کہ اگر کوئی صرف سوشل میڈیا اور اخبارات کی چند سرخیاں ہی دیکھ لے تو اسے اندازہ ہو جائے کہ کس طرح ایک باپ، بھائی یا سرپرست کی ہٹ دھرمی اور دینی تعلیمات سے ناآشنائی نے ایک بیٹی کی پوری زندگی کو اندھیرا بنا دیا۔ لڑکیاں گھر سے بھاگنے پر مجبور ہوئیں، غلط ہاتھوں میں پھنس گئیں، جھوٹے نکاح نامے، عدالتوں کے چکر، قتل کے واقعات، غیرت کے نام پر ظلم—یہ سب اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب ولی اپنی ذمہ داری کو امانت نہیں، حاکمیت سمجھ لیتا ہے۔ میرے اپنے مشاہدات میں ایسے درجنوں واقعات شامل ہیں جہاں بیٹی کی رضا مندی، اُسکی دلچسپی یا رغبت کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی ۔ والدین سمجھتے رہے کہ وہ اچھا کر رہے ہیں، مگر حقیقت میں وہ اپنی ہی بیٹی کو ایک ایسی زندگی میں دھکیل رہے تھے جہاں پھر اخیر تک اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔یہ معاشرے کا وہ مکروہ چہرہ ہے جو اکثر گھر کی دیواروں کے درمیان چھپا رہتا ہے ۔

عبرتناک واقعہ

آپکو ایک واقعہ بتاتا ہوں ۔ یہ کسی کہانی کی بات نہیں، ہمارے اردگرد روز ہونے والا سچ ہے۔ کراچی کے ایک دیندار گھرانے نے اپنی بیٹی کی بہترین تربیت کی، اسے اعلیٰ تعلیم دلوائی، یہاں تک کہ ایم بی اے کی ڈگری بھی دلوا دی۔ اس لڑکی نے ہمیشہ اپنے گھر میں جو ماحول دیکھا وہ شرعی پردے والا، دینداری اور اچھا ماحول تھا۔ اس کا دل فطری طور پر ایسے ہی گھرانے کی طرف مائل تھا جہاں اسے اپنے جیسا دینی ماحول مل سکے۔ مگر جب رشتے آنا شروع ہوئے تو والدین اچانک بدل گئے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کے اس میلان کو پوری طرح نظر انداز کردیا۔ انہوں نے ایسے رشتوں کی تلاش شروع کر دی جو بہت امیر ہوں، بہت اعلیٰ اسٹیٹس والے ہوں، اور جن سے انہیں یہ محسوس ہو کہ بیٹی کی تعلیم پر جو پیسہ لگایا ہے، وہ کسی نہ کسی شکل میں واپس مل سکتا ہے۔ ڈاکٹر کا رشتہ آیا، انجینئر کا رشتہ آیا—یقیناً یہ سب اپنی جگہ اچھے رشتے تھے، لیکن اس لڑکی کے لیے مناسب نہیں تھے، کیونکہ وہ اپنا گھر دین دارلوگوں  میں دیکھنا چاہتی تھی، صرف دنیا داری میں نہیں۔اُس لڑکی کو یہ سمجھ تھی کہ دیندار گھرانوں میں ہی میری اولاد نیک بن سکتی ہے۔ اُسکی نظر میں پیسہ کی اتنی اہمیت نہیں تھی۔  وہ بار بار سمجھاتی رہی، حیا اور آنسوؤں کے ساتھ کہ مجھے کسی دیندار گھرانے میں دلچسپی ہے، جہاں میرا ایمان محفوظ رہے، میرا پردہ محفوظ رہے، میری زندگی سکون سے گزرے۔ لیکن ولی اپنی ضدپر قائم تھے۔ والدین کو یہ لگتا تھا کہ بیٹی نے پڑھ لیا ہے تو اس کی قیمت وصول کرنی چاہیے، اس کی ڈگری کی وجہ سے کسی بڑے اسٹیٹس والے گھر میں اسکو بھیجنا چاہئے ۔ کوئی معمولی نہیں بلکہ “اعلیٰ درجے کا” رشتہ آنا چاہیے، خواہ بیٹی کی مرضی اس میں ہو یا نہ ہو۔

یوں وقت گزرتا گیا، لڑکی کی عمر بڑھتی گئی، اور والدین کے خواب کبھی پورے نہ ہوئے۔ ادھر بیٹی کی جوانی دھیرے دھیرے ہاتھ سے پھسلتی گئی، امیدیں بجھتی گئیں، اور وہ ۳۵ سال کی عمر سے بھی آگے نکل گئی—پھر ایک دن اس نے خاموشی سے اپنے دل سے شادی کی خواہش ہی ختم کر دی۔ اس کے دل نے ہار مان لی، اور والدین نے بھی آخرکار اپنی امیدیں بدل لیں۔ وہ پیسہ بھی واپس نہ آیا جس کا وہ انتظار کر رہے تھے، اور آخرکار بیٹی کو نوکری پر لگا دیا۔ بیٹی بھی اگرچہ اسلامی گھرانے کی تھی مگر درد اور ڈپریشن سے نکلنے کے لئے اور کوئی چارہ نہ تھا ۔

 سوچئے… کیا اس لئے ولی بنایا گیا تھا؟ کیا ولی کا منصب اس لئے دیا گیا تھا کہ بیٹی کے جذبات کو اپنی توقعات کی نظر کر دیا جائے؟ یہ واقعہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں، ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے—جہاں ولی محافظ نہیں بنتے، بلکہ مغرور اور ضدی انسان بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔

معاشرہ کی تلخ حقیقت کا ایک اور واقعہ

ایک اور واقعہ آپکو بتاتا ہوں۔یہ بھی ہمارے معاشرے کی اسی تلخ حقیقت کا نمونہ ہے۔ لاہور کی ایک محنتی، باحیا اور سمجھدار لڑکی تھی جس کے والد ایک معمولی سیکورٹی گارڈ تھے۔ وسائل محدود تھے، مگر اِس باپ نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر بیٹی کو پڑھایا، اسے اچھی تعلیم دلائی، اس کی تربیت پر محنت کی۔ یہ سب  ایک اچھی بات تھی کہ باپ اپنے فرائض کو ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ مگر اصل آزمائش اُس وقت شروع ہوئی جب بیٹی ڈاکٹر بن گئی۔ اور شادی کی با ت شروع ہوئی تووہی المیہ سامنے آگیا۔ باپ نے اپنی حقیقت، اپنی آمدنی، اپنی معاشرتی پوزیشن، اور رشتوں کے توازن کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بیٹی کے لیے ایسے رشتے ڈھونڈنے شروع کر دیے جو اس کی حیثیت سے بہت بلند تھے۔ شاید وہ دل میں سوچتا ہوگا کہ میں نے بیٹی پر اتنا خرچ کیا ہے، اب اس کے بدلے میں ایک “اچھا اور معیاری” رشتہ ملنا چاہیے۔ مگر وہ ان دینی تعلیمات سے انجان تھا کہ اسلام یہ کہتا ہے کہ ہمیشہ کفو کا اعتبار کرکے اور کفو کی تحقیق کرکے شادی کرنی چاہئے۔ اس بارہ میں قریبی علمائے کرام سے تفصیلات معلوم کرلینی چاہئے کہ ہمارا گھرانہ ایسا ہے اور ہمیں کیسا رشتہ دیکھنا چاہئے۔

باپ مختلف رشتوں کو ریجیکٹ کرتا رہاکیونکہ لڑکی بہت زیادہ تعلیم یافتہ تھی اورلڑکے والے مالی حالات میں کمزور تھے۔ جو بڑے اسٹیٹس والے رشتے آتے وہ پھر ایک سکیورٹی گارڈ کے گھر میں رشتہ کرنے کو گوارا نہ کرتے۔ یوں ایک ایک کر کے موقع ہاتھ سے نکلتا گیا، اور لڑکی تیس سال کی عمر کے قریب پہنچ گئی۔ اس عمر تک پہنچ کر لڑکی کو اس بات کا احساس ہوا کہ اگر اسی ضد، اسی نہج اور اسی غلط امید پر والدین ڈٹے رہے تو اس کی پوری زندگی انتظار میں گزر جائے گی، اور شاید زیادہ عمر گزرنے سے اُس پر مزید دروازے بھی بند ہوجائیں۔ تب اُس نے خود ایک فیصلہ لیا ۔ کسی ریفرینس سے ایک اچھا رشتہ دیکھا جو کردار میں اچھا، دین داری میں بہتر اور ذمہ داریوں کے حساب سے کافی سمجھ بوجھ رکھنے والا تھا۔ بات طے ہوئی، بات چیت معقول تھی، اور نکاح ہو گیا۔ آج وہ تین بچوں کی ماں ہے، ذہنی سکون میں ہے، اور اپنے گھر کو محبت سے چلا رہی ہے۔

مگر ستم دیکھئے… والدین اس سے ہمیشہ کے لیے ناراض ہوگئے۔ آخر کیوں؟ کون سا جرم کیا اس نے؟ کیا اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنا جرم ہے؟ کیا سکون چاہنا جرم ہے؟ کیا ایک مناسب رشتہ قبول کرنا جرم ہے؟ ولی کا تو کام تھا کہ بیٹی کے جذبات کو سمجھے، اس کی دلچسپی کو اہمیت دےاور حکمت و صبر کے ساتھ چلے۔مگر ہمارے ہاں مسئلہ الٹا ہے—اگر بیٹی کسی خواہش، رغبت یا دلچسپی کا اظہار کرے تو اُسکو غیرت کے خلاف سمجھ لیا جاتا ہے۔اُسکو پورے معاشرے والے دبانا شروع کردیتے ہیں۔لڑکی کی مرضی کو گناہ بنا دیا جاتا ہے، اس کی رائے کو بغاوت اوراس کی خواہش کو بے حیائی سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ ہزاروں گھروں کی خاموش چیخ ہے جو کسی تک نہیں پہنچتی۔

والدین کی توجہ اور دینی تعلیمات پر عمل کرنا کتنا ضروری ہے؟

یہ ایک تیسرا واقعہ بھی ہمارے معاشرے کی اسی پرانی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے—کہ مرد اپنی بیٹیوں کی رائے کو اہمیت دینا تو دور، اسے پوچھنے تک کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ دو بھائیوں کے درمیان برسوں سے یہ بات خاموشی سے چل رہی تھی کہ بڑے بھائی کا لڑکا چھوٹے بھائی کی لڑکی سے شادی کرے گا۔ نہ کوئی منگنی ہوئی، نہ دعا خیر، مگر اپنی طرف سے ایک “امید” باندھ لی گئی۔ اور ظاہر ہے، اس امید میں بھی کہیں لڑکی کی رائے شامل نہیں تھی۔ اس سے پوچھنا تو جیسے بے غیرتی سمجھا جاتا تھا۔ حالانکہ لڑکی اس رشتے پر دل سے راضی نہیں تھی، مگر کس میں جرات تھی کہ اس کی آواز سنے؟ کون اس کے احساسات کو اہمیت دیتا؟ مردوں کی دنیا میں لڑکی کی خاموشی ہی اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔

پھر کچھ عرصے بعد حالات نے ایک عجیب موڑ لیا۔ بڑے بھائی کا لڑکا والدین کی مرضی کے بغیر، اپنے طور پر ایک مال دار لڑکی سے شادی کر بیٹھا۔ والد بھی پھر اسی فیصلے کے حمایتی بن گئے، حالانکہ پہلے وہی اپنے بھائی کی بیٹی کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ چھوٹے بھائی کو جب یہ سب پتہ چلا تو دل ٹوٹ گیا۔

اور جب بڑے بھائی نے بے پروائی اور تحقیر سے کہا: اب تمہاری بیٹی کا ہم کیا کریں؟ تو یہ الفاظ دل میں تیر کی طرح لگے۔

چھوٹے بھائی نے غصّے میں آکر سوچے بغیر، نتائج کی پروا کیے بغیر، اپنی بیٹی کی شادی جلدی میں بغیر دیکھے اور سوچے سمجھے کردی۔ جو بھی رشتہ ملا انہوں نے اپنی ناک اونچی کرنے کے لئے اور برادری میں بات رکھنے کے لئے فوراً شادی کردی۔

جلد بازی کا انجام ہمیشہ تلخ ہوتا ہے۔ لڑکا خراب نکلا، اس کے رنگ ڈھنگ کچھ ہی عرصے میں کھل کر سامنے آگئے۔ ایک سال کے اندر اندر گھر میں ایسی خوفناک لڑائیاں شروع ہوئیں کہ دیکھنے والے بھی کانپ اٹھے۔ مگر والدین نے پھر بھی اپنی ضد اور انا کی قربانی نہ دی۔ بیٹی کےجذبات کو سمجھتے یا کوئی حکمت عملی اختیار کرتے لیکن الٹا بیٹی کو ہی دبانا شروع کردیا کہ “بساؤ، برداشت کرو، لوگ کیا کہیں گے؟” لڑکی کی زندگی دوزخ بنی رہی، یہاں تک کہ تین سال بعد وہ دو معصوم بچوں کو لے کر طلاق لینے پر مجبور ہوگئی۔

اب یہاں بھی المیہ ختم نہیں ہوتا۔ طلاق کے بعد بھی والدین اُس پر ذہنی ظلم ڈھاتے رہے کہ تم خراب ہو، تم نے گھر نہیں بسایا—معاذ اللہ! حقیقت یہ ہے کہ نہ شادی میں اس کی مرضی پوچھی گئی، نہ رشتہ اس کی خواہش کے مطابق تھا، نہ ماحول اس کے حق میں تھا۔ مگر سزا ساری عمر اسے ملے گی۔ دو بچے بھی اُس نے سنبھالنے ہیں اور اس دکھ کو بھی جھیلنا ہے کہ ان اندھیروں میں پہنچنے کے لئے اُس سے کیا غلطی ہوئی ؟ اسکا جواب کبھی نہیں ملےگا۔میں پھر یہی کہوں گا ولی کا کام تو محبت، ہمدردی، انصاف اور حفاظت تھا—مگر جب وہ دینی اور اسلامی تعلیمات سے دور ہوئے ۔ رشتوں کے بارہ میں اسلامی تعلیمات کو بھلا کر اپنی مرضیوں اور ضد بازیوں اور معاشرہ میں ناک کرنے کے چکروں میں پڑ گئے تو وہ محافظ نہیں بنے، ظالم بن بیٹھے۔

دیہی علاقوں میں غیرت کا مسئلہ کس طرح بربادی پھیلا رہاہے

ایک اور واقعہ سنیے جو ہماری دیہی معاشرت کا نہایت سچا اور دردناک آئینہ ہے۔ ایک گاؤں میں دو خاندانوں کے درمیان رشتہ طے ہوا۔ لڑکی خوب سارا جہیز، مال و دولت اور اپنے گھرانے کی عزت و وقار لے کر سسرال پہنچی۔ چند دن سب اچھا چلا، پھر جیسا کہ ہر گھر میں کبھی نہ کبھی چھوٹی موٹی تلخیاں جنم لیتی ہیں، یہاں بھی کچھ اختلافات پیدا ہوئے۔ لیکن یہ اختلافات اتنے بڑے نہ تھے کہ رشتہ ٹوٹ جائے—مگر مسئلہ اختلاف کا نہیں تھا، مسئلہ غیرت کا بن گیا۔ لڑکی کے والدین اور خاص طور پر بھائیوں کو اپنی حیثیت، اپنے مال اور اپنے “اونچے خاندان” پر بڑا غرور تھا۔ انہوں نے کہا: ہم نے اتنا کچھ دیا ہے، ہماری بہن بہت معزز ہے، اس کے ساتھ کسی کو آواز اونچی کرنے کی بھی اجازت نہیں!” اور یوں انا کے نام پر بہن سے کہہ دیا کہ جب دل چاہے، واپس آجانا۔

کچھ دن بعد جب پھر کسی بات پر جھگڑا ہوا تولڑکی وقتی غصے میں اپنے میکے آگئی۔اب یہاں پر اسکے ولی کو چاہئے تھا کہ کچھ دن بعد جب غصہ ٹھنڈا ہوتا تو سمجھا بجھا کر واپس بھیج دیتے مگر  بھائیوں نے اسے روک کر اپنے گھر میں بٹھا لیا کہ ہم اسے خوش رکھیں گے، اسے کسی کی ضرورت نہیں۔

ادھر شوہر کی غیرت بھی جاگ گئی۔ اس نے سوچا: اگر وہ گھر چھوڑ کر گئی ہے، تو میں کیوں منانے جاؤں؟ یوں دونوں طرف مردوں کی غیرت ٹکرا گئی—اور بیچ میں پِس گئی ایک معصوم عورت۔ چند دن تو سب ٹھیک لگا، مگر پھر لڑکی کو احساس ہونے لگا کہ اس کی بھی غلطی تھی، بات چھوٹی تھی اور اُس نے غلطی کردی کہ گھر چھوڑ کر واپس آگئی۔ لیکن اس احساس کا فائدہ تب ہوتا جب اسکے والدین، بھائیوں یا کسی بڑے میں دینی تعلیمات اور اسلامی احکامات کا شعور ہوتا۔ وہ کسی مفتی یا کسی عالم سے پوچھ کر اپنا مسئلہ حل کرواتے اور محبت بھرے انداز میں اپنے داماد سے بات کر کے رشتہ جوڑ دیتے۔ مگر افسوس… لڑکی کو گھر بیٹھے ہوئے اب تین سال گزر چکے ہیں، نہ تو طلاق ہوئی، نہ شوہر نے دوسری شادی کی، نہ لڑکی گھر لوٹ سکی۔

شوہر کی انا اسے روکتی ہے، کہ اگر وہ گئی ہے تو اب خود آئے۔ اور بھائیوں کی غیرت انہیں روکتی ہے کہ ہم اپنی بہن کو واپس نہیں بھیجیں گے، یہ ہماری شان کے خلاف ہے۔ نتیجہ؟ ایک معصوم لڑکی تین سال سے لٹکی ہوئی ہے—نہ شادی شدہ، نہ طلاق یافتہ۔ ایک ادھورا رشتہ، ایک ٹوٹا ہوا گھر، ایک برباد زندگی۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس لیے اولیاء کو عورتوں کا وکیل بنایا گیا تھا؟ کیا وکالت کا مطلب یہ تھا کہ مرد لوگ عورتوں سے بھی زیادہ جذباتی، انا پرست اور بے وقوف بن کر بیٹھ جائیں؟ کیا اللہ نے مرد کو قوتِ فیصلہ اس لیے دی تھی کہ وہ ہر بات غیرت، انا اور ضد میں تولےدینی تعلیمات اور اسلامی احکامات کو پس پشت ڈال دے؟ ہر جگہ اپنی مرضی تھوپتاپھرے؟۔ولی کا کام گھر بسانا تھا، توڑنا نہیں۔ رشتے جوڑنا تھا، گنوانا نہیں۔ جذبات کو سنبھالنا تھا،مزید  بھڑکانا نہیں۔ مگر جب مرد اپنی غیرت اور انا  کو عقل پر غالب کر لیتا ہے تو پھر اُسکی ماتحت عورتیں برباد ہوتی ہیں اور اس چیز کا قیامت کے دن اُس سے سخت سوال ہوگا کہ جو تمہارے پاس امانت تھی اُسکے ساتھ تم نے ظلم کیوں کیا؟

کم از کم اتنا ظرف تو ایک مرد میں ہونا ہی چاہئے

معاشرے کے انہی بگڑے ہوئے حالات کو دیکھ کر دل میں شدت سے یہ احساس جاگا کہ اس موضوع پر لکھا جائے، کیونکہ اگر ہم اسلامی تعلیمات کو صحیح طور پر نہ سمجھیں گےاور ان پر عمل نہ کریں گے تو پھر ایک وقت آئے گا کہ غیر مسلم اقوام ہمارا مذاق اڑائیں گی اور ہمارا خاندانی نظام سکون کی بجائے مظالم کا گڑھ جائیگا۔اسلام نے جو مقام ولی کو دیا تھا، وہ ایک بہت بھاری امانت تھی۔ مگر جب ہم نے اسکو اپنی زر خرید سمجھ لیا اور اُسکو اپنا محکوم بنا کر ظلما حکومت شرو کردی تو ہماری کوتاہی نے نہ صرف ہماری بچیوں کی زندگیاں متاثر کیں بلکہ ہمارے دین کی بھی بدنامی ہوئی۔

اسی معاشرے میں بہت سارے روشن کردار بھی ملتے ہیں جنہوں نے ولی ہونے کا حق ادا کیا۔ میں خود ایک بزرگ کو جانتا ہوں جن کی بیٹی کا شوہر اکثر غصے میں اسے ڈانٹ دیتا تھا، اور کبھی کبھار تو ناراض ہوکر اسے میکے چھوڑ جاتا تھا۔ ایسی جگہ والدین چاہتے تو ایک لمحے میں غصہ اور غیرت کو بہانہ بنا کر رشتہ توڑوا دیتے، مگر اس بڑے دل والے شخص نے ایسا نہیں کیا۔ وہ خود جا کر داماد کو مناتے، نرمی اور حکمت سے بات سمجھاتےاور بیٹی کو اسی کے گھر پہنچا کر آتے۔ ان کا یہ رویہ معاشریہ کے لئے عقل اور خیرخواہی کا نمونہ تھا۔ کم از کم اتنا ظرف ہر مرد میں ہونا چاہیے کہ وہ عورتوں کی طرح جذباتی ضد نہ پالے—کہ “ہم یوں ہیں، ہم ووں ہیں”—بلکہ بڑائی یہ ہے کہ انا کو چھوڑ کر بھلائی اختیار کی جائے۔ اپنی بیٹی کی عزت اسی میں ہے کہ اس کا گھر بسایا جائے، نہ کہ اپنی ضد میں اس کی زندگی تباہ کر دی جائے۔ اورمرد کا وقار اس میں ہوتا ہے کہ وہ ٹوٹے ہوئے رشتے کو جوڑنے والا ہو، نہ کہ اپنی غیرت کے پردے میں تعلقات کو نیست و نابود کرنے والا۔ ورنہ پھر حالات اتنے خراب ہو جاتے ہیں کہ فقہائے کرام کو مجبورا یہ فتویٰ دینا پڑتا ہے کہ اگر کوئی لڑکی ولی کی مظالم سے تنگ آکر خود نکاح کر لے تو اس کا نکاح درست ہو جائے گا۔ یہ فتویٰ ہمارے لیے خوشخبری نہیں، بلکہ ایک تنبیہ ہے—کہ جب ولی اپنی ذمہ داری چھوڑ دیتا ہے، تو شریعت بھی  پھر مظلوم لڑکی کو متبادل راستہ فراہم کرکے جینے کا حق دیتی ہے۔

معاشرہ میں شعور وآگہی کے لئے ایک لازمی کتاب

اوپر بیان کی گئی ساری باتوں پر اگر کھلے دل سے غور کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ مسئلہ لڑکیوں کا نہیں، اصل خرابی خود ہماری سوچ اور ہمارے رویّوں میں ہے۔ اس بات کو عام کرنا ہوگا کہ والدین ولایت کے نام پر مالک نہیں بن سکتے، انہیں امانت دار، مشیر اور خیرخواہ بننا ہوگا۔ آج کے دور میں، جب فتنوں کی کثرت ہے، سوشل میڈیا کی یلغار ہے، اور رشتوں کی نوعیت بدل رہی ہےتو اب دینی احکام کو مزید گہرائی میں سمجھنا اور مسلسل رہنمائی لیتے رہنا پہلے سے بہت زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ ۔

گھر کی 4 دیواری میں یہ ظلم خاموشی سے ہورہا ہے 2
گھر کی 4 دیواری میں یہ ظلم خاموشی سے ہورہا ہے 2

اسی لئے والدین اپنی ذمہ داریوں کو صرف اپنی سمجھ کے مطابق طے نہ کریں بلکہ علمائے کرام اور اہلِ خیر سے مشورہ کرتے رہیں، دل نرم رکھیں، سوال پوچھنے میں جھجک محسوس نہ کریں اور اپنی اولاد کے مستقبل پر رائے قائم کرنے سے پہلے دین کی رائے معلوم کریں۔ اسی ضرورت کو سامنے رکھ کر میں ایک نہایت اہم کتاب کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس میں والدین کی ذمہ داریاں دورِ حاضر کے مسائل، حالات اور ذہنی کیفیات کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں۔ اس کتاب کی تفصیلات آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:۔
https://kitabfarosh.com/product/dhwz/
آپ اسے گھر بیٹھے، پورے پاکستان میں (کتاب فروش آن لائن بک اسٹور سے)کہیں بھی منگوا سکتے ہیں، مگر یہ محض ایک “کتاب خریدنے” کا مسئلہ نہیں، یہ ایک سوچ اپنانے کا سوال ہے۔ آج کے والدین کے لیے، اور خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو بیٹیوں کے نکاح، گھر بسانے اور رشتے طے کرنے کے فیصلوں میں شامل ہوتے ہیں، یہ کتاب پڑھنا انتہائی ضروری ہے۔ یاد رکھیں کہ  بیٹی کی شادی کوئی رسم نہیں،صرف بارات کا نام نہیں یا کچھ فنکشنوں کا نام نہیں ہے—بلکہ یہ اُس کی پوری زندگی کا سوال ہے، اُس کے آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop