کام ٹھیک نہیں لیکن پھر بھی کرنا پڑرہا ہے؟
افادات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی
معاشرے کے حالات اور لوگوں کے طرزِ عمل پر تنقید کا سب سے خطرناک اور نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کو خود اپنی غلط کاری کے لئے وجہ جواز بنالیا جاتا ہے چنانچہ یہ فقرہ بکثرت سننے میں آتا رہتا ہے کہ ’’یہ کام ٹھیک تو نہیں ہے لیکن زمانے کے حالات کو دیکھتے ہوئے کرنا ہی پڑتاہے‘‘۔
اگر ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ہولناک آگ بھڑک رہی ہو، اور ہم یقین سے جانتے ہوں کہ اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو یہ پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی تو کیا پھر بھی ہمارا طرز عمل یہ ہوگا کہ ہم اطمینان سے بیٹھ کر اظہار افسوس کرتے رہیں اور ہاتھ پائوں ہلانے کی کوشش نہ کریں؟ ایسے موقع پر بے وقوف سے بے وقوف شخص بھی آگ کی تفصیلات کو نمک مرچ لگا کر بیان کرنے سے پہلے اسے بجھانے کے لئے فائر بریگیڈ کو فون کرے گا اور خود بھی اسے بجھانے کا جو طریقہ ممکن ہواختیار کرے گا اور اگر آگ بجھتی نظر نہ آئے تو کم از کم خود تو وہاں سے بھاگ ہی کھڑا ہوگا۔لیکن معاشرتی برائیوں کی جس آگ کا تذکرہ ہم دن رات کرتے ہیں عجیب بات ہے کہ اس کے بارے میں ہمارا طرزعمل یہی ہے کہ یہ تذکرہ کرنے کے بعد ہم خود بھی اسی میں کود جاتے ہیں، ہم دن رات رشوت خوروں کوصلواتیں سناتے ہیں لیکن اگر کبھی وقت پڑجائے تو خود رشوت لینے یا دینے میں مبتلا ہوجاتے ہیں، جھوٹ، خیانت اور حرام خوری کی مذمت ہمارے وردِ زبان رہتی ہے، لیکن اگرکبھی دائو چل جائے تو خود ان برائیوں سے نہیں چوکتے، اور اگر کبھی اس پر اعتراض ہو تو ٹکسالی جواب یہ ہے کہ سارا معاشرہ جس ڈھپ پر چل رہا ہے ہم اس سے کٹ کر کس طرح رہ سکتے ہیں؟
کیا اس طرزِ عمل کی مثال بالکل ایسی نہیں ہے کہ کوئی شخص بھڑکتی آگ کو دیکھ کر خود اس میں چھلانگ لگادے؟
از کتاب : دور حاضر کی مشکلات کا حل (از افادات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی)
مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان
