والدین کے لئے ثواب وقف کرنے کا طریقہ

والدین کے لئے ثواب وقف کرنے کا طریقہ

حضرت مولانا سبحان محمود صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ دار العلوم کو رنگی سے شائع ہونے والے ماہنامہ “البلاغ” کی اشاعت خصوصی میں “تعلیمات عارفی” کے عنوان کے تحت حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الحی عارفی کے بارے میں لکھتے ہیں:۔

ڈاکٹر عبدالحی عارفی رحمہ اللہ حقوق کی ادائیگی کا خاص اہتمام فرماتے اور درجہ بدرجہ سب کے حقوق ادا فرماتے رہتے، بل کہ حق سے بہت زیادہ ادا فرما دیتے دعاؤں میں، ایصال ثواب میں اور تبرعات (عطایا) میں حسب مراتب قرب (قریب و دور کے رشتہ کی رعایت کرتے ہوئے) حقوق کی ادائیگی فرماتے۔

ایک مرتبہ فرمایا:۔
۔”میں جب دعائے مغفرت یا ایصال ثواب کرتاہوں، تو سب سے پہلے اپنے والدین کیلئے کرتاہوں، پھر اپنے آباؤ اجداد اور جدات واُمہات (دادیوں، نانیوں) کیلئے، اس کے بعد اپنے اساتذہ اور مشائخ کیلئے، پھر اہل وعیال اور دوسرے رشتہ داروں کے لئے پھر اپنے خدام کے لئے۔ اس کے بعد اپنے خدام سے فرمایا کہ تم بھی اسی طرح کیا کرو”۔

فرمایا کہ ماں باپ کا بڑا حق ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بعد انہی کا حق آتا ہے اور اتنا عظیم حق ہے کہ تمام عمر اخلاص سے ان کی خدمت کرنے اور تمام عمر اُن کے لئے دعائے رحمت ومغفرت کرنے کا باوجود، ان کے حق کا عشر عشیر بھی ادا نہیں ہوتا، اس لئے میں نے اپنی تمام عمر کی مستحب عبادتوں کا ثواب اپنے والدین کیلئے وقف کر رکھا ہے۔

لہٰذا ہونا تو یہی چاہئیے کہ ہم بھی اپنی زندگی کی تمام نفلی عبادتوں کا ثواب اپنے والدین کے لئے وقف کردیں ورنہ کم از کم جتنا ہوسکے والدین کو ایصال ثواب کرتے رہیں۔