عملیات و تعویذات کی اصل حیثیت اور غلط فہمیاں

عملیات و تعویذات کی اصل حیثیت اور غلط فہمیاں

برصغیر ہند و پاک میں عملیات اور تعویذات کے موضوع پر جو تشویش پائی جاتی ہے، وہ محض علمی اختلاف نہیں بلکہ اب عوام الناس میں بھی ایک شدید اختلاف بن چکا ہےجس کی وجہ سے ہر عام آدمی شدید شدید کنفیوژن میں مبتلا ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو ہر قسم کے عملیات، دم، دعا یا تعویذ کو بلا تفریق شرک، کفر اور گمراہی قرار دے دیتا ہے، اور اس شدت میں اتنا آگے نکل جاتا ہے کہ قرآن کی آیات سے دم کرنا یا دعاؤں کو ذریعہ بنانا بھی ان کے نزدیک ناجائز ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو عملیات کو مانتے ہیں ۔ وہ پھر اتنا مانتے ہیں کہ اگر کسی عمل کا اثر ہورہا ہے تو اس میں کفریہ کلمات، جنات سے مدد، غیر اللہ سے فریاد، یا شرکیہ طرزِ عمل شامل ہے  تو بھی اسکو اپنا لیتے ہیں کیونکہ اس کا اثر نظر آرہا ہوتا ہے ۔یہ دونوں طبقے جو شدت پسندی کا شکار ہیں، دونوں ہی غلط ہیں۔اسلامی نقطۂ نظر ان دونوں رویّوں کے درمیان عدل اور میانہ رونہ کا راستہ دکھاتا ہے ۔

قرآن و حدیث سے یہ بات واضح ہے کہ شفا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اور دعائیں، دم اور قرآنی آیات کو بطورِ سبب اختیار کرنا اصل میں ناجائز نہیں ، بس شرط یہ ہے کہ عقیدہ درست رہے۔مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عقیدہ خراب ہو اور ان کاموں کی حدود کا علم نہ ہو۔یہی بے خبری اور اس طرح عقیدے کا ٹھیک نہ ہونا جعلی عاملوں، روحانی باباؤں اور دھوکے باز لوگوں کے لیے بہترین موقع بن جاتا ہے۔ وہ جعلی عامل پھر ایمان، دولت اور سکون تینوں چیزوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

کہیں نامعلوم نقوش، کہیں اجنبی زبانوں کے کلمات، کہیں جنات سے رابطے کے دعوے—یہ سب وہ علامات ہیں اور دوکانداریاں ہیں جنکو نظر انداز کرنے سے آپکا ایمان خطرے میں پڑ سکتا ہے۔خواہ وقتی طور پر آپکو اثرات محسوس ہوں، بیماری ٹھیک ہوجائے یا رُکا ہوا کام فوراً ہوجائے لیکن پھر بھی یہ عامل خطرناک ہیں۔اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ عملیات و تعویذات کو اسلامی تعلیمات، صحیح عقیدے اور عقلِ سلیم کے ترازو میں تولا جائے ۔ جب تک یہ توازن پیدا نہیں ہوگا، تب تک یہ چیزیں عام آدمی کے لئے کنفیوژن کا شکار رہیں گی۔

راہِ اعتدال کو سمجھنا بے حد ضروری ہے

اس مضمون میں راہِ اعتدال کو واضح کرنے کی کوشش اس لیے ضروری ہے کہ عملیات اور تعویذات کے معاملے میں جو فکری انتشار ہند و پاک کے عوام میں پایا جاتا ہےوہ ابہام اور کنفیوژن دور ہوجائے۔ اس موقع پر حکیمُ الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تعلیمات ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی نصیحتیں نہ صرف اسلامی تعلیمات کی صحیح ترجمانی کرتی ہیں بلکہ جادو ٹونہ، عملیات اور روحانی علاج جیسے نازک موضوعات میں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا بھی سکھاتی ہیں۔ ان کا منہج نہ افراط کا شکار ہے اور نہ تفریط کا۔ نہ وہ ہر عملیات کو شرک کہہ کر رد کرتے ہیں، اور نہ ایسی نرمی اختیار کرتے ہیں کہ انسان غیر شرعی، بلکہ کفریہ طرزِ عمل کو بھی “علاج” کے نام پر قبول کر لے۔

حضرت تھانویؒ کے نزدیک اصل مسئلہ عملیات یا تعویذ بذاتِ خود نہیں، بلکہ عقیدہ ہے۔ اگر دل میں یہ یقین بیٹھ جائے کہ نفع و نقصان اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور قرآن، دعا یا دم محض ذریعہ ہیں، تو یہ طریقہ علاج اپنی حدود میں رہتے ہوئے درست ہو سکتا ہے۔ لیکن جیسے ہی انسان تعویذ کو مؤثر بالذات سمجھنے لگتا ہے، عامل کو غیب دان مان لیتا ہے، یا جنات و غیر اللہ سے مدد کا دروازہ کھولتا ہے، وہی عمل شرک، بدعت اور گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے نظر انداز کر کے لوگ یا تو بے جا سختی اختیار کر لیتے ہیں، یا بہت زیادہ نرمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔حکیمُ الامتؒ نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ ہر بیماری کو جادو، ہر رکاوٹ کو بندش، اور ہر ناکامی کو نظرِ بد قرار دینا بھی ایک فکری خرابی ہے۔ اس رویّے سے نہ صرف وہم بڑھتا ہے بلکہ جعلی عاملوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ لوگوں کے خوف سے فائدہ اٹھائیں۔ دوسری طرف، یہ کہنا کہ جادو، سحر یا روحانی آزمائش سرے سے کوئی حقیقت نہیں یہ بھی اسلامی نصوص کے خلاف ہے۔ اسلام ان چیزوں کے وجود کو تسلیم کرتا ہے، مگر ساتھ ہی ان کے بارے میں حدود، احتیاط اور شرعی ضابطے بھی مقرر کرتا ہے—اور یہی اعتدال ہے۔

یہی راہِ اعتدال عام آدمی کو اس الجھن سے نکال سکتی ہے کہ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، کہاں علاج ہے اور کہاں فریب، اور کون سا عمل ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور کون سا اسے کمزور کر دیتا ہے۔ اگر ہم اس مسئلے کو حضرت تھانویؒ جیسے اکابر کی رہنمائی میں سمجھیں تو نہ ہمیں ہر چیز میں شرک نظر آئے گا، اور نہ ہم ہر “اثر” دکھانے والی چیز کے پیچھے اندھا دھند چلیں گے۔

تین اہم تدبیریں یعنی دوا، دعا اور تعویذ

حکیمُ الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی تحریرات اس معاملے میں خاص اہمیت رکھتی ہیں کہ وہ جذبات یا افراط و تفریط کے بجائے روحِ اسلام کے مطابق واضح، متوازن اور قابلِ عمل اصول پیش کرتی ہیں۔ آپؒ نے فضائلِ صبر و شکر میں امراض اور پریشانیوں کے ازالے کے بارے میں جو بات لکھی ہے، وہ دراصل اس پورے مسئلے کا خلاصہ ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ مصیبت، بیماری یا پریشانی کے دور ہونے کی تین تدبیریں ہیں: دوا، دعا اور تعویذ۔ ان میں سے پہلی دو یعنی دوا اور دعا کو آپؒ نے ضروری قرار دیا ہے، جبکہ تیسری تدبیر یعنی تعویذ کو بعض مخصوص حالات میں، بوقتِ ضرورت، جائز کہا ہے۔ یہ چند سطریں دراصل ان دونوں انتہاؤں کا جواب ہیں جن میں آج کا انسان مبتلا ہے۔اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ دوا ہی سب کچھ ہے اور دعا کی کوئی ضرورت نہیں، تو یہ بھی ایک طرح کی فکری کوتاہی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص دعا یا تعویذ کے نام پر دوا، علاج اور تدبیر کو ترک کر دے تو یہ بھی شریعت کے مزاج کے خلاف ہے۔ حکیمُ الامتؒ کی تعلیم یہ ہے کہ اللہ پر توکل دل میں ہو، مگر اسباب اختیار کرنا عمل میں ہو۔ یہی کامل نکتہ ہے۔

یہاں تعویذ کے بارے میں خاص طور پر یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ حضرت تھانویؒ نے اسے نہ تو لازمی قرار دیا اور نہ ہر مرض کا حل بتایا۔ بلکہ صاف الفاظ میں یہ اصول دیا کہ تعویذ کبھی کبھی، بعض امراض میں اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ بات خود بخود واضح ہو جاتی ہے کہ جو لوگ ہر مسئلے کا حل تعویذ کو سمجھ لیتے ہیں، یا ہر شخص کو بندش، جادو اور سحر کا مریض قرار دے دیتے ہیں، وہ دراصل اس اعتدال سے ہٹ چکے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ تعویذ کا نام سنتے ہی اسے شرک یا کفر کہہ دیتے ہیں، وہ بھی  ناواقفیت کا شکار ہیں۔پس جب بھی کوئی مصیبت، پریشانی یا مرض آئے، تو اسلامی طریقہ یہی ہے کہ انسان دعا بھی کرے، دوا بھی کرے، اور اگر واقعی ضرورت ہو تو شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے تعویذ سے بھی فائدہ اٹھا لے۔

جھاڑ پھونک بھی ایک دوائی کی طرح ہیں

یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اسلام نے بعض مواقع پر جھاڑ پھونک کے ذریعے فائدہ ہونے کی حقیقت کو بالکل رد نہیں کیا۔ بعض اوقات واقعی اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور مریض یا پریشان حال شخص کو فائدہ پہنچتا ہے۔ حکیمُ الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے بہشتی زیور میں نہایت سادہ بات لکھی ہے کہ جس طرح بیماری کا علاج دوا سے ہوتا ہے، اسی طرح اکثر جھاڑ پھونک سے بھی ہو جاتا ہے۔ اصل مسئلہ جھاڑ پھونک کے عمل میں نہیں بلکہ اس کے غلط استعمال اور غلط عقیدے میں ہے۔

اگر جھاڑ پھونک قرآن کی آیات، مسنون دعاؤں یا جائز اذکار کے ذریعے ہو، اور دل میں یہ یقین ہو کہ شفا اللہ ہی دیتا ہے، تو یہ دراصل دعا ہی کی ایک صورت ہے۔ لیکن جب یہی جھاڑ پھونک غیر واضح کلمات، نامعلوم زبانوں، جنات سے مدد مانگنے یا عامل کی “خاص طاقت” کے تصور کے ساتھ جڑ جائے، تو پھر یہ عمل اسلام کے مزاج سے ہٹ جاتا ہے۔ یہی وہ باریک فرق  ہے جسے نہ پہچاننے کی وجہ سے لوگ یا تو ہر جھاڑ پھونک کو شرک کہہ دیتے ہیں، یا پھر ماننے لگتے ہیں تو سب کچھ جائز سمجھ لیتے ہیں ۔

یاد رکھیں! اسلام انسان کو یہ نہیں سکھاتا کہ وہ مصیبت یا بیماری آتے ہی گھبرا جائے اور ہر دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دے۔ بلکہ سب سے پہلے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کیا جائے، صبر کے ساتھ حالات کا سامنا کیا جائے، اور مسلسل دعا کو اپنا سہارا بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوا، علاج اور دیگر جائز تدابیر اختیار کی جائیں، کیونکہ شریعت اسباب کو ترک کرنے کا حکم نہیں دیتی۔

اک اور اہم بات کہ بعض لوگ جھاڑ پھونک سے وقتی فائدہ دیکھ کر اسے سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور پھر دوا، ڈاکٹر اور حتیٰ کہ دعا کو بھی غیر ضروری سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ بھی بہت خطرناک ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے اسباب یا ذرائع میں سے کسی ایک ذریعے کو مطلق بنا لینا ایک بہت بڑی فکری خرابی ہے۔ شفا اگر جھاڑ پھونک سے ہو جائے تو بھی شکر اللہ کا ہونا چاہیے، اور اگر دوا سے ہو تو بھی نظر اللہ کی رحمت پر ہی ہونی چاہیے۔پس خلاصہ یہ ہے کہ جھاڑ پھونک اپنی حدود میں ایک جائز ذریعہ ہو سکتا ہے، مگر اسلام کا اصل زور پھر بھی صبر، دعا اور صحیح اسباب پر ہے۔

عملیات و تعویذات کب جائز اور کب ناجائز؟

اب یہاں ایک نہایت بنیادی اور فیصلہ کن سوال پیدا ہوتا ہے کہ عملیات و تعویذات آخر کب جائز ہوتے ہیں اور کب ناجائز؟ اس سوال کا جواب اگر صحیح طور پر سمجھ لیا جائے تو آدھی سے زیادہ غلط فہمیاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کا مختصر مگر جامع جواب یہ ہے کہ عملیات و تعویذات کا تعلق کسی عامل، پیر یا شخصیت سے نہیں بلکہ شریعتِ اسلامیہ سے ہے۔یہ ایک اصولی نکتہ ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ بسا اوقات ایسے عامل بھی موجود ہوتے ہیں جو بظاہر نہایت نیک، متقی، باشرع اور دیندار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی وضع قطع، گفتگو اور ظاہری عبادت دیکھ کر عام آدمی آسانی سے دھوکے میں آ جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بعض ایسے لوگ عملیات کے دوران قصداً یا نادانستہ شیاطین کا سہارا لیتے ہیں، نامعلوم قوتوں سے مدد مانگتے ہیں، یا ایسے کلمات و طریقے اختیار کرتے ہیں جو شریعت کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کا دیا ہوا تعویذشرک اور حرام کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ یعنی اس چیز سے فرق نہیں پڑتا کہ دینے والا کون ہے۔ اگر کلمات اور تعویذات غلط ہیں تو پھر دینے والا خواہ کیسا بھی ہو، یہ غلط ہی ہوگا۔

دوسری طرف اگر کوئی تعویذ یا عمل قرآن، مسنون دعاؤں اور شرعی حدود کے اندر ہے، تو اس کے صحیح ہونے کا دارومدار اس بات پر نہیں کہ بتانے والا مشہور عامل ہے یا نہیں، بزرگ ہے یا نہیں، یا اس کا حلقۂ ارادت کتنا وسیع ہے۔ اگر عمل شریعت کے مطابق ہے، تو وہ بہرحال  جائز ہی ہوگا۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں اثر شخصیت کا نہیں، اصول کا ہوتا ہے۔ یہی بات حکیمُ الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تعلیمات میں بار بار سامنے آتی ہےکہ اصل توجہ ضابطے اور احکامات پر ہونی چاہئے، افراد پر نہیں۔ بس اتنا سا فرق سمجھ لینا چاہیے کہ جائز اور ناجائز کا معیار چہرے نہیں، شریعت ہے۔

یہاں بہت سے لوگ ایک اور غلطی کرتے ہیں: وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اگر کسی تعویذ سے وقتی فائدہ ہو گیا تو وہ لازماً جائز ہے۔ حالانکہ شریعت میں کسی عمل کے درست یا غلط ہونے کا معیار یہ نہیں ہے کہ اُسکا اثر ہورہا ہے۔ بلکہ غیر شرعی ذریعے کا سہارا لے کر کوئی کام بن گیا تو یہ بھی ایک مستقل آزمائش ہوجائیگی۔

تحقیق اور  احتیاط کیوں ضروری ہے؟

یہ نکتہ یاد رکھنا بے حد ضروری ہے کہ اگر کوئی تعویذ یا عمل واقعی دین اور اسلام کے مطابق ہے، یعنی اس کی اصل قرآنِ مجید، صحیح حدیث یا دین کے مسلمہ اصولوں میں موجود ہے، اور اس میں شرک کا ذرہ برابر بھی شائبہ نہیں، تو ایسا عمل کرنا جائز ہوگا۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں لوگ تحقیق کے بغیر ہر عمل اور وظیفہ کو جائزمان لیتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ فلاں بزرگ کا بتایا ہوا عمل ہے۔ لیکن اگر کوئی عمل بظاہر کسی بزرگ کے نام سے مشہور ہو، مگر اس میں غیر واضح کلمات، غیر اللہ سے مدد، جنات یا مخفی قوتوں پر اعتماد، یا ایسے طریقے شامل ہوں جو قرآن و حدیث کے مزاج سے ٹکراتے ہوں، تو وہ عمل بہرحال شرکیہ ہی شمار ہوگا۔ اسلام ہمیں یہ اجازت نہیں دیتا کہ ہم عقیدے کے معاملے میں آنکھیں بند کر کے کسی روایت یا نسبت کو قبول کر لیں، چاہے وہ کتنی ہی مقبول کیوں نہ ہو۔

یہاں ایک نہایت باریک مگر اہم پہلو بھی ہے جسے اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات اکابر اور بزرگ کسی خاص نیت، خاص حال، خاص اخلاص اور خاص فہم کے ساتھ کچھ کلمات پڑھتے ہیں یا کوئی عمل اختیار کرتے ہیں، اور وہ ان کے لیے درست دائرے میں ہوتا ہے۔ مگر جب وہی الفاظ یا طریقہ بغیر اس نیت، بغیر اس فہم اور بغیر اس روح کے عام لوگوں میں پھیل جاتا ہے تو مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ نیت اور اخلاص کوئی تحریری نسخہ نہیں ہوتے جو لفظ بہ لفظ منتقل ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں لوگ افراط کا شکار ہو جاتے ہیں اور ایک محدود، مخصوص عمل کو عمومی اور لازمی بنا لیتے ہیں، جو شریعت کے مزاج کے خلاف ہے۔

اسی لیے اہلِ علم نے ہمیشہ یہ اصول دیا ہے کہ قرآن و حدیث سے ثابت اعمال کو تو پورے اعتماد کے ساتھ قبول کیا جائے، کیونکہ وہاں دین خود ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن بزرگوں کے اقوال، معمولات اور مجربات کے معاملے میں تحقیق، فہم اور احتیاط ضروری ہے۔ اس کا مقصد اکابر کی تنقیص نہیں بلکہ دین کی حفاظت ہے۔ اس توازن کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔پس سچ اور جھوٹ میں فرق کا اصل اصول یہی ہے کہ دین کو دلیل سے سمجھا جائے، شخصیت سے نہیں۔ جو چیز قرآن و حدیث کے مطابق ہو، وہ آنکھیں بند کر کے قبول کی جا سکتی ہے، اور جو چیز صرف کسی نسبت یا مجرب ہونے کے دعوے پر کھڑی ہو، اس پر سوال کرنا، تحقیق کرنا اور پرکھنا عین دینی ذمہ داری ہے۔ یہی احتیاط انسان کو جعلی عملیات، گمراہ کن تعویذات اور عقیدے کو نقصان پہنچانے والے فتنوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

مخفی تعویذات اور پراسرار چیزوں کا معاملہ

عملیات و تعویذات کی بحث میں ایک بڑا معاملہ ہے مخفی تعویذات کا معاملہ۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جو تعویذ اس قدر چھپائے جائیں کہ کسی صورت کسی کو دکھائے ہی نہ جائیں، ان کے بارے میں شریعت سخت احتیاط کی تعلیم دیتی ہے۔ اسلام اندھے اعتماد کا دین نہیں۔ شریعت تو اتنی باریکی کے ساتھ احتیاط کا حکم دیتی ہے کہ عام سے عام کام، جیسے پانی پینا، اس میں بھی یہ تعلیم دی گئی ہے کہ دیکھ کر پیو۔ جب معمولی دنیوی امور میں یہ مزاج ہے تو پھر عقیدے اور دین سے جڑے معاملات میں ہم کسی شخص پر آنکھیں بند کر کے کیسے بھروسا کر سکتے ہیں؟

یہی اصول عملیات و تعویذات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی تعویذ اس درجے مخفی رکھا جائے کہ نہ اس کا مضمون معلوم ہو، نہ اس کے کلمات، اور نہ ہی اس کی نوعیت، تو ایسا تعویذ شرعاً محلِ نظر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں خطرہ یہ ہوتا ہے کہ کہیں اس میں غیر شرعی کلمات، شرکیہ نقوش یا ایسے طریقے شامل نہ ہوں جو عقیدے کو نقصان پہنچا دیں۔ شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ایمان کے معاملے میں حد درجہ محتاط رہے، نہ کہ محض کسی عامل کے دعوے یا ظاہری وضع قطع پر مطمئن ہو جائے۔

البتہ یہاں ایک ضروری بات اور ہے کہ بعض عامل حضرات تعویذوں کو اس نیت سے چھپاتے ہیں کہ ان کا غلط استعمال نہ ہو جائے۔ یہ بات کسی حد تک قابلِ فہم ہے، کیونکہ جیسے ڈاکٹر اور حکیم بعض دواؤں کی ترکیبیں یا طاقتور ادویات عام لوگوں سے چھپا کر رکھتے ہیں، تاکہ کوئی ناسمجھ شخص ان کا غلط استعمال نہ کر لے، اسی طرح بعض تعویذات بھی ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف لٹکانا یا پاس رکھنا مقصود ہوتا ہے۔ اگر کوئی عام آدمی انہیں کھول کر پڑھنے لگے، یا غلط طریقے سے استعمال کرے، تو بعض اوقات اس کے ایسے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جو اس کی برداشت سے باہر ہوں۔

لیکن اس احتیاط کے باوجود ایک بنیادی شرط برقرار رہتی ہے، اور وہ یہ کہ اگر کوئی عامل کسی صورت بھی اپنے تعویذ کو کسی معتبر شخص کو دکھانے پر تیار نہ ہو، تو یہ طرزِ عمل شرعاً درست نہیں رہتا۔ شریعت کا مطالبہ یہ نہیں کہ ہر تعویذ بازار میں عام کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ کم از کم علاقے کے معتبر علمائے کرام، معزز افراد یا کسی مستند مفتی صاحب کو دکھا کر اس کی توثیق کروا لی جائے کہ اس میں کوئی غیر شرعی، شرکیہ یا مشتبہ چیز شامل نہیں۔ اگر ایسا کر لیا جائے تو بھی ٹھیک ہوجائیگا۔

تعویذ کرنے والے عامل بھی ڈاکٹر کی طرح ہیں

ملفوظاتِ حکیمُ الامت میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی یہ بات نہایت غور طلب ہے کہ تعویذ اور علاج میں میرے نزدیک کوئی بنیادی فرق نہیں، دونوں ہی دنیوی فن ہیں۔ حضرتؒ فرماتے ہیں کہ عوام الناس تعویذ اور علاج کے درمیان فرق اس لیے سمجھتے ہیں کہ وہ تعویذ کرنے والے کو فوراً “بزرگ” سمجھ لیتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر کو کبھی بزرگ نہیں کہتے۔ اس فرق کی اصل وجہ یہ ہے کہ لوگ ڈاکٹر کے علاج کو محض دنیوی کام سمجھتے ہیں، اور عامل کے علاج کو دینی کام خیال کر لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں یہ دونوں ہی دنیوی تدبیریں ہیں، اور دونوں میں تاثیر رکھنا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔

یہ بات واضح ہورہی ہےکہ تعویذ یا عملیات کو محض اس بنیاد پر “دینی” سمجھ لینا کہ اس میں قرآن کی آیات یا دعائیں لکھی گئی ہیں، درست طرزِ فکر نہیں۔ کیونکہ دعا خود عبادت ہے، لیکن دعا کو بطورِ علاج استعمال کرنا ایک تدبیر ہے، اور تدبیر دنیوی دائرے میں آتی ہے۔ اسی طرح دوا میں کیمیائی اجزاء ہوتے ہیں، مگر شفا اس میں بھی ذاتی نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر دوا دیتا ہے، عامل تعویذ دیتا ہے، مگر دونوں صورتوں میں اثر پیدا کرنا نہ ڈاکٹر کے اختیار میں ہے اور نہ عامل کے—بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔بس اتنی چھوٹی سی بات سمجھ لینے سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوجائیگا کہ عامل لوگوں کو اتنا زیادہ تقدس نہ دینا چاہئے کہ اُنکی ہر ہر بات کو دینی حکم سمجھ کر عمل کرنا شروع کردیں۔اُنکے سامنے سوال کرنے کو گستاخی سمجھ لیا جائے اور اندھی عقیدت کا درجہ دے دیا جائے۔جعلی عامل لوگوں کو جب ایسا تقدس ملتا ہے تو وہ اپنے آپ کو خاص سمجھ کر دین کو نقصان پہنچاتے ہیں اور عقائد کو خراب کرتے ہیں۔

عملیات و تعویذات کی اصل حیثیت اور غلط فہمیاں 2
عملیات و تعویذات کی اصل حیثیت اور غلط فہمیاں 2
شرعی مفسدہ کا ایک کامل اصول

اب یہاں تک پوری بحث کا خلاصہ اگر ایک اصول میں سمیٹ دیا جائے تو وہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے علاوہ جتنے بھی عملیات و تعویذات نقل کیے جائیں، ان سب کو شرعی مفسدہ کے معیار پر پرکھا جائے گا۔ اگر کسی عمل یا تعویذ میں شریعت کے اعتبار سے کوئی خرابی، شرک کا شائبہ، غیر اللہ پر اعتماد، یا عقیدے کو نقصان پہنچانے والا پہلو پایا گیا تو وہ بلا تردد حرام اور ناجائز ہوگا—خواہ وہ کسی کتنی ہی مشہور کتاب میں لکھا ہو، یا کسی کتنے ہی بڑے بزرگ کی طرف منسوب کیوں نہ کیا جاتا ہو۔ یہ ایک فیصلہ کن اصول ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک عام رجحان یہ بن گیا ہے کہ لوگ عملیات و وظائف کی کتابیں خریدتے ہیں، انہیں بغیر رہنمائی کے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں، اور جہاں کوئی وظیفہ نظر آیا، اسے فوراً تبرک سمجھ کر اختیار کر لیتے ہیں۔ اس رویّے میں نیت بظاہر اچھی ہوتی ہے، مگر طریقہ درست نہیں ہوتا۔ ہر لکھی ہوئی بات عمل کے قابل نہیں ہوتی، اور ہر چھپی ہوئی تحریر دین نہیں بن جاتی۔ عملیات کا تعلق چونکہ براہِ راست عقیدے سے جڑ جاتا ہے، اس لیے یہاں احتیاط عام عبادات سے کہیں زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔ ایسی کتابیں خریدنے اور پڑھنے سے پہلے سوچ بچار، تحقیق اور اہلِ علم سے رہنمائی بے حد ضروری ہے۔ ورنہ نادانستہ طور پر انسان ایسے اعمال میں مبتلا ہو سکتا ہے جو فائدہ کے بجائے نقصان کا سبب بن جائیں۔

یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم نے ہمیشہ یہ تلقین کی ہے کہ عام آدمی خود ساختہ وظائف اور غیر مستند عملیات کے پیچھے نہ پڑے۔اگر کوئی شخص واقعی قرآن و حدیث کے دائرے میں رہتے ہوئے وظائف اور عملیات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو دو کتابیں بطور مثال قابلِ ذکر ہیں۔ ایک کتاب مجرباتِ اکابر ہے، جس میں بڑی حد تک قرآن و حدیث سے ماخوذ اعمال جمع کیے گئے ہیں، اور دوسری کتاب اعمالِ قرآنی ہے جو حکیمُ الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی مرتب کردہ ہے۔ ان کتابوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں غلو، عجیب و غریب دعوے اور مشتبہ طریقے کم سے کم ہیں، اور اصل توجہ دعا، ذکر اور قرآنی اعمال پر مرکوز ہے۔

کچھ سوالوں کے جواب ڈھونڈ لینا ضروری ہے

یہ بات بھی پوری وضاحت کے ساتھ سمجھ لینی چاہیے کہ اوپر جن دو کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہ بلاشبہ زیادہ مستند محسوس ہوتی ہیں، مگر اسکے علاوہ اور بھی جتنی کتابیں ہیں اُنکے لئے بھی ایک اصول یاد رکھیں ۔ہر کتاب، ہر وظیفہ اور ہر عمل احتیاط کا محتاج ہے۔ صرف یہ بات کہ کسی کتاب میں وظائف لکھے ہوئے ہیں، یا وہ وظائف پڑھ کر “اثر” محسوس ہوتا ہے، یا وہ دل کو اچھے لگتے ہیں—یہ سب باتیں کسی عمل کے جائز ہونے کی دلیل نہیں بن سکتیں۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ مگر نہایت واضح مثال کافی ہے۔ اگر کوئی ہندو مصنف ایک ایسی کتاب لکھ دے جس میں کچھ ٹوٹکے ہوں، چند مخصوص الفاظ ہوں جن کے پڑھنے سے سر درد ٹھیک ہو جاتا ہو یا وقتی فائدہ حاصل ہو جاتا ہو، تو کیا محض یہ اثر اس بات کے لیے کافی ہوگا کہ ہم ان الفاظ کو جائز قرار دے دیں؟ یقیناً نہیں۔ ایک مسلمان کے لیے صرف فائدہ دیکھ لینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ یہ دیکھنا بھی لازم ہے کہ یہ فائدہ کس ذریعے سے حاصل ہو رہا ہے اور اس کے پیچھے کون سا عقیدہ اور کون سا تصور کارفرما ہے۔

اسی لیے ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ وظائف اور عملیات کی کتاب لیتے وقت چند بنیادی سوالات ضرور ذہن میں رکھے۔ مثلاً
کیا اس کتاب کا لکھنے والا مسلمان ہے یا نہیں؟
جو عمل بتایا جا رہا ہے، کیا اس کی بنیاد قرآن و حدیث میں موجود ہے ؟
یا کم از کم اسلامی اصولوں سے ٹکراتی نہیں؟
کیا اس عمل میں کسی شرعی مفسدے، شرک، بدعت یا غیر اللہ سے مدد مانگنے کا شائبہ تو نہیں؟
اور سب سے اہم یہ کہ کیا یہ عمل ایمان کی حفاظت کے لئے خطرہ تو نہیں ہے؟
بعض اوقات غلط راستے سے بھی وقتی فائدہ مل جاتا ہے، مگر وہ فائدہ دراصل  اک آزمائش ہوتاہے۔ اسی لیے اہلِ علم نے ہمیشہ یہ اصول بتایا ہے کہ جو چیز شریعت کے خلاف ہو، اسے محض فائدہ یا تجربے کی بنیاد پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

قرآن وحدیث کے وظائف میں بھی سوال؟

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض لوگ عملیات و تعویذات میں اتنی زیادہ احتیاط اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ رفتہ رفتہ وہ قرآن و حدیث پر بھی سوال اٹھانے لگتے ہیں۔ یہاں ایک  اور اصول سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ شریعت نے جہاں کسی چیز پر اندھے اعتماد سے روکا ہے، وہیں اکثر مقامات پر بلا وجہ شکوک اور شبہات سے بھی روکا ہے۔اس بات کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی وظیفہ حدیثِ شریف میں ثابت ہے، اور کسی بزرگ یا اہلِ علم نے اس کے پڑھنے کی تعداد یا وقت مقرر کر دیا ہے، تو اس پر بلا وجہ اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ تعداد شریعت میں اضافہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ قاری کی سہولت کے لیے مقرر کی ہے، تاکہ یہ وسوسے پیدا نہ ہوں کہ کب پڑھوں، کیسے پڑھوں اور کتنی بار پڑھوں۔ ایسے تعین کو اہلِ علم نے تدبیری حیثیت دی ہے، نہ کہ اسے اصل دین یا واجب سمجھا ہے۔

اگر کوئی شخص اس تعداد کی پابندی نہ بھی کرے اور اپنی سہولت کے مطابق پڑھ لے، تب بھی اصل عمل باقی رہتا ہے۔ لیکن عام آدمی کے لیے بہتر یہی ہوتا ہے کہ وہ اہلِ علم اور بزرگوں کی بتائی ہوئی ترتیب پر عمل کر لے، کیونکہ اس میں ذہنی یکسوئی بھی ہوتی ہے اور تسلسل بھی۔ اس معاملے میں حد سے زیادہ سوالات کرنا، مثلاً یہ کہ فلاں عدد کیوں رکھا گیا یا فلاں وقت کیوں مقرر کیا گیا، اکثر غیر ضروری سختی میں شمار ہوجاتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر یہ کہا جائے کہ سورۃ القریش فقر و فاقہ کے لیے مجرب ہے، اور کوئی بزرگ یہ مشورہ دے دے کہ ہر نماز کے بعد اسے گیارہ مرتبہ پڑھ لیا جائے، تو یہاں اصل چیز یہ دیکھنی ہے کہ یہ قرآنی عمل ہے اور اس میں کوئی شرعی مفسدہ موجود نہیں۔ اب اگر کوئی اس پر یہ اعتراض شروع کر دے کہ گیارہ ہی کیوں، یا نماز کے بعد ہی کیوں، تو یہ اعتراض اپنی اصل میں غیر ضروری ہو جاتا ہے، کیونکہ نہ اس عدد کو فرض کہا جا رہا ہے اور نہ اسے دین کا لازمی حصہ بنایا جا رہا ہے۔

البتہ اگر کوئی شخص اس عمل کے ساتھ ایسی شرطیں لگا دے جو شریعت سے ثابت نہیں، مثلاً یہ کہ فلاں شخص کو جا کر تھپڑ مارو، یا ایک بکرے کو ذبح کرو، اور پھر پندرہ سو مرتبہ سورۃ القریش پڑھو، تو یہ بات محلِ اعتراض بن جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز بذاتِ خود ایک ثابت شدہ عبادت ہے، جبکہ بکرا ذبح کرنا مستقل عبادت نہیں بلکہ ایک مباح عمل ہے جس کی اجازت تو ہے مگر حکم نہیں۔ جب کسی قرآنی عمل کے ساتھ ایسی غیر متعلق اور غیر ثابت چیزیں جوڑ دی جائیں تو وہاں شرعی مفسدہ کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔جب انسان اس فرق کو سمجھ لیتا ہے تو نہ وہ ہر چیز پر شک کرتا ہے، اور نہ ہر بات کو بلا سوچے سمجھے قبول کر لیتا ہے۔ یہی وہ فہم ہے جو اعتدال کی راہ دکھاتا ہے، اور یہی وہ معیار ہے جس سے عملیات و وظائف کے صحیح اور غلط ہونے کو پرکھا جا سکتا ہے۔

کتاب فروش سے کتابیں منگوانا بہت آسان ہے

اوپر پوری بحث کے تناظر میں اگر کوئی قاری واقعی اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ وہ عملیات، وظائف اور قرآنی اعمال کے معاملے میں راہِ اعتدال اختیار کرنا چاہتا ہے—نہ افراط، نہ تفریط—تو اس کے لیے سب سے اہم قدم مستند کتاب کا انتخاب ہے۔ جیسا کہ واضح کیا جا چکا ہے، ہر کتاب، ہر وظیفہ اور ہر عمل قابلِ اعتماد نہیں ہوتا، چاہے وہ کتنا ہی مشہور کیوں نہ ہو۔ اسی لیے مضمون میں جن دو کتابوں کا بار بار ذکر کیا گیا ہے، یعنی اعمالِ قرآنی (حکیمُ الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ) اور مجرباتِ اکابر، وہ اس اعتبار سے زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد محسوس ہوتی ہیں کہ ان میں غلو، عجیب و غریب طریقے اور مشتبہ اعمال کم سے کم ہیں، اور اصل توجہ قرآن، دعا اور اسلامی اصولوں پر مرکوز ہے۔

اگر آپ ان کتابوں کو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں تو مزے کی بات یہ ہے کہ اب آپ کو مختلف جگہوں پر ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ دونوں کتابیں آپ کتاب فروش آن لائن بک اسٹور سے باقاعدہ آرڈر کر سکتے ہیں۔ کتاب فروش ایک آن لائن کتب خانہ ہے جہاں دینی، اصلاحی اور علمی کتب بہترین سروس کے ساتھ دستیاب ہیں۔

Idara Taleefat E Ashrafia
مجربات اکابر

اگر آپ اعمالِ قرآنی کو آرڈر کرنا چاہتے ہیں تو اس کی مکمل تفصیل اور طریقۂ آرڈر اس لنک پر ملاحظہ کر سکتے ہیں:۔
https://kitabfarosh.com/product/aeq/

اسی طرح مجرباتِ اکابر کو منگوانے کے لیے یہ لنک دیکھ لیجیے:۔
https://kitabfarosh.com/product/mar/

مزید یہ کہ اگر آپ انکے علاوہ اور کتب کی فہرست بھی دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ لنک دیکھئے:۔ https://kitabfarosh.com/shop

ایک اور سہولت جو خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، وہ یہ کہ اگر کسی کو ویب سائٹ کے ذریعے آرڈر کرنے میں کوئی مشکل پیش آئےتو کتاب فروش نے واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔ آپ براہِ راست اس نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں:۔
WhatsApp # 03450345581

یا اس لنک کے ذریعے:۔
http://wa.me/923450345581

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop