افسر کو خوش کرنے کے لئے جھوٹی تعریف کرنا گناہ ہے

افسر کو خوش کرنے کے لئے جھوٹی تعریف کرنا گناہ ہے

عاصم بن محمد روایت کرتے ہیں: چند لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے کہنے لگے کہ ہم سب اپنے بادشاہ (اعلیٰ افسران، مالک یا پھر اعلیٰ حکام ) کے پاس جاتے ہیں تو اُن کے سامنے (تعریفی کلمات اور اُن کو خوش کرنے کے لئے ) ایسی باتیں کہتے ہیں جو حقیقت نہیں ہوتیں پھر جب وہاں سے باہر آتے ہیں تو اُس کے اُلٹ کہتے ہیں۔
۔( یعنی وہاں جھوٹی تعریف کرتے ہیں یا صرف ایسی باتیں کرتے ہیں جو افسر کو اچھی لگتی ہوں پھر باہر آ کر اُن کی برائی کرتے ہیں ) تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ایسا شخص منافق ہے۔
۔((مفہوم حدیث : ۶۷۰۹، باب ما یکرہ من ثناء السطان ، صحیح البخاری ))۔

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop