Table of Contents
شیخ التفسیر والحدیث مولانا ادریس کاندھلوی
شیخ التفسیر والحدیث مولانا محمد ادریس کاندھلوی (1317ھ–1974ء) برصغیر کے وہ جلیل القدر محقق، مفسر اور محدث ہیں جنہوں نے دارالعلوم دیوبند اور مظاہر علوم سہارنپور کے علمی چشموں سے سیراب ہو کر معارفِ قرآنی اور علومِ حدیث کو فکری استدلال بخشا۔ آپ اشرف علی تھانوی اور انور شاہ کشمیری رحمہم اللہ تعالیٰ کے ممتاز شاگرد اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے بانی شیخ الحدیث تھے۔
علمی تاریخ میں بعض شخصیات محض کتابوں کے راوی نہیں ہوتیں بلکہ خود علم کا چلتا پھرتا استعارہ بن جاتی ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کی علمی، تفسیری اور حدیثی تاریخ میں شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کا نام ایک روشن مینار کی طرح قائم ہے۔ آپ کی ولادتِ باسعادت 12 ربیع الثانی 1317ھ بمطابق 1899ء ریاست بھوپال میں ہوئی، جبکہ آپ کا اصل آبائی وطن علم و حکمت کا گہوارہ قصبہ کاندھلہ (مظفر نگر، یوپی) تھا۔ آپ پیدائشی طور پر ایک علمی اور روحانی فضا کے پروردہ تھے۔ باطنی طہارت اور تزکیۂ نفس کا یہ عالم تھا کہ بچپن ہی میں قطب الارشاد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ تعالیٰ سے بیعت و شرفِ ارادت حاصل تھا، جس نے آپ کے ظاہر و باطن کو صاحبِ نسبت بزرگ کی صورت میں نکھار دیا۔
تعلیم کی ابتدائی منزلوں میں ہی آپ کو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے زانوئے تلمذ کی سعادت نصیب ہوئی، جہاں سے دینی فہم کی پختہ بنیاد رکھی گئی۔ اس کے بعد آپ نے ایشیا کے عظیم اسلامی علمی مرکز مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کا رخ کیا، جہاں تفسیر، حدیث، فقہ، علمِ کلام، منطق اور فلسفہ جیسے نازک اور عمیق علوم میں کامل دسترس حاصل کی۔ محض 19 برس کی نوعمری میں تمام مروجہ دینی فنون سے فراغت پا لینا آپ کی غیر معمولی ذہانت اور فقید المثال حافظے کا بین ثبوت تھا۔ علم کی پیاس اس پر بھی نہ بجھی؛ چنانچہ فکری جلا اور فنِ حدیث کی مزید باریکیوں کو سمیٹنے کے لیے آپ دارالعلوم دیوبند پہنچے اور وہاں ازسرِنو دورۂ حدیث مکمل کیا۔
دارالعلوم دیوبند اور مظاہر علوم میں آپ کو اپنے عہد کے نابغۂ روزگار اساتذہ کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ نے شیخ الہند کے فیض یافتگان، علامہ انور شاہ کشمیری کے بحرِ زخار، علامہ شبیر احمد عثمانی کی قرآنی بصیرت، مفتی اعظم ہند مفتی عزیز الرحمن عثمانی کی فقہی نزاکتوں، شیخ الحدیث مولانا خلیل احمد سہارنپوری کے تبحرِ حدیث، حافظ عبد اللطیف، مولانا ثابت علی اور میاں اصغر حسین دیوبندی جیسے اساطینِ علم سے براہِ راست کسبِ فیض کیا۔ ان جلیل القدر شیوخ کی صحبت نے آپ کے اندر وہ نقد و نظر پیدا کیا جو بعد ازاں آپ کی تصانیف اور تفسیری خدمات میں پوری تابانی کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔
فراغت کے فوراً بعد 1921ء میں آپ کی مسندِ تدریس کا باقاعدہ آغاز مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلوی کے قائم کردہ مدرسہ امینیہ دہلی سے ہوا، جہاں آپ نے ایک سال تک تشنگانِ علم کو فیض یاب کیا۔ اس کے بعد مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند نے اپنے اس لائق فرزند کو گلے لگایا، جہاں مسلسل نو برس تک آپ درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ دارالعلوم کے بعد حیدرآباد دکن کا علمی افق آپ کا منتظر تھا، جہاں اگلے نو سال تک آپ نے تصنیف و تالیف اور تدریس کے چراغ جلائے۔ 1939ء میں دارالعلوم دیوبند نے آپ کو باوقار منصب “شیخ التفسیر” سونپ کر دوبارہ مدعو کیا۔ یہاں آپ نے تفسیر بیضاوی، تفسیر ابن کثیر، سنن ابی داؤد اور امام طحاوی کی معرکۃ الآراء کتاب ‘مشکل الآثار’ کے وہ محققانہ دروس دیے جن کی گونج پورے برصغیر میں سنی گئی۔
فکری اعتبار سے آپ دو قومی نظریہ کے غیر متزلزل حامی اور تحریکِ پاکستان کے سچے ہمدرد تھے۔ اسی دینی اور نظریاتی جذبے کے تحت 1949ء میں آپ نے پاکستان ہجرت فرمائی۔ دو برس تک آپ جامعہ عباسیہ بہاولپور میں بحیثیت ‘شیخ الجامعہ’ تشریف فرما رہے، جس کے بعد آپ لاہور تشریف لائے اور مرکزی دینی درسگاہ جامعہ اشرفیہ میں مسندِ شیخ الحدیث کی زینت بنے۔ تا دمِ زیست آپ اسی مسند سے علومِ نبوی کا نور لٹاتے رہے، اور آپ کا یہ دورِ تدریس پاکستان میں دینی علوم کے عروج کا روشن باب ثابت ہوا۔

شاہکارِ سیرت نگاری: سیرۃ المصطفیٰ ﷺ
حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی کی تالیف ‘سیرۃ المصطفیٰ ﷺ’ روایتی سیرت نگاری کے بجائے محدثانہ نقد اور کلامی استدلال کا بے مثال شاہکار ہے۔ یہ کتاب تین ضخیم جلدوں میں نسبِ نبوی، مکی عہد کی کشمکش، مدنی ریاست کے تشریعی و عسکری احکام، اور وفات و دلائلِ نبوت جیسے بنیادی ایمانی مباحث کا احاطہ کرتی ہے۔
اردو زبان کے سیرت کے ذخیرے میں حضرت کاندھلوی کی تصنیف ‘سیرۃ المصطفیٰ ﷺ’ محض تاریخی واقعات کا خام اندراج نہیں، بلکہ حدیث، فقہ اور کلام کی روشنی میں لکھا گیا ایک پختہ اور جامع علمی دستاویز ہے۔ اس تالیف کا خاص امتیاز یہ ہے کہ مصنف نے مغرب زدہ اذہان کے شکوک اور مستشرقین کے پیدا کردہ اوہام کو دلائلِ قاہرہ کے ساتھ زائل کیا۔ مصنف نے اولین جلد میں نبی اکرم ﷺ کے سلسلۂ نسبِ اطہر اور آپ کے آباء و اجداد کے مختصر اور مستند حالات سے آغاز کیا۔ اس کے بعد واقعہ اصحابِ فیل، حضور ﷺ کی ولادتِ باسعادت، اور معجزۂ شقِ صدر کی حقیقت، اسرار و حکمتوں کو قرآنی و روائی ثبوتوں سے اجاگر کیا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے عقدِ مبارک، تعمیرِ کعبہ کے موقع پر آپ کی تاریخی تحکیم، بدءِ وحی اور تباشیرِ نبوت کے ایمانی احوال اس پہلی جلد کی علمی جان ہیں۔ اس کے ساتھ نبوت کی عقلی و نقلی حقیقت، السابقون الاولون کی قربانیاں، اعلانِ دعوت، معجزۂ شقِ القمر، ہجرتِ اولیٰ (حبشہ)، عام الحزن کی کیفیات، سفرِ طائف کی صبر آزما آزمائشیں، واقعۂ معراج کی کائناتی وسعتیں، یثرب میں اسلام کے اولین نقوش، ہجرتِ مدینہ، تحویلِ قبلہ کا شرعی حکم اور نمازِ عید الفطر و عید الاضحیٰ کے اولین نفاذ تک کا مکمل احاطہ نہایت فصاحت و بلاغت سے کیا گیا ہے، جس کی بدولت یہ تصنیف ایک معتبر سنگ میل بن چکی ہے۔
کتاب کی دوسری جلد مدنی دور کے سیاسی، ریاستی، اور عسکری پہلوؤں کے تشریعی تجزیے کے لیے وقف ہے۔ اس جلد کے بنیادی اور حساس مباحث میں جہاد فی سبیل اللہ کا فلسفہ، غزوات و سرایا کی جنگی حکمتِ عملی اور ان کے ایمانی اثرات شامل ہیں۔ یہیں پر ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نزولِ برأت اور قرآن مجید میں ان کی طہارت کے نصوص کی تفصیلی وضاحت موجود ہے۔ اسلامی معاشرت کی اصلاح کے سلسلے میں حکمِ حجاب کی حدود اور احکام، بادشاہانِ عالم کے نام دعوتی خطوط کے فکری و سفارتی زاویے، جدید دور میں موضوعِ بحث بننے والے اسلام اور مسئلۂ غلامی کی حقیقت، اور صلحِ حدیبیہ کے دور رس نتائج کو دقیق اور غیر جانبدارانہ محدثانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
تیسری جلد خاتم الانبیاء ﷺ کے عہدِ نبوت کے عروج، ریاستی غلبے اور تشریعی تکمیل کی تفصیلات کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس میں فتحِ مکہ کے فقید المثال واقعات، حرمتِ متعہ کے حتمی احکام، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا امیرِ حج مقرر ہونا، اور حجۃ الوداع کا وہ آفاقی خطبہ درج ہے جو انسانی حقوق کا کامل منشور ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی علالت کے ایام، نماز کی امامت کے لیے حضرت ابو بکر صدیق کا تقرر، وصالِ نبوی کا غم ناک لمحہ، اور سقیفہ میں بیعتِ ابو بکر صدیق کے نازک معاملات کو عقلی و روائی دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔ اسی جلد میں ازواجِ مطہرات کی حیاتِ طیبہ، تشبہ بالکفار کی فقہی و تہذیبی حقیقت، اور دلائلِ نبوت کے باب میں جملہ معجزات کے ساتھ سابقہ آسمانی صحائف میں درج بشارات کا تقابلی مطالعہ درج ہے، جو اس کتاب کو سیرت کا لازوال علمی شاہکار بناتا ہے۔

تالیف کا محرک:۔
مولانا ادریس کاندھلوی نے ‘سیرۃ المصطفیٰ ﷺ’ مغربی مرعوبیت اور فکری معذرت خواہی کے رد میں تالیف فرمائی۔ ان کا بنیادی منہج سیرت نگاری کو غیر مستند تاریخی قصوں کے بجائے صحیح احادیثِ نبویہ اور محدثانہ طرزِ استدلال پر استوار کرنا ہے، جس میں کسی فلسفی کے دباؤ پر نصوص کی باطل تاویل نہیں کی گئی۔
بیسویں صدی کے اوائل میں جب برصغیر میں مغربی سامراجیت کے ساتھ جدید فلسفے، سائنس اور مستشرقین کے پیدا کردہ فکری فتنوں نے سر اٹھایا، تو سیرت نگاری کا ایک بڑا حصہ دفاعی اور معذرت خواہانہ انداز اختیار کر گیا۔ پڑھے لکھے طبقے کو مطمئن کرنے کے چکر میں کئی مصنفین نے آیات و احادیث کو کھینچ تان کر یورپی افکار کے تابع کرنا شروع کر دیا، گویا وحیِ الٰہی کی حقانیت کے لیے جدید مغربی تہذیب کی سند درکار ہو۔ اسی فکری انتشار کے بیچ حضرت کاندھلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے غیر متزلزل دینی غیرت اور علمی بصیرت کے ساتھ میدان سنبھالا۔ آپ نے برملا اعلان کیا کہ وہ ایک ایسی سیرت لکھنا چاہتے ہیں جو ایک طرف ضعیف، من گھڑت اور بے سروپا روایات سے پاک ہو، اور دوسری طرف کسی مغربی فلاسفر یا سائنسدان کے رعب میں آ کر نہ نصوص کی ناروا تاویل کی جائے اور نہ ہی کسی صحیح حدیث کو چھپانے یا اس کے راویوں پر بلاوجہ جرح کرنے کی کوشش کی جائے۔
اس شاہکار تصنیف کا سب سے بڑا امتیازی وصف اس کا خالص محدثانہ ماخذ ہے۔ عمومی تاریخی کتب کے برعکس، جن کی بنیاد محض تاریخی اخباریات اور واہیات پر ہوتی ہے، مولانا کاندھلوی نے اپنی تالیف کا قصر بنیادی طور پر احادیثِ نبویہ صحیحہ پر تعمیر کیا۔ آپ کا مؤقف اٹل تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کا اصل اور مستند ترین سرمایہ احادیث کا ذخیرہ ہے، اس لیے کسی تاریخی واقعے کو قبول کرنے سے پہلے اسے روایت و درایت کی کڑی شرائط پر پرکھا جانا چاہیے۔ اردو زبان کے جامے میں ہونے کے باوجود اس کتاب کا طرزِ استدلال، اندازِ بیان اور کلامی وزن بعینہٖ عربی زبان کی امہات الکتب (جیسے علامہ ابن قیم کی ‘زاد المعاد’ اور علامہ ابن کثیر کی ‘البدایہ والنہایہ’) جیسا متین اور ٹھوس ہے، جو قاری کو براہِ راست سلف صالحین کے علمی منہج سے جوڑ دیتا ہے۔
جہاں عصری فکری مرعوبیت کے زیرِ اثر بعض سیرت نگار نازک اور معجزاتی مقامات پر خاموشی سادھ لیتے تھے یا تاویلاتِ فاسدہ کا سہارا لیتے تھے، وہیں مولانا کاندھلوی نے حیرت انگیز جراتِ تحقیق کا مظاہرہ کیا۔ مثال کے طور پر، واقعۂ ‘شقِ صدر’ پر جب فکری لرزہ طاری سیرت نگار الجھن کا شکار نظر آتے ہیں، کاندھلوی صاحب نے اس واقعے کو صحاحِ ستہ کی صحیح روایات، جلیل القدر صحابہ کے تواتر اور ایمانی بصیرت کی روشنی میں اس کی تمام تر تشریحی، روحانی اور کلامی باریکیوں سمیت واضح اور مبرہن کر دیا۔ کتاب کا ایک ایک لفظ یہ گواہی دیتا ہے کہ مصنف نے عقل کو نقل کے تابع رکھا ہے، نہ کہ نقل کو بے بنیاد عقلی قیاسات کی بھینٹ چڑھایا ہے۔ یہ کتاب دفاعی معذرت خواہی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی اور اس نے اردو سیرت نگاری کو ایک وقار، خود اعتمادی اور نا قابلِ تسخیر علمی بنیاد فراہم کی۔
نیا اور سہولت والا ایک جلد ایڈیشن:۔
سیرۃ المصطفیٰ ﷺ’ روایتی طور پر تین الگ جلدوں میں شائع ہوتی رہی ہے، تاہم کتاب فروش نے قارئین کی سہولت اور سفری آسانی کے پیشِ نظر اسے باریک، معیاری کاغذ اور یک جائی مجلد ایڈیشن میں انتہائی مناسب قیمت پر قارئین کے لیے پیش کیا ہے تاکہ اس عظیم تصنیف کا مطالعہ ہر سنجیدہ قاری کے لیے ممکن ہو سکے۔
ایک شاہکار تصنیف کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ علم دوست قاری کے ہاتھ میں نہ صرف اپنے علمی وقار کے ساتھ آئے بلکہ اس کا مطالعہ روزمرہ کی زندگی میں سہل، خوشگوار اور دسترس میں بھی ہو۔ ‘سیرۃ المصطفیٰ ﷺ’ اپنے وسیع علمی مباحث کی بدولت اصولی طور پر تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ایک مفصل علمی دائرۃ المعارف ہے، جس کے باعث اکثر مطالعہ کے شائقین اور طلبہ کے لیے تینوں جلدوں کو بیک وقت ساتھ رکھنا یا مسلسل دورانِ سفر مطالعہ کرنا خاصا دشوار ہو جاتا تھا۔ اگرچہ ماضی میں کراچی کے ایک معروف مکتبہ نے اس علمی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے تینوں جلدوں کو یکجا کر کے ایک ہی جلد کے اعلیٰ ایڈیشن میں طبع کیا، جسے عوامی اور علمی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی ملی۔ البتہ دبیز اور بھاری آرٹ نما کاغذ کے استعمال نے اس مجموعے کے وزن کو اتنا بڑھا دیا کہ کتاب کو ہاتھ میں سنبھال کر طویل نشستوں میں یکسوئی سے پڑھنا قارئین کے لیے ایک باقاعدہ مشقت بن گیا تھا۔
قارئین کی اسی عملی الجھن اور مطالعے کی ترجیحات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کتاب فروش نے اس شاندار تصنیف کا ایک بے حد سمارٹ، خوبصورت اور ہلکے وزن کا یک جائی ایڈیشن منتخب کیا ہے۔ اس خصوصی نسخے میں نفیس، پائیدار اور پتلے قرآن پیپر کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی بدولت تینوں جلدوں کا پورا متن بغیر کسی تلخیص یا حذف و اضافے کے ایک ہی مضبوط جلد میں سمو دیا گیا ہے۔ صفحات باریک ہونے کی وجہ سے نہ صرف اس کا وزن انتہائی متوازن اور ہاتھ میں سنبھالنے کے لیے ہلکا پھلکا ہے، بلکہ اس کی قیمت بھی روایتی اور مہنگے ایڈیشنز کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر مناسب اور ہر بجٹ سے ہم آہنگ ہے۔ اگر آپ اس شاہکار کو اپنے کتب خانے کی زینت بنانا چاہتے ہیں تو براہِ راست
https://kitabfarosh.com/product/seerat-e-mustafa-idrees-kandhalvi/
پر جا کر اس کی مزید تفصیلات دیکھ سکتے ہیں اور با آسانی گھر بیٹھے اپنا آرڈر محفوظ کر سکتے ہیں۔
مارکیٹ میں اس کتاب کے درجنوں متفرق ایڈیشنز، طباعتیں اور سائز دستیاب ہیں۔ لیکن یہ یک جائی ایڈیشن آپ کے لیے سب سے بہترین اور موزوں ترین انتخاب ثابت ہوگا۔ نبی کریم ﷺ کی پاکیزہ حیات، اخلاق اور شمائل پر لکھی گئی دیگر کتب کی ایک وسیع دنیا کے لیے
https://kitabfarosh.com/Category/kitabfaroshbooks/genre-of-books-kitabfarosh/seerat-un-nabi-books/
کا انتخاب آپ کی علمی پیاس کو مزید جلا بخشے گا۔
KitabFarosh ka youtube channel Zaroor Follow kar lyn. Shukriya
https://www.youtube.com/@Kitabfarosh

سوال 1: مولانا محمد ادریس کاندھلوی کون تھے اور ان کا علمی پس منظر کیا ہے؟
جواب: مولانا محمد ادریس کاندھلوی (1899ء–1974ء) برصغیر کے نامور محقق، مفسر اور محدث تھے۔ آپ دارالعلوم دیوبند اور مظاہر علوم سہارنپور کے فاضل اور علامہ انور شاہ کشمیری و مولانا اشرف علی تھانوی کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے “شیخ التفسیر” رہے اور بعد ازاں قیامِ پاکستان کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور کے بانی شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے۔
سوال 2: کتاب “سیرۃ المصطفیٰ ﷺ” کا بنیادی امتیاز اور منہج کیا ہے؟
جواب: اس تصنیف کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ روایتی تاریخی قصوں یا اخباریات کے بجائے خالص صحیح احادیثِ نبویہ اور محدثانہ و کلامی استدلال پر مبنی ہے۔ اس میں مغربی مرعوبیت اور فکری معذرت خواہی سے ہٹ کر اسلامی عقائد، معجزات (جیسے شقِ صدر اور شقِ القمر) اور تاریخی واقعات کو روایت و درایت کے کڑے اصولوں پر پرکھ کر پیش کیا گیا ہے۔
سوال 3: “سیرۃ المصطفیٰ ﷺ” کتنی جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں کن موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے؟
جواب: یہ کتاب بنیادی طور پر 3 ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے:۔
جلد اول: نسبِ اطہر، ولادت، شقِ صدر، بعثت، مکی زندگی کی دعوتی جدوجہد، معراج اور ہجرتِ مدینہ تک کے احوال۔
جلد دوم: مدنی دور کے سیاسی و عسکری احکام، غزوات کا فلسفہ، نزولِ برأتِ عائشہؓ، حکمِ حجاب، مسئلۂ غلامی اور صلحِ حدیبیہ۔
جلد سوم: فتحِ مکہ، حجۃ الوداع، وصالِ نبوی، بیعتِ سقیفہ، ازواجِ مطہرات کی سیرت اور دلائل و معجزاتِ نبوت کا تقابلی جائزہ۔
سوال 4: مولانا کاندھلوی نے یہ کتاب کن اسباب اور فکری محرکات کے تحت لکھی؟
جواب: بیسویں صدی میں جدید فلسفے اور مستشرقین کے اثرات کے باعث بعض سیرت نگار دفاعی اور معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے نصوص کی باطل تاویلات کرنے لگے تھے۔ مولانا کاندھلوی نے اس فکری انتشار کے رد میں یہ کتاب لکھی تاکہ ضعیف و موضوع روایات سے پاک، مضبوط محدثانہ بنیادوں پر مبنی اور بلا مرعوبیت سیرت نگاری کا وقار بحال کیا جا سکے۔
سوال 5: کتاب فروش کا پیش کردہ “یک جائی ایڈیشن” پرانے یا روایتی ایڈیشنز سے کس طرح مختلف اور بہتر ہے؟
جواب: عام طور پر یہ کتاب 3 الگ اور بھاری جلدوں میں دستیاب ہوتی ہے جسے سنبھالنا یا سفر میں پڑھنا دشوار ہوتا ہے۔ کتاب فروش کے یک جائی ایڈیشن میں نفیس اور پتلا “قرآن پیپر” استعمال کیا گیا ہے، جس سے تینوں جلدوں کا مکمل متن بغیر کسی اختصار یا حذف کے ایک ہی ہلکی، مضبوط اور دیدہ زیب جلد میں سمو دیا گیا ہے، اور اس کی قیمت بھی کافی مناسب ہے۔
سوال 6: “سیرۃ المصطفیٰ ﷺ” کا یہ نیا یک جائی نسخہ آن لائن کیسے خریدا جا سکتا ہے؟
جواب: آپ کتاب فروش کی آفیشل ویب سائٹ کے پروڈکٹ لنک (https://kitabfarosh.com/product/seerat-e-mustafa-idrees-kandhalvi/) پر جا کر باآسانی آرڈر بک کر سکتے ہیں۔

