ایک صحابیہ کا انوکھا انداز محبت نبوی کا

ایک صحابیہ کا انوکھا انداز محبت نبوی کا

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حکم دیا کہ وہ جہاد کی تیاری کریں ۔ مدینہ کے ہر گھر میں جہاد کی تیاریاں زور پر تھیں ۔ ایک گھر میں ایک صحابیہ اپنے معصوم بچے کو گود میں لئے زار و قطار رورہی تھی ۔ اسکے خاوند پہلے کسی جہاد میں شہید ہوگئے تھے ۔ اب گھر میں کوئی بھی ایسا مرد نہ تھا جس کو وہ تیار کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں بھیجتی ۔ جب بہت دیر تک روتی رہی اور طبیعت بھر آئی تو اپنے معصوم بیٹے کو سینے سے لگایا اور مسجد نبوی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئی ۔
اپنے بیٹے کو نبی علیہ السلام کی گود میں ڈال کر کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے بیٹے کوجہاد کے لئے قبول فرمائیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیران ہو کر فرمایا : یہ معصوم بچہ جہاد میں کیسے جا سکتا ہے ؟ ۔
وہ رو کر کہنے لگے کہ میرے گھر میں کوئی بڑا مرد نہیں ہے کہ جس کو بھیج سکوں ۔ آپ اسی کو قبول فرمالیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ بچہ کیسے جہاد کرے گا ؟ ۔
وہ صحابیہ کہنے لگیں کہ میرے اس بچے کو کسی ایسے مجاہد کے حوالے کردیجئے جس کے ہاتھ میں ڈھال نہ ہو تاکہ جب وہ مجاہد کفار کے مقابلے کے لئے جائے اور کفار تیروں کی بارش برسائیں تو وہ مجاہد تیروں سے بچنے کے لئے میرے بیٹے کو آگے کردے ۔ میرا بیٹا تیروں کو روکنے کے کام آسکتا ہے ۔
سبحان اللہ !۔
ایسی مثالیں پوری تاریخ انسانیت بھی پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ کہ عورت اور ماں جیسی شفیق ہستی فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو سن کر اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے اتنی بے قرار ہوئی ہو کہ معصوم بچے کو شہادت کے لئے پیش کررہی ہے ۔

از کتاب : واقعات خواتین صفحہ نمبر 154۔