اس طریق میں راہبر کامل کے بغیر قدم نہ رکھے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ یہ طریقِ اصلاح بہت نازک چیز ہے ، ہر شخص کی سمجھ میں نہیں آ سکتا جیسے طبیب ِ جسمانی کا علاج ہر شخص کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ اس وقت کتابوں کے مطالعہ کر لینے کو لوگ بڑا کمال اور منتہائے معراج سمجھتے ہیں ، اگر ایسا ہی ہے تو طب کے اندر بھی تو کتابیں مدون ہیں ، ان کو دیکھ کر امراضِ جسمانی کا علاج کیوں نہیں کر لیتے۔ سو جیسے وہاں خود علاج نہیں کر سکتے یہاں بھی نہیں کر سکتے ، جیسے وہاں طبیب ِ جسمانی کی ضرورت ہے ایسے ہی یہاں طبیب ِ روحانی کی ضرورت ہے۔ آخر دونوں میں فرق کیا ہے ذرا میں بھی سننے کا مشتاق ہوں۔ میں اس وقت ان لوگوں کے متعلق بیان کر رہا ہوں جو اس راہ میں قدم رکھنا چاہتے ہیںوہ ذرا کان کھول کر سن لیں ۔ میں بقسم عرض کرتا ہوں کہ کمال کبھی بدون ماہر سے حاصل کیے نہیں پیدا ہو سکتا ۔ جو خود بخود اس راہ کو طے کرنا چاہتے ہیں سخت دھوکہ میں ہیں، سخت غلطی میں ہیں اور اس غلطی کی بدولت ہزاروں اپنی جانیں دے بیٹھے۔ اس راہ میں راہبر کی ضرورت ہے اور راہبر بھی کامل راہبر۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۱۴۸)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں
