Table of Contents
کفایۃ المفتی: برصغیر کے فقہی ذخائر، منہجِ افتاء اور معاصر شریعت سازی کا مستند ترین انسائیکلوپیڈیا
برصغیر پاک و ہند کی علمی و فقہی تاریخ میں کفایۃ المفتی کو ایک بنیادی مرجع اور سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں جب نوآبادیاتی تسلط، صنعتی انقلاب کے نوخیز مظاہر اور مغربی قوانین کے نفاذ نے مسلم معاشرت کو گہرے فکری و شرعی اضطراب سے دوچار کیا، تب دار الافتاء امینیہ دہلی کی مسندِ افتاء سے صادر ہونے والے ان فتاویٰ نے امت کی فکری رہنمائی کا بیڑا اٹھایا۔ یہ محض فقہی جزئیات کا روایتی ملخص نہیں بلکہ مفتیِ اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ کے پچاس سالہ فقہی تجربات، اجتہادی بصیرت اور بالغ نظری کا عملی نچوڑ ہے۔
شائقینِ علومِ شریعت اور اہلِ تحقیق کفایۃ المفتی کے مطالعے سے یہ حقیقت بخوبی جان سکتے ہیں کہ کس طرح فقہ حنفی کے متون، شروح اور فتاویٰ کی روشنی میں دورِ جدید کے الجھے ہوئے معاشی، عائلی اور سیاسی قضیوں کا توازن اور اعتدال کے ساتھ حل تلاش کیا گیا۔
تاریخی پس منظر اور سببِ تالیف
کفایۃ المفتی برصغیر میں برطانوی استعمار کے دور میں پیدا ہونے والے تمدنی تعطل، عائلی تنازعات اور فقہی خلا کو پر کرنے کے لیے مرتب کیا گیا مستند فتاویٰ کا مجموعہ ہے، جس میں مفتی کفایت اللہ دہلوی نے فقہ اسلامی کو روایتی جمود سے نکال کر عصری مسائل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔
سقوطِ دہلی اور سلطنتِ مغلیہ کے خاتمے کے بعد برصغیر کا مسلم معاشرہ اچانک ایسے قانونی اور معاشرتی نظام کے روبرو کھڑا ہوا جس کی باگ ڈور غیر مسلم حکمرانوں کے ہاتھ میں تھی۔ قضا اور محاکمِ شرعیہ کا ادارہ ختم ہو چکا تھا، جس کے نتیجے میں نکاح، طلاق، ارتداد، فسخِ نکاح اور وقف جیسے بنیادی معاملات میں شدید شرعی بحران پیدا ہو گیا۔ اس نازک تاریخی موڑ پر مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی نے دہلی جیسے سیاسی و علمی مرکز میں مسندِ افتاء سنبھالی۔
اس تالیف کا بنیادی محرک وہ بے شمار استفسارات تھے جو برصغیر کے طول و عرض، برما، جنوبی افریقہ اور خلیجی ریاستوں سے روزانہ مفتی صاحب کی خدمت میں موصول ہوتے تھے۔ سائلین میں جید علمائے کرام، عام مسلمان، معاشی تاجر اور سیاسی رہنما سبھی شامل تھے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان بکھرے ہوئے قیمتی فتاویٰ کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور فقہی ابواب کی باقاعدہ ترتیب کے مطابق مدون کیا جائے تاکہ دار الافتاء سے وابستہ مفتیانِ کرام اور محاکمِ شرعیہ کے قضاۃ کے لیے ایک ٹھوس رہبر دستاویز تیار ہو سکے۔ چنانچہ مفتی صاحب کے تلامذہ اور بالخصوص ان کے قابل فرزند حفیظ الرحمن واصف دہلوی نے ان اوراق کو مرتب کیا، جس کے نتیجے میں یہ ضخیم فقہی دستاویز معرضِ وجود میں آئی۔

منہجِ تصنیف اور کفایۃ المفتی کا فنی و اسلوبی امتیاز
اس کتاب کا منہجِ افتاء فقہ حنفی کے ظاہر الروایہ، مفتیٰ بہ اقوال اور معتبر شروح کے گہرے استحضار پر استوار ہے، جس میں لفظی اطناب اور غیر ضروری طوالت کے بجائے مختصر، جامع، برہانی اور تسلی بخش اسلوب کو فوقیت دی گئی ہے۔
علامہ شامی کی ’رد المحتار‘ یا ’فتاویٰ عالمگیری‘ کی ضخامت کے مقابلے میں مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ کا طریقہ کار نہایت منفرد اور وقت کے تقاضوں کے عین مطابق تھا۔ آپ نے قیل و قال کے غیر مفید مباحث سے گریز کرتے ہوئے مسئلہ کا براہِ راست، دو ٹوک اور فیصلہ کن حکم تحریر فرمایا۔
۔۱. اصل ماخذ سے استدلال اور تحقیقی مآخذ
مفتی صاحب نے ہر فتوے کی بنیاد فقہ کے امہات الکتب پر رکھی۔ الہدایہ، المبسوط للسرخسی، بدائع الصنائع، البحر الرائق، اور شامی کے نصوص کو سیاق و سباق کی باریک بینی کے ساتھ نقل کیا گیا۔ جہاں نص صریح موجود نہ ہوتی، وہاں فقہی قواعد (القواعد الفقہیہ) اور عرفِ عام کی روشنی میں تخریج فرماتے۔
۔۲. اعتدال، یسر اور دفعِ حرج
آپ کے فتاویٰ کی امتیازی شان یہ ہے کہ آپ نے تشدد اور بے جا سختی سے اجتناب برتا۔ شریعت کا بنیادی مقصد انسانوں سے تنگی دور کرنا ہے؛ چنانچہ نکاح، طلاق اور عائلی احکام میں آپ نے حنفی فقہ کے وسیع تر دائرے اور بعض مقامات پر دیگر ائمہ کے موافق اقوال سے حنفی اصولوں کی حدود میں رہتے ہوئے استفادہ کرنے کی راہیں تجویز کیں، جس نے فسخِ نکاح کی متنازعہ بحثوں میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔
۔۳. اختصارِ معجز اور ادبی شائستگی
مفتی صاحب کی زبان اردو کا اعلیٰ ترین شستہ نمونہ ہے۔ نہ تو اس میں فقہی اصطلاحات کا ایسا بوجھل پن ہے جو عام قاری کو الجھا دے، اور نہ ہی اتنی سادگی کہ فتوے کی علمی ہیبت مجروح ہو۔ ہر فقرہ نپا تلا، تعبیر ریاضیاتی انداز میں واضح، اور استدلال غیر مبہم ہوتا ہے۔
تفصیلی مشتملات اور ابواب کا موضوعاتی جائزہ
یہ تصنیف پانچ ضخیم مجلدات میں منظم ہے، جس کا احاطہ عقائد و بدعات سے لے کر عبادات، عائلی قوانین، بیوع و معاملات، اوقاف، اور جدید سیاسی و اجتماعی مسائل تک کے ہزاروں نادر احکام پر محیط ہے۔
کتاب کی اندرونی تقسیم فقہی کتب کے روایتی ابواب کی ترتیب پر نہایت سہل اور منطقی انداز میں کی گئی ہے:۔
کفایۃ المفتی (پانچ جلدوں کا موضوعاتی تناظر)
جلد اول و دوم: عقائد، ایمانیات، سنت و بدعت، اور طہارت و نماز
جلد سوم: زکوٰۃ، صوم، حج، اور احکامِ جنائز
جلد چہارم: نکاح، طلاق، خلع، حضانت، اور عائلی تنازعات
جلد پنجم: بیوع، شرکت، مضاربت، اوقاف، اور جدید معاملات
جلد اول و دوم: عقائد، سنت و بدعت، اور نظامِ عبادات
ایمانیات و کلامی مباحث: اس حصے میں ختمِ نبوت، ردِ قادیانیت، اور مغربی ملحدانہ افکار کے رد پر ٹھوس عقلی و نقلی دلائل فراہم کیے گئے ہیں۔
رسومات و بدعات کا سدِ باب: برصغیر میں مروج غیر شرعی میلوں، تعزیہ داری اور عرس کی شرعی حیثیت کا کڑا تنقیدی جائزہ۔
کتاب الطہارۃ والصلوٰۃ: نجاستوں کے احکام، طہارت کے جدید ذرائع (جیسے نل کا پانی، مشینی فلٹر)، امامت کی شرائط، اور جماعت کے نزاعی مسائل کے قطعی جوابات
جلد سوم: سماجی تکافل اور مالی عبادات
زکوٰۃ و صدقات: مالِ تجارت کے تعین، کاغذی کرنسی (نوٹ) کی شرعی حیثیت، شیئرز اور فیکٹریوں کی پیداوار پر زکوٰۃ کا وجوب۔
احکامِ صیام و حج: مشینی سفر (ریل، بحری جہاز اور ہوائی جہاز) کے ذریعے حدودِ میقات، حجِ بدل اور مشتبہ ایام کے روزوں کی شرعی تحقیق۔
جنائز و تدفین: لاوارث اموات، مشترکہ قبرستان اور میت کے ترکے سے متعلقہ حقوق کی وضاحت۔
جلد چہارم: عائلی قوانین اور تحفظِ حقوقِ نسواں
نکاح و کفاءت: کفو کے معتبر اصول، ولی کی اجازت، اور جبری نکاح کے بطلان کی تفاصیل۔
طلاق و تفریق: تین طلاق کا شرعی حکم، حالتِ نشہ و غصہ میں طلاق کا وقوع، اور خلع کے شرائط و حدود۔
مفقود الخبر شوہر کے احکام: یہ وہ تاریخی باب ہے جس نے آگے چل کر برصغیر میں ’حیلہ ناجزہ‘ جیسے تاریخی دستاویز کی تدوین میں بنیاد فراہم کی، تاکہ مظلوم خواتین کے نکاح فسخ ہو سکیں۔

جلد پنجم: معاشی لین دین، اوقاف اور معاصر مسائل
کتاب البیوع: سودی نظام کے مقابل اسلامی بیع، بیعِ فاسد، اور مارکیٹ کے جدید تجارتی معاہدات۔
وقف و مساجد: اوقاف کے تحفظ، متولی کی ذمہ داریوں، اور متنازعہ زمینوں پر تعمیرِ مساجد کے احکام۔
سیاسی و اجتماعی استفسارات: نوآبادیاتی عدالتوں میں گواہی، غیر مسلم حکومتوں کے ماتحت ملازمت، اور قومی تحریکوں میں شرکت کی شرعی حدود۔
اشاعتی خصوصیات اور فنی جائزہ
مکتبہ امدادیہ کا شائع کردہ یہ پانچ جلدوں پر مشتمل نسخہ اعلیٰ معیار کے عمدہ کاغذ، واضح کتابت، اور مضبوط جلد بندی کے ساتھ 1898 صفحات پر پھیلا ہوا ہے، جو علمی اداروں اور مفتیانِ کرام کے طویل مدتی استعمال کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔
کسی بھی علمی ماخذ کی افادیت کا انحصار اس کی طباعتی صحت اور متنی درستی پر بھی ہوتا ہے۔ کفایۃ المفتی کا یہ مستند ایڈیشن اپنے ظاہری حسن اور باطنی تدوین دونوں اعتبار سے اعلیٰ درجے پر فائز ہے۔
| تکنیکی و اشاعتی صفت | تفصیلی وضاحت |
| مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ | مصنف |
| مکتبہ امدادیہ (Maktaba Imdadia) | ناشر |
| 5 مکمل اور ضخیم جلدیں | تعدادِ مجلدات |
| 1898 صفحات | کل صفحات کی تعداد |
| تقریباً 7 کلوگرام | مجموعی وزن |
| مضبوط اور پائیدار ہارڈ کور (Hard Cover) | جلد بندی کی قسم |
| Normal Paper Quality | کاغذ کا معیار |
| واضح، خوانا اور اغلاط سے پاک کتابت | رسم الخط و طباعت |
| ہر جلد کے آغاز و اختتام پر موضوعاتی اور تفصیلی فہرستِ مضامین | فنی اشاریہ سازی |
یہ ایڈیشن اس لحاظ سے لائقِ ستائش ہے کہ اس میں فقہی حوالہ جات کو الگ قوسین میں محفوظ کیا گیا ہے، جس سے محققین کو اصل مآخذ کی طرف رجوع کرنے میں غیر معمولی آسانی رہتی ہے۔

یہ تصنیف کن قارئین کے لیے ناگزیر ہے؟
یہ مجموعہ مفتیانِ کرام، قضاۃ، دار الافتاء کے تخصص کے طلبہ، محققین اور وکلاء کے لیے ایک حتمی گائیڈ ہے، جبکہ گھریلو زندگی اور کاروباری لین دین کو شریعت کے مطابق ڈھالنے والے سنجیدہ قارئین کے لیے عملی رہبر ہے۔
یہ فقہی انسائیکلوپیڈیا معاشرے کے درج ذیل طبقات کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے:۔
مفتیانِ عظام اور دار الافتاء کے محققین: جنہیں روزمرہ فتاویٰ کی تحریر میں ظاہر الروایہ کی تطبیق اور معاصر احوال کے تقابل کے لیے ایک معتدل و ثقہ ماخذ درکار ہوتا ہے۔
تخصص فی الفقہ والافتاء کے طلبہ: جو فتویٰ نویسی کا سلیقہ، عبارت کی بندش، سوال کی تفتیش اور سائل کی نفسیات کے مطابق جواب کی ساخت سمجھنا چاہتے ہیں۔
اسلامی قوانین کے ماہرین اور وکلاء: جو عائلی عدالتوں، وقف کے جھگڑوں اور وراثت کی تقسیم میں مستند حنفی موقف کو عدالتی کارروائیوں میں پیش کرنے کے متمنی ہیں۔
مدارس و جامعات کے اساتذہ: جن کے زیرِ مطالعہ ہدایہ، کنز الدقائق اور نور الایضاح جیسی کتب ہیں، تاکہ وہ طلبہ کو تدریس کے دوران ان متون کی عملی تطبیق برصغیر کے تناظر میں دکھا سکیں۔
شریعت کے باشعور متلاشی: وہ اصحاب جو اپنی ذاتی عبادات، گھریلو معاملات اور کاروباری آمدن کو شبہات سے پاک رکھنے کے لیے معتبر فقہی فیصلوں کے متلاشی رہتے ہیں۔
کتاب فروش پر اعتماد اور خریداری کی رہنمائی
کتاب فروش ملک بھر میں علمائے کرام اور شائقینِ کتب کو سو فیصد مفت ہوم ڈیلیوری اور پیشگی محفوظ ادائیگی کے ذریعے پانچ جلدوں پر مشتمل مکمل کفایۃ المفتی باحفاظت فراہم کر رہا ہے۔
دینی اور علمی کتب کے حصول میں قارئین کو سب سے بڑا چیلنج طباعت کے اصل نسخے کی تلاش، اوراق کی درستگی اور محفوظ ترسیل کا درپیش ہوتا ہے۔ کتاب فروش نے اپنی علمی خدمات کی بنیاد امانت داری، شفافیت اور پختہ پیشہ ورانہ نظم پر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کے ہزاروں مطمئن اہلِ علم، اساتذہ اور محققین کا پختہ اعتماد ہمارے ساتھ وابستہ ہے۔
ہماری پالیسی اور ترسیل کی سہولیات
۔100% مفت ہوم ڈیلیوری: پاکستان کے کسی بھی کونے میں، چاہے وہ بڑا شہر ہو یا دور دراز کا قصبہ، یہ سات کلوگرام وزنی ضخیم فقہی سیٹ بغیر کسی اضافی کرائے یا شپنگ چارجز کے آپ کی دہلیز تک پہنچایا جاتا ہے۔
محفوظ پیشگی ادائیگی (صرف ایڈوانس ادائیگی): کتاب فروش پر کیش آن ڈیلیوری کی سہولت میسر نہیں ہے۔ تمام آرڈرز صرف اور صرف پیشگی آن لائن ادائیگی کے تحت بک کیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد نقل و حمل کے نقصانات سے بچاؤ، متوازن ترسیلی عمل اور امانت داری کے ساتھ بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
ترسیل کا دورانیہ: آرڈر کی تصدیق کے بعد کتب کی باحفاظت پیکنگ کر کے 5 تا 7 یومِ کار کے اندر مطلوبہ پتے پر ترسیل مکمل کر دی جاتی ہے۔
آرڈر بک کروانے کا طریقہ کار
آپ اپنی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائٹ کے دیے گئے لنک سے چند آسان مراحل میں خرید سکتے ہیں، یا براہِ راست اپنے موبائل سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں:۔
واٹس ایپ پر فوری رابطہ: آپ اپنا آرڈر ہمارے واٹس ایپ نمبر 03450345581 پر بھی براہِ راست درج کروا سکتے ہیں۔
علمی برادری کے ساتھ جڑیے: ہماری تازہ ترین علمی اشاعتوں، نایاب کتب کے تعارف اور تحقیقی جائزوں کے لیے ہمارے سوشل میڈیا چینلز ملاحظہ فرمائیں:۔
https://www.facebook.com/taleefatفیس بک پیج: ۔
https://www.youtube.com/@Kitabfaroshیوٹیوب چینل: ۔
فقہ و فتاویٰ کی دنیا میں رہنمائی کا یہ بے مثل مینار اپنی ذاتی، خاندانی یا تدریسی لائبریری کا حصہ بنائیے اور اپنے شرعی و فکری سفر کو ٹھوس بنیادوں سے آراستہ کیجیے۔

سوال ۱: کفایۃ المفتی کو برصغیر کے دیگر مجموعہ ہائے فتاویٰ پر کیا فوقیت حاصل ہے؟
جواب: اس مجموعے کا بنیادی امتیاز اس کا بے مثال اعتدال، اختصارِ معجز اور عصری و سیاسی تقاضوں کا گہرا ادراک ہے۔ جہاں دیگر فتاویٰ میں جزئیات کی طوالت یا اختلافی مسائل کا تذکرہ غالب رہتا ہے، وہیں مفتی کفایت اللہ دہلوی کا اسلوب دو ٹوک، عام فہم اور براہِ راست عمل کی رہنمائی پر مبنی ہے، جس کی بنیاد حنفیہ کے راجح اقوال پر رکھی گئی ہے۔
سوال ۲: کیا اس نسخے میں کتاب البیوع کے تحت معاصر معاشی احکام بھی درج ہیں؟
جواب: جی ہاں، اس کی پانچویں جلد میں کاغذی کرنسی، نوٹوں کے تبادلے، تمسکات، ڈاکخانے کے سیونگ سرٹیفکیٹس، کرایہ داری کے معاہدات اور تجارتی کمپنیوں میں شراکت کے ابتدائی اور بنیادی فقہی اصولوں پر سیر حاصل بحث موجود ہے جو آج کے معاشی نظام کو سمجھنے کے لیے سنگِ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔
سوال ۳: کتاب فروش سے منگوائی جانے والی اس اشاعت کے طباعتی خصائص کیا ہیں؟
جواب: یہ نسخہ مکتبہ امدادیہ کا مصدقہ ایڈیشن ہے، جو 5 ضخیم مجلدات، 1898 صفحات اور تقریباً 7 کلوگرام مجموعی وزن پر مشتمل ہے۔ اس کی جلد بندی مضبوط ہارڈ کور میں کی گئی ہے اور اندرونی صفحات کے لیے فائن کوالٹی پیپر استعمال کیا گیا ہے تاکہ طویل ترین مطالعے کے باوجود اوراق محفوظ رہیں۔
سوال ۴: کیا اس کتاب کی زبان مبتدی قارئین کے لیے قابلِ فہم ہے؟
جواب: مفتی صاحب کا قلم نہایت فصیح، سلیس اور شائستہ اردو ادب کا شاہکار ہے۔ اگرچہ اس میں فقہی اصطلاحات موجود ہیں، لیکن زبان کا بہاؤ اور استدلال کی ترتیب اتنی سادہ اور دلنشین ہے کہ دینی علوم کی ابتدائی شدبد رکھنے والا قاری بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

