کیا غیر برادری میں نکاح کرنا جرم ہے؟

کیا غیر برادری میں نکاح کرنا جرم ہے؟

آج جس ماحول میں ہم زندگی بسر کررہے ہیں اُسمیں پھیلی ہوئی بے شمار رسومات میں سے ایک مہلک اور غلط رسم یہ بھی ہے کہ اپنی قوم کے علاوہ کسی بھی قوم میں رشتہ کرنے کو گناہ کبیرہ سے بڑھ کر سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے ۔ لڑکے اور لڑکی کے والدین اپنی قوم اور برادری کو ہی ترجیح دیں گے ۔ اگرچہ اپنی قوم کا رشتہ نامناسب بلکہ بے کار ہی کیوں نہ ہو۔
مثلاً لڑکا تعلیم یافتہ ہے اور اسکی تمنا یہ ہے کہ تعلیم یافتہ لڑکی سے اسکی شادی ہو مگر اپنی برادری میں ایسی لڑکی نہیں ہے تو والدین زبردستی جاہل لڑکی سے ہی رشتہ کروادیں گے ۔ قوم کی خوشنودی کے لئے ۔ اسی طرح اس کے برعکس لڑکی پڑھی لکھی ہوسکتی ہے مگر خاندان میں کوئی جاہل لڑکے سے والدین زبردستی شادی کروادیں گے تاکہ برادری میں منہ دکھانے کے قابل رہ جائیں ۔
بس یہی سوچ غالب ہے کہ برادی خوش رہے پھر اولاد کی چاہے ساری زندگی تلخیوں اور تکلیفوں سے بسر ہو۔ ظلم در ظلم تو یہ ہے کہ اگر کسی لڑکے یا لڑکی کے لئے اپنی قوم میں رشتہ نہیں ملتا تو والدین اور بہن بھائیوں کو تو یہ گوارا ہے کہ لڑکا اور لڑکی یونہی بے نکاحی اور غیر فطری زندگی گزارے مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ غیر قوم میں نکاح کردیا جائے ۔
ہر آدمی اپنے قرب و جوار میں، محلے میں اور شہر میں نظر دوڑائے تو اسکے بہت سے گھروں میں ایسے مرد و عورت نظر آئینگے کہ جن کے بال سفید ہوگئے مگر غیر قوم میں والدین نے رشتہ نہیں کیا ۔
سچ بتائیے کیا یہ اولاد کے ساتھ خیرخواہی ہے یا ظلم ہے ؟
اسلام نے رشتہ کے لئے خاندان یا برادری کی کوئی شرط نہیں رکھی بلکہ انسان کی پسند کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ اگر برادری میں موزوں اور مناسب رشتہ مل جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اصل شے تو ہے کہ لڑکی اور لڑکا ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہیں کیونکہ نکاح کا بندھن خوشی کا بندھن ہوتا ہے ۔
اس لئے جب بھی والدین اولاد کے لئے رشتہ منتخب کریں تو اولاد سے بھی رائے لے لینی چاہئے اس لئے کہ آپس میں زندگی اُنکو گزارنی ہے ۔ دوسری بات یہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن مجید میں نکاح جیسی عظیم نعمت کا جو فائدہ بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ “شوہر کو بیوی کے ساتھ رہ کر سکون حاصل ہو” ۔ یہ فائدہ تبھی حاصل ہوسکتا ہے جب نکاح کے معاملہ میں قومیت کا جمود اور قومیت پرستی کا جنون نہ ہو ۔ اور بوقت نکاح اولاد کی رائے بھی شامل ہو ۔
بلاشبہ والدین کے اولاد پر بے شمار حقوق ہیں مگر نکاح کے معاملہ میں اولاد پر زبردستی کرنا اور انکو مرضی کے خلاف مجبور Acheter cialis en ligne france کرنا درست نہیں اس لئے کہ نکاح کرنا کوئی گاجر مولی کا سودا نہیں ہے کہ جیسے چاہے کردو یہ تو ساری زندگی کا مسئلہ ہے ۔ اسمیں اگر زبردستی کی گئی تو طلاق کی نوبت تک بات جا پہنچتی ہے ۔ خاندانوں میں اختلاف اور انتشار پیدا ہوتا ہے ۔ اگر ذخیرہ احادیث میں بھی نظر دوڑائی جائے تو یہی سبق ملتا ہے کہ نکاح کرنے کے لئے خاندان یا برادری کا لحاظ ضروری نہیں ہے بلکہ میاں بیوی کی ہم آہنگی اور انکی مصلحت کا لحاظ کرنا زیادہ ضروری ہوتا ہے ۔

از کتاب : جوانی کی حفاظت کیجئے صفحہ نمبر 240۔