الفاظِ قرآن کے ساتھ لطیفہ غیبی کی تلقین کردہ دُعا
حضرت ثابت بنانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ کے علاقہ میں تھا… میں ایک باغ کے اندر چلا گیا کہ دو رکعت پڑھ لوں..۔
میں نے نماز سے پہلے ‘‘حٰمٓ المؤمن’’ کی آیتیں ‘‘الیہ المصیر’’ تک پڑھیں… اچانک دیکھا کہ ایک شخص میرے پیچھے ایک سفید خچر پر سوار کھڑا ہے جس کے بدن پر یمنی کپڑے ہیں… اس شخص نے مجھ سے کہا کہ جب تم ‘‘غَافِرِ الذَّنْبِ’’ کہو تو اس کے ساتھ یہ دُعاء کرو ‘‘یَا غَافِرَ الذَّنْبِ اغْفِرْلِیْ’’۔
یعنی اے گناہوں کے معاف کرنے والے مجھے معاف کردے ۔
اور جب تم پڑھو ‘‘قَابِلِ التَّوْبِ’’ تو یہ دُعاء کرو ‘‘یَا قَابِلَ التَّوْبِ اقْبَل تَوْبَتِیْ’’۔ اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول فرما..۔۔
پھر جب پڑھو ‘‘شَدِیْدُ الْعِقَابِ’’ تو یہ دُعاء کرو ‘‘یَا شَدِیْدَ الْعِقَابِ لَا تُعَاقِبْنِیْ’’۔
یعنی اے سخت عقاب والے مجھے عذاب نہ دیجئے ۔
اور جب ‘‘ذِی الطَّوْلِ’’ پڑھو تو یہ دُعاء کرو ‘‘یَاذَا الطَّوْلِ طُلْ عَلَیَّ بِخَیْرٍ’’۔
یعنی اے انعام و احسان کرنے والے مجھ پر انعام فرما… ثابت بنانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ نصیحت اِس سے سننے کے بعد جو اُدھر دیکھا تو وہاں کوئی نہ تھا… اس کی تلاش میں باغ کے دروازے پر آیا، لوگوں سے پوچھا کہ ایک ایسا شخص یمنی لباس میں یہاں سے گزرا ہے سب نے کہا کہ ہم نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا..۔
ثابت بنانی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حضرت الیاس علیہ السلام تھے… دوسری روایت میں اس کا ذکر نہیں… (ابن کثیر)
کتاب کا نام: مجربات اکابر
صفحہ نمبر: 126 – 127
مجربات اکابر
مجربات اکابر
یہ کتاب اکابر واسلاف کے مستند اور مجرب عملیات کا خزینہ ہے جس سے فائدہ اٹھا کر ہم اپنی دنیا وآخرت سنوار سکتے ہیں۔ عہدنبوت سے اب تک مشاہیر اسلاف امت کے مجرب عملیات، معمولات اور اذکار و وظائف جمع کئے گئے ہیں ۔ یہ مجموعہ آج کی پریشان حال امت کے لئے ایک ایسا روحانی تحفہ ہے جو انہیں بازاری قسم کے عاملوں سے نجات دلا سکتا ہے ۔
0 Comments