قید سے چھٹکارے کا وظیفہ

قید سے چھٹکارے کا وظیفہ

سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ حضرت عوف اشجعی رضی اللہ تعالی عنہ کے لڑکے حضرت سالم رضی اللہ تعالی عنہ جب کافروں کی قید میں تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے کہلوادو کہ بکثرت “لا حول ولا قوة إلا باللہ” پڑھتے رہیں…۔
ایک دن اچانک بیٹھے بیٹھے ان کی نیند کھل گئی اور یہ وہاں سے نکل بھاگے اور ان لوگوں کی ایک اونٹنی ہاتھ لگ گئی ۔

جس پر سوار ہولئے ، راستے میں ان کے اونٹوں کے ریوڑ ملے انہیں اپنے ساتھ ہنکالاۓ…۔
وہ لوگ پیچھے دوڑے لیکن یہ کسی کے ہاتھ نہ لگے سیدھے اپنے گھر آۓ اور دروازے پر کھڑے ہوکر آواز دی ۔
باپ نے آواز سن کر فرمایا اللہ کی قسم! یہ تو سالم ہے، ماں نے کہا ہاۓ وہ کہاں! وہ تو قید وبند کی مصیبتیں جھیل رہا ہوگا…۔
اب دونوں ماں باپ اور خادم دروازے کی طرف دوڑے دروازہ کھولا ، دیکھا تو ان کے لڑکے سالم رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ۔
اور تمام انگنائی اونٹوں سے بھری پڑی ہے ، پوچھا کہ یہ اونٹ کیسے ہیں؟۔
انہوں نے واقعہ بیان کیا تو فرمایا اچھا ٹھہرو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بابت مسئلہ دریافت کر آؤں… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سب تمہارا ہے جو چاہو کرو…۔

کتاب کا نام: مجربات اکابر
صفحہ نمبر: 114