کھوٹے سکے قبول کرلینا

قبولیت اعمال کی فکر

حضرت عثمان خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی کریانے کی دکان تھی…..۔
ان کے پاس اگر کوئی کھوٹے پیسے لاتا تو وہ پیسے لے لیتے اور سودا دے دیتے…..۔
وہ ان پیسوں کو علیحدہ جمع کرتے جاتے تھے….. انہوں نے پوری زندگی اپنا یہ دستور بنائے رکھا…..۔ کھوٹے پیسوں والوں کو کبھی واپس نہیں بھیجتے تھے….. جب ان کا آخری وقت آیا تو وفات سے پہلے بستر پر لیٹے ہوئے دعا مانگنے لگے:۔
اللہ! میرے پاس لوگ کھوٹا مال لے کر آتے تھے، کھوٹے سکے لے کر آتے تھے، ۔
۔”اللہ! میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے قبول کرتا رہا، آج تو بھی میرے کھوٹے عملوں کو قبول فرمالے”۔
سوچئے تو سہی کہ ہمارے اکابر اس طرح موت کی تیاری کیا کرتے تھے….. (خطبات فقیر 17ص210)

کتاب کا نام: ایک ہزار پرتاثیر واقعات صفحہ 75