نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عدل و انصاف

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عدل و انصاف کے انمول واقعات

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عدل و انصاف
حضرت عروہؒ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فتح مکہ کے موقع پر ایک عورت نے چوری کی اس عورت کی قوم والے گھبرا کر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تاکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کی سفارش کر دیں (اور یوں ان کی عورت چوری کی سزا سے بچ جائے) جب حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ کا چہرہ مبارک (غصہ کی وجہ سے) بدل گیا اور فرمایا (اے اسامہ رضی اللہ عنہ!) تم مجھ سے اللہ کی حدود کے بارے میں (سفارش کی) بات کر رہے ہو۔
۔(حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ سفارش کر کے انہوں نے غلطی کی ہے اس لئے فوراً) حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! آپ میرے لئے استغفار فرمائیں۔
شام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرمانے کھڑے ہوئے۔ پہلے اللہ کی شان کے مناسب ثنا بیان کی پھر فرمایا:۔
۔” اما بعد! تم سے پہلے لوگ صرف اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ جب ان کا طاقتور اور معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد شرعی قائم کرتے۔
اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہ بھی چوری کرے گی تو میں اس کا ہاتھ ضرور کاٹوں گا۔ (اعاذنا اللہ منہا)”۔
پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا جس پر اس عورت کا ہاتھ کاٹا گیا اور اس نے بہت اچھی توبہ کی اور اس سے شادی بھی کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اس کے بعد وہ عورت (میرے پاس) آیا کرتی تھی اور میں اس کی ضرورت کی بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا کرتی۔ (اخرجہ البخاری)

حضرت عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ان کے ذمہ ایک یہودی کے چار درہم قرض تھے۔ اس یہودی نے اس قرض کی وصولی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد لینی چاہی اور یوں کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے اس آدمی کے ذمہ چار درہم قرض ہیں اور یہ ان دراہم کے بارے میں مجھ پر غالب آ چکے ہیں (یعنی میں کئی مرتبہ ان سے تقاضا کرچکا ہوں لیکن یہ مجھے دیتے نہیں ہیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اس کا حق اسے دے دو۔
انہوں نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! دینے کی میرے پاس بالکل گنجائش نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا حق اسے دو۔
انہوں نے کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! دینے کی بالکل گنجائش نہیں اور میں نے اسے بتایا تھا کہ آپ ہمیں خیبر بھیجیں گے اور امید ہے کہ آپ ہمیں کچھ مال غنیمت دیں گے۔
اس لئے وہاں سے واپسی پر اس کا قرض ادا کر دوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا حق ادا کرو۔ آپ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ کسی بات کو تین دفعہ سے زیادہ نہیں فرماتے تھے۔
۔(تین دفعہ فرما دینا پورے اہتمام اور تاکید کی نشانی تھی) چنانچہ حضرت ابن ابی حدرد بازار گئے۔ ان کے سر پر پگڑی تھی اور ایک چادر باندھ رکھی تھی۔ انہوں نے سر سے پگڑی اتار کر اسے لنگی بنالیا اور چادر کھول کر اس یہودی سے کہا تم مجھ سے یہ چادر خریدلو۔ چنانچہ وہ چادر اس یہودی کے ہاتھ میں چار درہم میں بیچ دی۔
اتنے میں ایک بڑھیا کاوہاں سے گزر ہوا۔ اس نے یہ حال دیکھ کر کہا اے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی! تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے اسے سارا قصہ سنایا تو اس بڑھیا نے اپنے اوپر سے چادر اتار کر ان پر ڈال دی اور کہا یہ چادر لے لو۔

تیسرا واقعہ:۔

حضرت اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں انصار کے دو آدمی کسی ایسے میراث کا جھگڑا لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جس کے نشان مٹ چکے تھے اور کوئی گواہ بھی ان کے پاس نہیں تھا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے جھگڑے لے کر آتے ہو اور جس کے بارے میں مجھ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی میں اس میں اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں۔
لہٰذا جس آدمی کی دلیل کی وجہ سے میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں جس کی وجہ سے وہ اپنے بھائی کا حق لے رہا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے بھائی کا حق ہرگز نہ لے کیونکہ میں تو اسے آگ کا ٹکڑا دے رہا ہوں اور وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ یہ ٹکڑا اس کے گلے کا ہار بنا ہوا ہو گا۔
اس پر وہ دونوں حضرات رونے لگے اور دونوں میں سے ہر ایک نے کہا یا رسول اللہ! میں اپنا حق اسے دیتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم نے یہ ارادہ کر لیا تو جاؤ اور حق پر چلو اور اس میراث کو آپس میں تقسیم کر لو اور تقسیم کرنے کے لئے قرعہ اندازی کر لو اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد تم دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو اپنا حق معاف کر دے۔

چوتھا واقعہ:۔

حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں۔ بنو ساعدہ کے ایک آدمی کی ایک وسق کھجوریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ قرض تھیں (ایک وسق تقریباً سوا پانچ من کا ہوتا ہے) اس آدمی نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی کھجوروں کا تقاضا کیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری صحابی سے فرمایا کہ اس کا قرض ادا کر دو۔ انہوں نے اس کی کھجوروں سے گھٹیا قسم کی کھجوریں دینی چاہیں۔ اس آدمی نے لینے سے انکار کر دیا۔
ان انصاری نے کہا کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی کھجوریں واپس کرتے ہو؟ اس آدمی نے کہا ہاں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ عدل کرنے کا کون حق دار ہے؟
یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ٹھیک کہتا ہے۔ مجھ سے زیادہ عدل کرنے کا حق دار کون ہو سکتا ہے؟
اور اللہ تعالیٰ اس امت کو پاک نہیں فرماتے جس کا کمزور آدمی طاقتور سے اپنا حق نہ لے سکے اور نہ اس پر زور دے سکے۔ پھر فرمایا اے خولہ! اسے گن کر ادا کر دو کیونکہ جس مقروض کے پاس سے قرض خواہ خوش ہو کر جائے گا اس کے لئے زمین کے جانوراور سمندروں کی مچھلیاں دعا کریں گی اور جس مقروض کے پاس قرضہ کی ادائیگی کے لئے مال ہے اور وہ ادا کرنے میں ٹال مٹول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر دن اور رات کے بدلہ میں اس کے لئے ایک گناہ لکھتے ہیں۔ (اخرجہ الطبرانی)

کتاب کا نام: حیات صحابہ – مولانا یوسف کاندھلوی
صفحہ نمبر: 489 – 491