عاجزی اور انکساری کی دعائیں

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی دعائیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ..۔

۔‘‘اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ تَاْخُذَنِیْ عَلٰی عِزَّۃٍ اَوْ تَذَرَنِیْ فِیْ غَفْلَۃٍ اَوْتَجْعَلَنِیْ مِنَ الْغَافِلِیْنَ’’..۔

ترجمہ:۔ ‘‘اے اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تو اچانک بے خبری میں میری پکڑ کرے’ یا مجھے غفلت میں پڑا رہنے دے یا مجھے غافل لوگوں میں سے بنا دے’’… (اخرجہ ابن ابی شیبۃ و ابو نعیم فی الحلیۃ)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یوں دعا کی: ‘‘اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ظُلْمِیْ وَکُفْرِیْ’’۔
ترجمہ:۔ اے اللہ! میرے ظلم اور میرے کفر کو معاف فرما’’..۔

ایک آدمی نے کہا یہ ظلم کا لفظ تو ٹھیک ہے لیکن کفر کا کیا مطلب؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا (قرآن میں ہے)
۔‘‘اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظُلُوْمٌ کَفَّارٌ’’سچ یہ ہے کہ آدمی بہت ہی بے انصاف اور بڑا ہی ناشکرا ہے’’… (یعنی کفر سے ناشکری مراد ہے) (عند ابن ابی حاتم)
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کنکریوں کی ایک ڈھیری بنائی پھر اس پر اپنے کپڑے کا کنارہ ڈال کر اس پر سر رکھ کر لیٹ گئے پھر آسمان کی طرف اپنے ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی..۔

‘‘اَللّٰھُمَّ کَبِرَتْ سِنِّی وَضَعُفَتْ قُوَّتِیْ وَانْتَشَرَتْ رَعِیَّتِیْ فَاقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَ مُضَیِّعٍ وَلَامُفَرِّطٍ’’

۔‘‘اے اللہ! میری عمر زیادہ ہو گئی اور میرے قویٰ کمزور ہو گئے اور میری رعایا پھیل گئی لہذا اب تو مجھے اپنی طرف اس طرح اٹھا لے کہ نہ تو میں کسی کا حق ضائع کرنے والا ہوں اور نہ کسی کے حق میں کمی کرنے والا ہوں’’… (اخرجہ ابو نعیم فی الحلیۃ 54/1)

کتاب کا نام: مجربات اکابر
صفحہ نمبر: 139