ریاض الجنۃ کے ناظم کے واقعات

ریاض الجنۃ کے ناظم کے واقعات
شہر مدینہ کی برکات

پہلاواقعہ

حضرت ڈاکٹر حفیظ اللہ صاحب مہاجر مدنی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ مجھے حضرت مفتی محمد حسن صاحبؒ نے سنایا کہ جب میں حج پر گیا تو ریاض الجنۃ کے ناظم نے مجھے سنایا کہ ترکوں کے دور حکومت میں جو شخص مسجد نبوی اور بالخصوص ریاض الجنہ کا ناظم اور نگران بنتا تو وہ پہلے ترکی کے دار الحکومت میں درخواست بھیجتا جب وہاں سے منظوری آتی تو وہ ناظم بن جاتا اور وہ اپنا فرض منصبی ادا کرتا۔
ایک دفعہ میں نے درخواست بھیجی منظوری کی زیادہ امید نہ تھی تاہم میں مایوس بھی نہ تھا ایک رات خواب میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف رکھتے تھے ساتھ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے میں بھی قریب جا کر بیٹھ گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی خاموش رہا اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ شخص ریاض الجنۃ کا ناظم بننا چاہتا ہے اگر مناسب ہو تو ان کو بنا دیا جائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ اس کام کیلئے مناسب نہیں کیونکہ یہ حقہ پیتا ہے عرض کیا کہ اگر توبہ کرے فرمایا ایک دفعہ توبہ کر کے توڑ چکا ہے اور اس شخص کا کہنا یہ ہے کہ واقعی میں توبہ کو توڑ چکا تھا۔
کچھ دیر سکوت کے بعد عرض کیا گیا کہ اگر مناسب ہو تو ایک موقع اور دیدیا جائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے پھر جب میری آنکھ کھلی تو میں بہت خوش تھا اور پرامید تھا بالآخر میری ہی درخواست منظور ہوئی اور ریاض الجنۃ کی خدمت میرے سپرد ہوئی اور میں نے حقہ پینا ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیا۔

دوسرا واقعہ

ریاض الجنۃ کے ناظم کا دوسرا واقعہ سنایا کہ وہ کہتے تھے کہ جب میری بیوی فوت ہو گئی میں نے دوسرا نکاح کرنا چاہا لیکن دوسری بیوی کیلئے مہر اور دیگر اخراجات کا انتظام نہیں تھا میں نے روضہ اطہر پر حاضر ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی پریشانی عرض کی کچھ دیر بعد کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص سونے کی اشرفیاں لے کر آیا اور مجھے دیدیں میں بہت خوش ہوا جتنی مجھے ضرورت تھیں اتنی ہی لے آیا۔

تیسرا واقعہ

حضرت مفتی صاحبؒ نے ناظم ریاض الجنۃ کا یہ تیسرا واقعہ بھی سنایا کہ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں قحط آ گیا اور آٹا اور دیگر اجناس ملنا بند ہو گئیں ہمارا کنبہ بہت بڑا تھا ایک دنبہ روزانہ ذبح ہوتا تو ان کو پورا ہوتا۔
جب قحط پڑا تو حکومت کی طرف سے ہمارے اتنے بڑے کنبے کو صرف آدھ سیر جو ملتے تھے جو ایک دیگ میں پانی کے اندر ابالے جاتے جب جو کا پانی تیار ہو جاتا تھوڑا تھوڑا سب گھر والے پی لیتے اور طاقت و قوت ویسے رہتی جیسے پوری غذا کھانے سے ہوتی ہے یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر کی برکت تھی۔ (اصلاحی مضامین)

کتاب کا نام: برکات درود شریف کے حیرت انگیز واقعات
صفحہ نمبر: 199 – 200