حضرت عمر اور ابوبکر کا خوف خدا

حضرات خلفاء کرام رضی اللہ عنہم کا اللہ تعالیٰ سے ڈرنا

حضرت ابوبکر صدیق کا خوف خدا

حضرت ضحاکؒ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک پرندہ درخت پر بیٹھے ہوئے دیکھا تو (پرندے کو مخاطب کر کے) کہنے لگے اے پرندے! تمہیں خوشخبری ہو (تم کس قدر مزے میں ہو) اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں بھی تمہاری طرح ہوتا۔
تم درختوں پر بیٹھتے ہو، پھل کھاتے ہو پھر اڑ جاتے ہو اور ( قیامت کے دن) نہ تمہارا حساب ہو گا اور نہ تم پر کوئی عذاب ہو گا۔
اللہ کی قسم میں چاہتا ہوں کہ میں راستہ کے کنارے کا ایک درخت ہوتا۔ میرے پاس سے کوئی اونٹ گزرتا مجھے پکڑ کر اپنے منہ میں ڈال لیتا پھر وہ مجھے چباتا اور جلدی سے نگل لیتا اور پھر مجھے مینگنی بنا کر نکال دیتا اور میں انسان نہ ہوتا۔ (اخرجہ ابن ابی شیبۃ وھناد والبیہقی) ۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خوف خدا:۔

حضرت ضحاکؒ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
کاش میں اپنے گھر والوں کا دنبہ ہوتا وہ مجھے کچھ عرصہ تک کھلا پلا کر موٹا کرتے رہتے۔ جب میں خوب موٹا ہو جاتا اور ان کا محبوب دوست ان کو ملنے آتا وہ ( اس کی مہمانی کے لئے مجھے ذبح کرتے اور) میرے کچھ حصہ کو بھون کر اور کچھ حصہ کی بوٹیاں بنا کر کھا جاتے اور پھر مجھے پاخانہ بنا کر نکال دیتے اور میں انسان نہ ہوتا۔
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطابؓ کو دیکھا کہ انہوں نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا اے کاش! میں یہ تنکا ہوتا کاش میں پیدا نہ ہوتا۔ کاش میں کچھ بھی نہ ہوتا۔ کاش میری ماں مجھے نہ جنتی اور کاش میں بالکل بھولا بسر ہوتا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا اگر آسمان سے کوئی منادی یہ اعلان کرے کہ اے لوگو! ایک آدمی کے علاوہ باقی تم سب کے سب جنت میں جاؤ گے تو مجھے ( اپنے اعمال کی وجہ سے) ڈر ہے کہ وہ ایک آدمی میں ہی ہوں گا اور اگر کوئی منادی یہ اعلان کرے کہ اے لوگو! ایک آدمی کے علاوہ باقی تم سب کے سب دوزخ میں جاؤ گے تو مجھے ( اللہ کے فضل سے ) امید ہے کہ وہ ایک آدمی میں ہی ہوں گا ( ایمان اسی خوف و امید کے درمیان کی حالت کا نام ہے۔)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر نیزہ سے حملہ ہوا اور آپ زخمی ہو گئے تو میں ان کے پاس گیا اور میں نے ان سے کہا اے امیر المؤمنین! آپ کو خوشخبری ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ کئی شہروں کو آباد کیا۔ نفاق کو ختم کیا اور آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے عام انسانوں کے لئے روزی کی خوب فراوانی کی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابن عباس! کیا امارت کے بارے میں تم میری تعریف کر رہے ہو؟ میں نے کہا میں تو دوسرے کاموں میں بھی آپ کی تعریف کرتا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میں تو یہ چاہتا ہوں کہ امارت میں جیسا داخل ہوا تھا اس میں سے ویسا ہی نکل آؤں۔ نہ کسی اچھے عمل پر مجھے ثواب ملے اور نہ کسی برے عمل پر سزا۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مرض الوفات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سر میری ران پر رکھا ہوا تھا تو مجھ سے انہوں نے کہا میرا سر زمین پر رکھ دو۔ میں نے کہا آپ کا سر میری ران پر رہے یا زمین پر۔
اس میں آپ کو کیا حرج ہے؟ فرمایا نہیں۔ زمین پر رکھ دو۔
چنانچہ میں نے زمین پر رکھ دیا تو فرمایا اگر میرے رب نے مجھ پر رحم نہ کیا تو میری بھی ہلاکت ہے اور میری ماں کی بھی۔
اور حضرت مسور کہتے ہیں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نیزہ مارا گیا تو فرمایا اگر مجھے اتنا سونا مل جائے جس سے ساری زمین بھر جائے تو میں اللہ کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے ہی اس سے بچنے کے لئے وہ سارا سونا فدیہ میں دے دوں۔ ( عند ابی نعیم فی الحلیۃ 52/1)

کتاب کا نام: حیات صحابہ – مولانا یوسف کاندھلوی
صفحہ نمبر: 499 – 500