حضرت عثمان غنی کی آخری وصیت

حضرت عثمان ذالنورین رضی اللہ عنہ کا وصیت کرنا

حضرت علاء بن فضل کی والدہ کہتی ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد لوگوں نے ان کے خزانے کی تلاشی لی تو اس میں ایک صندوق ملا جسے تالا لگا ہوا تھا جب لوگوں نے اسے کھولا تو اس میں ایک کاغذ ملا جس میں یہ وصیت لکھی ہوئی تھی:۔
۔”یہ عثمان رضی اللہ عنہ کی وصیت ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم عثمان بن عفان۔ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول اللہ ہیں۔ جنت حق ہے، دوزخ حق ہے اور اللہ تعالیٰ اس دن لوگوں کو قبروں سے اٹھائیں گے جس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ اسی شہادت پر عثمان زندہ رہا اسی پر مرے گا اور اسی پر ان شاء اللہ ( قیامت کے دن) اٹھایا جائے گا”۔
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ سخت ہو گیا تو آپ نے لوگوں کی طرف جھانک کر فرمایا اے اللہ کے بندو!۔
راوی کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ گھر سے باہر آ رہے ہیں۔ انہوں نے حضورؐ کا عمامہ باندھا ہوا ہے اپنی تلوار گلے میں ڈالی ہوئی ہے۔ ان سے آگے حضرات مہاجرین وانصار کی ایک جماعت ہے جن میں حضرت حسن اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔ ان حضرات نے باغیوں پر حملہ کر کے انہیں بھگا دیا
اور پھر یہ سب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر گئے تو ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا السلام علیک یا امیر المؤمنین!۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کی بلندی اور مضبوطی اس وقت حاصل ہوئی جب آپ نے ماننے والوں کو ساتھ لے کر نہ ماننے والوں کو مارنا شروع کر دیا اور اللہ کی قسم! مجھے تو یہی نظر آ رہا ہے کہ یہ لوگ آپ کو قتل کر دیں گے۔ لہٰذا آپ ہمیں اجازت دیں تاکہ ہم ان سے جنگ کریں۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
۔” جو آدمی اپنے اوپر اللہ کا حق مانتا ہے اور اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ میرا اس پر حق ہے اس کو میں قسم دے کر کہتا ہوں کہ وہ میری وجہ سے کسی کا ایک سینگی بھر بھی خون نہ بہائے اور نہ اپنا خون بہائے”۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بات دوبارہ عرض کی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہی جواب دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر نکلتے ہوئے یہ فرما رہے تھے، اے اللہ! آپ جانتے ہیں کہ ہم نے اپنا سارا زور لگا لیا ہے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور نماز کا وقت ہو گیا۔ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا:۔
اے ابو الحسن! آگے بڑھیں اور نماز پڑھائیں۔ انہوں نے کہا امام کے گھر کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ میں اس حال میں تم لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکتا میں تو اکیلے نماز پڑھوں گا۔
چنانچہ وہ اکیلے نماز پڑھ کر اپنے گھر چلے گئے۔ پیچھے سے ان کے بیٹے نے آ کر خبر دی۔ اے ابا جان! اللہ کی قسم! وہ باغی لوگ ان کے گھر میں زبردستی گھس گئے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا “اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیہِ رَاجِعُونَ”۔ اللہ کی قسم! وہ لوگ تو ان کو قتل کر دیں گے۔ لوگوں نے پوچھا اے ابو الحسن! شہید ہو کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاں جائیں گے؟
انہوں نے کہا جنت میں اللہ کا قرب خاص پائیں گے۔
پھر انہوں نے پوچھا اے ابو الحسن! یہ قاتل لوگ کہاں جائیں گے؟
انہوں نے تین دفعہ کہا اللہ کی قسم! دوزخ میں جائیں گے۔

کتاب کا نام: حیات صحابہ – مولانا یوسف کاندھلوی
صفحہ نمبر: 509 – 510