بھوک برداشت کرنے کے واقعات

بھوک برداشت کرنے کے واقعات

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بھوک برداشت کرنا

۔1۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ بات نہیں ہے کہ تم جتنا چاہتے ہو کھاتے پیتے ہو؟ (یعنی اپنی مرضی کے مطابق کھاتے پیتے ہو) میں نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا ہے کہ ان کو ردی اور خراب کھجور اتنی بھی نہیں ملتی تھی کہ جس سے وہ اپنا پیٹ بھر لیں۔ (اخرجہ مسلم والترمذی)

۔2۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں۔
آپ کو کیا ہوا؟ (کیونکہ افضل یہ ہے کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھی جائے اور آپ ہمیشہ افضل پر عمل کرتے ہیں) آپ نے فرمایا بھوک کی وجہ سے۔
یہ سن کر میں رو پڑا۔ آپ نے فرمایا اے ابوہریرہ! مت رو کیونکہ جو آدمی دنیا میں ثواب کی نیت سے بھوک کو برداشت کرے گا۔ قیامت کے دن اس کے ساتھ حساب میں سختی نہیں کی جائے گی۔ (اخرجہ ابو نعیم فی الحلیۃ والخطیب وابن عساکر وابن النجار کذا فی الکنز 41/4)

۔3۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں نے ایک رات ہمارے ہاں بکری کی ایک ٹانگ بھیجی میں نے اس ٹانگ کو پکڑا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ٹکڑے کئے یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا اور میں نے ٹکڑے کئے۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جس سے بھی یہ حدیث بیان کرتیں اس سے یہ بھی فرماتیں کہ یہ کام چراغ کے بغیر ہوا۔ (اخرجہ احمد و رواتہ رواۃ الصحیح)
طبرانی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اے ام المؤمنین! (کیا یہ کام) چراغ کی روشنی میں ہوا تھا؟ انہوں نے کہا اگر ہمارے پاس چراغ جلانے کے لئے تیل ہوتا تو ہم اسے کھا لیتے۔ (کذا فی الترغیب 155/5 واخرجہ ایضاً ابن جریر کما فی الکنز 38/4)

۔4۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر ایک چاند گزر جاتا پھر دوسرا چاند گزر جاتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی گھر میں کچھ آگ نہ جلائی جاتی، نہ روٹی کے لئے اور نہ سالن کے لئے۔ لوگوں نے پوچھا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! پھر وہ کس چیز پر گزارہ کیا کرتے تھے؟
فرمایا دو کالی چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوسی انصار تھے اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزاء عطا فرمائے۔ ان کے پاس دودھ والے جانور ہوتے تھے جن کا کچھ دودھ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو بھیج دیا کرتے۔ (عند احمد قال الھیثمی 315/10 اسنادہ حسن و رواہ البزار کذلک انتھیٰ)
حضرت مسروقؒ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے میرے لئے کھانا منگایا اور فرمایا میں جب بھی پیٹ بھر لیتی ہوں اور رونا چاہوں تو رو سکتی ہوں۔
میں نے کہا کیوں؟
انہوں نے فرمایا مجھے وہ حال یاد آ جاتا ہے جس حال پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا کو چھوڑا تھا۔
اللہ کی قسم! آپ نے کبھی بھی ایک دن میں روٹی اور گوشت دو مرتبہ پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔ (اخرجہ الترمذی کذا فی الترغیب 148/5)
بیہقی کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی تین دن تک مسلسل پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔
اگر ہم چاہتے تو ہم بھی پیٹ بھر کر کھاتے لیکن آپ دوسروں کو کھلا دیا کرتے۔ (کذا فی الترغیب 149/5)
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان سے لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے۔
یہاں تک کہ اپنی لنگی میں چمڑے کا پیوند لگا لیا کرتے اور آپ نے انتقال تک کبھی تین دن تک صبح اور شام کا کھانا مسلسل نہیں کھایا۔ (اخرجہ ابن ابی الدنیا مرسلاً)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی ہوئی تھی۔ ان لوگوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلایا انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس حال میں تشریف لے گئے کہ آپ نے کبھی پیٹ بھر کر جوکی روٹی نہیں کھائی تھی۔ (عندالترمذی والبخاری کذا فی الترغیب 148/5،151)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔ آپ نے فرمایا یہ پہلا کھانا ہے جسے تمہارے والد تین دن کے بعد کھا رہے ہیں۔
طبرانی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ہے؟
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یہ ٹکیہ میں نے پکائی تھی۔ مجھے یہ اچھا نہ لگا کہ میں اسے اکیلے ہی کھالوں اس لئے میں آپ کے پاس یہ ٹکڑا لے آئی۔
پھر آپ نے وہ ارشاد فرمایا جو پہلے گزرا ہے۔ (اخرجہ احمد قال الھیثمی 312/10 بعد ما ذکرہ عن احمد والطبرانی ورجالھما ثقات)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گرم کھانا لایا گیا۔ آپ نے اسے نوش فرمایا اور کھانے سے فارغ ہو کر آپ نے فرمایا الحمدﷲ! میرے پیٹ میں اتنے اتنے دنوں سے گرم کھانا نہیں گیا تھا۔ (عند ابن ماجۃ باسناد حسن والبیہقی باسناد صحیح کذا فی الترغیب 149/5)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت سے لے کر انتقال تک کبھی میدہ نہیں دیکھا۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ لوگوں کے پاس چھلنی ہوتی تھیں؟
تو انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت سے لے کر انتقال تک کبھی چھلنی نہیں دیکھی تھی۔
تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ جو کا آٹا بغیر چھانے ہوئے کیسے کھا لیتے تھے؟
انہوں نے کہا کہ ہم جو کو پیس کر اس پر پھونک مارتے۔ جو اڑنا ہوتا وہ اڑ جاتا۔ باقی کو ہم گوندھ لیتے۔ (اخرجہ البخاری کذا فی الترغیب 153/5)
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی شکات کی اور (بھوک کی وجہ سے ہم لوگوں نے اپنے پیٹ پر ایک ایک پتھر باندھ رکھا تھا چنانچہ) ہم نے کپڑا ہٹا کر اپنا اپنا پیٹ دکھایا تو ہر ایک کے پیٹ پر ایک ایک پتھر بندھا ہوا تھا۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ مبارک سے کپڑا ہٹایا تو آپ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ (اخرجہ الترمذی کذا فی الترغیب 156/5)
حضرت عائشہرضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے (جانے کے بعد) اس امت میں سب سے پہلے جو مصیبت پیدا ہوئی وہ پیٹ بھرنا ہے۔
کیونکہ جب کوئی قوم پیٹ بھر کر کھاتی ہے تو ان کے بدن موٹے ہو جاتے ہیں اور ان کے دل کمزور ہو جاتے ہیں اور ان کی خواہشات بے قابو ہو جاتی ہیں۔ (اخرجہ البخاری فی کتاب الضعفاء)

کتاب کا نام: حیات صحابہ – مولانا یوسف کاندھلوی
صفحہ نمبر: 243 – 246