اتحاد اور اتفاق سے رہنا ضروری ہے

اتحاد اور اتفاق سے رہنا ضروری ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ایک ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔

ابن اسحاق سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سقیفہ بنی ساعدہ والے دن بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بات جائز نہیں ہے کہ مسلمانوں کے دو امیر ہوں۔
کیونکہ جب بھی ایسا ہو گا مسلمانوں کے تمام کاموں اور تمام احکام میں اختلاف پیدا ہو جائے گا اور ان کا شیرازہ بکھر جائے گا اور ان کا آپس میں جھگڑا ہو جائے گا اور پھر سنت چھوٹ جائے گی اور بدعت غالب آ جائے گی اور بڑا فتنہ ظاہر ہو گا اور کوئی بھی اسے ٹھیک نہ کر سکے گا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ بیان میں فرمایا اے لوگو! (اپنے امیر کی) بات ماننا اورآ پس میں اکٹھے رہنا اپنے لئے ضروری سمجھو کیونکہ یہی چیز اللہ کی وہ رسی ہے جس کو مضبوطی سے تھامنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور آپس میں جڑ مل کر چلنے میں جوناگوار باتیں تمہیں پیش آئیں گی وہ تمہاری ان پسندیدہ باتوں سے بہتر ہیں جو تم کو الگ چلنے میں حاصل ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک انتہا بھی بنائی ہے جہاں وہ چیز پہنچ جاتی ہے۔ یہ اسلام کے ثبات اور ترقی کا زمانہ ہے اور عنقریب یہ بھی اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی۔ پھر قیامت کے دن تک اس میں کمی زیادتی ہوتی رہے گی اور اس کی نشانی یہ ہے کہ لوگ بہت زیادہ فقیر ہو جائیں گے اور فقیر کو ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اس پر احسان کرے اور غنی بھی یہ سمجھے گا کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کے لئے کافی نہیں ہے۔
یہاں تک کہ آدمی اپنے سگے بھائی اور چچا زاد بھائی سے اپنی فقیری کی شکایت کرے گا لیکن وہ بھی اسے کچھ نہیں دے گا اور یہاں تک کہ ضرورت مند سائل ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک ہفتہ بھر مانگتا پھرے گا لیکن کوئی بھی اس کے ہاتھ پر کچھ نہیں رکھے گا اور جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی تو زمین سے ایک زور دار آواز اس طرح نکلے گی کہ ہر میدان کے لوگ یہی سمجھیں گے کہ یہ آواز ان کے میدان سے ہی نکلی ہے اور پھر جب تک اللہ چاہیں گے زمین میں خاموشی رہے گی پھر زمین اپنے جگر کے ٹکڑوں کو باہر نکال پھینکے گی۔
ان سے پوچھا گیا اے حضرت ابو عبدالرحمن! زمین کے جگر کے ٹکڑے کیا چیزیں ہیں؟
آپ نے فرمایا سونے اور چاندی کے ستون اور پھر اس دن کے بعد سے قیامت کے دن تک سونے اور چاندی سے کسی طرح کا نفع نہیں اٹھایا جا سکے گا۔

ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو دینے کے لئے ایک چیز اٹھا کر لے چلے۔ ان کے مقام ربذہ پہنچ کر ہم نے ان کے بارے میں پوچھا تو وہ ہمیں وہاں نہ ملے اور ہمیں بتایا گیا کہ انہوں نے (امیر المؤمنین سے) حج پر جانے کی اجازت مانگی تھی۔ ان کو اجازت مل گئی تھی (وہ حج کرنے گئے ہوئے ہیں)
چنانچہ ہم وہاں سے چل کر شہر منیٰ میں ان کے پاس پہنچے ہم لوگ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے ان کو بتایا کہ (امیر المؤمنین) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے (منیٰ میں) چار رکعت نماز پڑھی ہے تو انہیں اس سے بڑی ناگواری ہوئی اور اس بارے میں انہوں نے بڑ ی سخت بات کہی اور فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (یہاں منیٰ میں) نماز پڑھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی تھی اور میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ (یہاں) نماز پڑھی تھی (تو انہوں نے بھی دو رکعت نماز پڑھی تھی) لیکن جب نماز پڑھنے کا وقت آیا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھی۔
۔(حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مکہ میں شادی کر لی تھی اور مکہ میں کچھ دن رہنے کا ارادہ کر لیا تھا اس لئے وہ مقیم ہو گئے تھے اور چار رکعت نماز پڑھ رہے تھے) اس پر ان کی خدمت میں کہا گیا کہ امیر المؤمنین کے جس کام پر آپ اعتراض کر رہے تھے اب آپ خود ہی اسے کر رہے ہیں۔
فرمایا امیر کی مخالفت کرنا اس سے زیادہ سخت ہے۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں میں بیان فرمایا تھا تو ارشاد فرمایا تھا کہ میرے بعد بادشاہ ہو گا تم اسے ذلیل نہ کرنا کیونکہ جس نے اسے ذلیل کرنے کا ارادہ کیا اس نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے نکال پھینکا اور اس شخص کی توبہ اس وقت تک قبول نہ ہو گی جب تک وہ اس سوراخ کو بند نہ کر دے جو اس نے کیا ہے (یعنی بادشاہ کو ذلیل کر کے اس نے اسلام کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی نہ کرلے) اور وہ ایسا نہ کر سکے گا اور (اپنے سابقہ رویہ سے) رجوع کر کے اس بادشاہ کی عزت کرنے والا نہ بن جائے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ تین باتوں میں بادشاہوں کو ہم اپنے پر غالب نہ آنے دیں (یعنی ہم ان کی عزت کرتے رہیں لیکن ان کی وجہ سے یہ تین کام نہ چھوڑیں) ایک تو ہم نیکی کا لوگوں کو حکم دیتے رہیں اور برائی سے روکتے رہیں اور لوگوں کو سنت طریقے سکھاتے رہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ تم ویسے ہی فیصلے کرتے رہو جیسے پہلے کیا کرتے تھے کیونکہ میں اختلاف کو بہت بُری چیز سمجھتا ہوں یا تو لوگوں کی ایک ہی جماعت رہے یا میں مر جاؤں جیسے میرے ساتھی(حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بغیر اختلافات کے) مر گئے۔
چنانچہ حضرت ابن سیرینؒ کی رائے یہ تھی کہ (غلو پسند) لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عموماً جو روایات نقل کرتے ہیں وہ غلط ہیں۔ (اخرجہ البخاری)

کتاب کا نام: حیات صحابہ – مولانا یوسف کاندھلوی
صفحہ نمبر: 446 – 448